عمر بلال کی سال گرہ

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

معاذ مسکرائے

یہ محمد معاذ ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژن چینل میں جو شعبہ نیوز رپورٹس تیار کرتا ہے، اس کے سربراہimg-20170302-wa0005 ہیں۔ کام سے شدید محبت کرتے ہیں۔ کام میں دیہان کا یہ عالم ہے کہ جب ہم نیوز روم میں کسی خیال پر گفتگو کر کے ان سے رجوع کرتے ہیں تو معاذ اسے پہلے ہی شروع کرا چکے ہوتے ہیں۔
انہیں کوئی کام کہہ دیا جائے تو پھر بے فکری ہو جاتی ہے، کیوں کہ وہ جان پر کھیل کر بھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب رہتی ہے۔ شام چار بجے دفتر میں ایک مجلس بلائی جاتی ہے جس میں دن بھر جلنے والی خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور شام کے خبر ناموں کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ سے قبل تو ان کی سنجیدگی سوا ہوتی ہے۔ سوچ کی شدت غلبہ پاتی ہے تو دونوں ہاتھوں سے اپنا ہی سر تھام لیتے ہیں۔ استغراق کا ایک عالم طاری ہوتا ہے۔ غیب سے جانے کیا کیا مضامین خیال میں آتے ہیں۔ جب تک مجلس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع نہ ہو یہ اسی کیفیت میں رہتے ہیں۔
ایسی ہی ایک میٹنگ میں ہمیں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔ معاذ صاحب کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے دیکھا تو یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارا ارادہ بھانپ گئے یا ہماری سادگی پر پیار آ گیا۔۔۔ بے ساختہ تبسم فرمانے لگے۔ کچھ دیر میں تبسم مزید نمایاں ہو کر باقاعدہ قسم کی ہنسی میں ڈھل گیا۔ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیے کہ معاذ مسکراتے ہوئے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اور انہیں رائے دیجیے کہ ہر وقت کی فکر اچھی بات نہیں۔
اللہ آپ کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔

یوں لگا، خلوص کا انعام ملا ہو!

مون نے مجھے مشکل میں ڈال دیا تھا۔ میں اس کا کھلونا ہاتھ میں پکڑے ہونق کھڑا تھا، اور وہ طمانیت بھری مسکراہٹ سے مجھے دیکھتا تھا۔
ٹھہریے۔
آپ کو برسوں پرانی یہ کہانی شروع سے سنانا پڑے گی۔ میں  مون کے گھر گیا تو اس نے بہت شوق سے اپنے کھلونے مجھے دکھائے۔ پھر ایک ننھی سی گاڑی اٹھا کر پوچھنے لگا، کیسی ہے؟ گاڑی بہت ہی پیاری تھی، نہ بھی ہوتی تو دوست کو کیسے کہہ دیتا اس کا کھلونا اچھا نہیں۔
تعریف سنتے ہی کہنے لگا، یہ گاڑی تمہیں پسند آئی اس لیے تم رکھ لو۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ تعریف اس مقصد کے لیے تو نہ کی تھی، اس کا کھلونا میں کیسے رکھ سکتا ہوں (ہم دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جب ہر بچہ اپنے کھلونے کو دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز سمجھتا ہے)۔ میں نے منع کرنے کی کوشش کی، وہ مان کر نہ دیا۔ زیادہ انکار سے اس کا دل ٹوٹنے کا ڈر تھا، لیکن یوں کسی کا کھلونا ہتھیا لینا مجھے اچھا نہ لگتا تھا۔ شاید میں اس سے جلتا بھی تھا، کوئی اپنے کھلونوں کے بارے میں اتنا دریا دل کیسے ہو سکتا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں