غریب صحافی اور جم خانہ میں کھانا

ہمارے ایک اینکر کسی دوسرے چینل کو پیارے ہوئے، سوانہیں الوداعی دعوت دینے کافیصلہ ہوا۔ منصوبہ سازی میں "ملوث” ایک اینکری (خاتون اینکر) لاہور جم خانہ کی ممبر تھیں۔ وہیں چلنے کی تجویز پیش کی گئی اور کثرت رائے سے منظور بھی ہو گئی۔
ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کسی پانچ ستارہ جگہ پر جانا ہمیں راس نہیں آتا، لہذا جم خانہ کا سن کر ہی مرعوبیت سی طاری ہو گئی۔جن صاحبہ کی ممبر شپ تھی وہ دیگر خواتین ساتھیوں کے ساتھ پہلے ہی روانہ ہو گئیں۔ ہم پانچ مرد حضرات ایک نسبتاً غریبانہ سی سواری میں روانہ ہوئے(جم خانہ کے مقابلے میں سوزوکی سوئفٹ غریبانہ سی ہی معلوم ہو رہی تھی، جس کا دروازہ بند تو اندرسے ہوجاتا تھا، لیکن کھولنا باہر سے پڑتا تھا)۔
ہم میں سے کسی کو راستہ معلوم نہ تھا، لیکن ہر کوئی ممکنہ راستے سے متعلق ماہرانہ رائے کا اظہار کر رہا تھا۔ خیر پوچھتے پچھاتے پہنچ ہی گئے۔
مرکزی دروازے پر  دربان نے روک لیا۔ نخوت بھرے لہجے میں پوچھا، "کہاں جانا ہے؟”
جواب دیا: ظاہر ہے ہم آپ سے شرف ملاقات حاصل کرنے نہیں آئے، اندر ہی جانا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں