شاید حق نواز مرا نہ ہو!

کسی نے قاسم اور سلیمان کا شہر بند کرنے کااعلان نہیں کیا۔ وہ جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کی جمہوریت کسی شہر کو بند کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ اس لیےان کے اسکول بھی معمول کے مطابق کھلے ہوں گے۔ دونوں بھائیوں نے صبح عافیت کی چادر میں آنکھ کھولی ہوگی، اسکول جانے کی تیاری کی ہوگی،   ماں نے مطمئن مسکراہٹ کے ساتھ انہیں رخصت کیا ہوگا۔
ایک اور دنیا کے ایک اور شہر میں حق نواز نے بھی آنکھ کھولی ہوگی۔ جس دنیا کا ذکر ہے، وہاں  حلقے کھولنے کے لیے شہر بند کرنے پڑتے ہیں۔
حق نواز کی ماں نے فکر مندی سےاپنے بیٹے کو تیار ہوتے ہوئے دیکھا ہوگا۔بیٹے کو باہر جانے سے روکنے کے لیے کتنی تاویلیں گھڑی  ہوں گی۔
آخر ممتا بیٹے کی ضد کے آگے ہار گئی ہوگی۔ دل کو سمجھالیا ہوگا۔۔۔”شام تک کی تو بات ہے۔ پھر خان صاحب جلسہ کریں گے اور میرا حق نواز واپس آ جائےگا۔” کو پڑھنا جاری رکھیں