ہیلری کی کچھ مزیدسچی باتیں

Hard Choicesاپنی کتاب میں ہیلری کلنٹن لکھتی ہیں پاکستان میں کچھ عناصر طالبان اور انتہا پسندوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ میں اکثر پاکستانی حکام کو کہتی”یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ گھر کے پچھواڑے زہریلے سانپ پالیں اور یہ توقع رکھیں کہ سانپ صرف آپ کے پڑوسیوں کو کاٹیں گے۔”

ہیلری کلنٹن اس بات پر بھی حیران ہوتی ہیں کہ ایک ملک میں دہشت گرد بڑے علاقے پر قبضہ کر لیں، اور عوام کو ہراساں کریں، پھر بھی حکومت خاموش رہے۔۔۔یہ کیسے ممکن ہے؟
پاکستان میں ہیلری کلنٹن کو ایک بات پر خاصی تنقید کا سامنا رہتا۔ لوگ پوچھتے، امریکا پاکستان میں جمہوریت کی بات کرتا ہے، اور پھر مشرف جیسے آمر کی حمایت بھی کرتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہیلری کلنٹن اور پاکستانیوں کی غیرت

Hard Choicesسابق امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کی کتاب "سخت فیصلے” میں پچیس باب ہیں، اور صرف ایک پاکستان کے لیے مختص ہے۔ اس باب کا نام رکھا گیا ہے، "پاکستان: قومی غیرت”۔
حیرانی ہوئی کہ یہ کیسا نام ہوا۔۔۔پاکستان: قومی غیرت
جیسے جیسے پڑھتا گیا، تو اندازہ ہوا کہ وہ غیرت کے شروع میں شاید ‘بے’ لگانا چاہ رہیں تھیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

نواز اور اوباما کا تقابلی جائزہ

فوج کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کی خبر آئی تو ہیلری کلنٹن کی کتاب کے باب نمبر سات پر تھا۔ یہ باب بتاتا ہے کہ امریکا نے ایف پاک کی اصطلاح کب کیوں اورکیسے استعمال کرنا شروع کی، اور کیسے اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ باب پڑھتے ہوئے خواہ مخواہ نواز شریف اور امریکی صدر کا تقابلی جائزہ لینے لگا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہیلری کلنٹن کے سخت فیصلے۔۔حصہ اول

سابق امریکی وزیرخارجہ کی تصنیف "ہارڈ چوائسز” زیرمطالعہ ہے۔ ویسے تو چوائس کا اردو میں لفظی ترجمہ انتخاب بنتا ہے، لیکن میں اس کو "سخت فیصلے” ہی کہوں گا۔کتاب میں بہت سی دلچسپ باتیں ہیں۔ جس بات نے دھچکا پہنچایا، وہ یہ تھی کہ کتاب میں 25 باب ہیں اور صرف دو میں پاکستان کا ذکر ہے۔یعنی ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اپنے خارجہ امور میں امریکا پاکستان کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتا جاؤں گا، آپ کو مطالعے میں شریک رکھوں گا۔ آغاز وہاں سے، کہ ہیلری کلنٹن اوباما کی مخالف تھیں، اور پھر اوباما کی جیت کے بعد ان کی ہی درخواست پر وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کا فیصلہ کیا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں