سکہ، ٹرین اور دستاویزی فلم

وہ بہت شائستہ  خاتون تھیں، لیکن ان کی گفتگو میں انگریزی کے لفظ اور فقرے یوں درآتے، جیسے کچی بستیوں میں سیلاب آتا ہے۔ بغیر اطلاع کے، اور بلااجازت۔ یونیورسٹی میں مجھ سمیت کلاس کے تمام پینڈو لڑکے خواہ مخواہ مرعوب ہوجاتے۔ ہمارا انگریزی سے تعارف صرف چندالفاظ تک محدود تھا، مسئلہ شٹ اپ، گیٹ آؤٹ، وغیرہ۔ اسی لیے ہم انگریزی کو ڈانٹ ڈپٹ کی زبان سمجھتے تھے۔ کوئی ہاؤ آر یو بھی پوچھ لیتا تو ہوائیاں اڑنے لگتیں۔ اپنا حال بتاتے بھی یوں لگتا جیسے وضاحت دے رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں