اینکر نے ہم کو عبث بدنام کیا

دفتری کام میں مشغول تھے کہ دائیں ہاتھ خالی کرسی پر ایک خاتون آ کر بیٹھ گئیں۔ یہ کون ہیں؟ کیوں آئی ہیں؟ تجسس تو ہوا لیکن پوچھنے کا یارا نہ ہوا۔
یہی کھدبد لیے ہم کام میں مصروف رہے۔ آخر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کا حدوداربعہ اور غرض و غایت دریافت کر لیا۔ معلوم ہوا اینکر کی اسامی پر تقرری ہوئی ہے۔ یہاں آنے سے قبل سال بھر دوسرے چینل میں کام کر چکی ہیں۔ چکی کی اس مشقت کے ساتھ ساتھ مشق پڑھائی بھی جاری ہے۔ اور خیر سے اپنی جماعت میں اول بھی آتی ہیں۔
ہم مرعوب ہوئے، چینل میں خوش آمدید کہا، نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا اور اپنے کام میں مگن ہو گئے۔
اگلے روز دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ خاتون پرانے چینل میں واپس چلی گئی ہیں۔ وہاں انہیں بہتر تنخواہ اور مراعات کی پیش کش تھی۔ لیکن سنانے والوں نے ایک اور بات بھی سنائی، خاتون جاتے جاتے ہمارے چینل کے لوگوں کو پینڈو قرار دے گئی ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہاسٹل کے ایگ فرائیڈ رائس

وہ بدھ کی ایک سرد شام تھی جب مجھے 19 نمبر ہاسٹل میں رہنے والے دوستوں کا ایس ایم ایس موصول ہوا۔
پنجاب یونیورسٹی کے 17 نمبر ہاسٹل میں بدھ کے روز ایگ فرائید رائس بنائے جاتے، جو دیگر ہاسٹلز کے طلبہ میں بھی بہت مقبول اور مرغوب تھے۔
خوش قسمتی سے ہمارا قیام بھی 17 نمبر ہاسٹل میں تھا۔ کھانا تو عموماً مغرب کی نماز کے بعد شروع کیا جاتا، لیکن ہم اور ہاسٹل کے دیگر مکین سر شام ہی میس کے گرد چکر لگانے لگتے۔
میس کے مرکزی دروازے پر جلتی لال بتی "کھانا کھلنے” کا اعلان ہوتا۔ لال بتی جل رہی ہے تو آپ میس جا کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ لیکن بدھ کے روز بتی جلنے کا انتظار بھی دوبھر ہو جاتا۔ اسی لیے ہاسٹل کے لڑکے سورج ڈھلتے ہی میس کے دروازے کے آگے کھڑے ہو جاتے۔ اچھا خاصا جمگٹھا لگ جاتا۔ دیگر افراد کا برآمدے سے گزرنا بھی محال ہو جاتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بسکٹ، پڑوسن، اور اوون

گھر میں اوون تو آ گیا تھا، لیکن استعمال سے واقفیت نہ تھی۔ کون سے عناصر ملیں تو کیک بنتا ہے، اور کس آنچ پر دہکایا جائے تو نئی شان اور آن والا پیزا تیار ہوگا؟ ان تمام سوالوں کے جواب کے لیے امی جان نے آس پڑوس کی سہیلیوں سے رابطہ کیا۔
اب روز کا معمول ہوگیا، پہلے ترکیب پوچھی جاتی، پھر اجزاء منگوائے جاتے، پکوانے کا مرحلہ متعلقہ سہیلی کی نگرانی میں طے پاتا۔ امی جان سب ڈائری میں درج کرتی جاتیں تاکہ سند رہیں اور آئندہ بھی بوقت پکوائی کام آئیں۔
ہم اسکول سے واپس آتے تو گھر مہک رہا ہوتا، امی کی کوئی نہ کوئی سہیلی موجود ہوتیں، اوون برآمدے کے بیچوں بیچ دھرا ہوتا۔ اس میں انواع و اقسام کے ملغوبے رکھے جاتے، اور اشتہا انگیز خوراک بن کر باہر نکلتے۔ روز شام کی چائے کے ساتھ کیک اڑایا جاتا، کچھ نمکین کھانے پر طبیعت مائل ہوتی تو یہی برقی بھٹی مرغا بھی روسٹ کر دیتی۔
اس روزبھی ایساہی منظر تھا، کو پڑھنا جاری رکھیں

کثرت سےبولےجانےوالے20جملے

یہ ملک کے خلاف سازش ہے
یہ اسلام کے خلاف سازش ہے
گرم چلے گا یا ٹھنڈا
اور سناؤ کیا حال ہے
بھائی جان اسٹیند اوپر کر لیں
باجی ڈوپٹہ اوپر کر لیں
بہت اچھا سوٹ ہے، کتنے کا لیا ہے؟
او جلدی کر یار
میں بس دو منٹ میں پہنچ رہا ہوں
بس پندرہ منٹ ہی تو لیٹ ہوا ہوں
کیا کریں یار، ٹائم ہی نہیں ملتا
چائے بنا لوں پھر کام شروع کرتا ہوں
فلانا تمہارے بارے میں یہ کہہ رہا تھا
بس کرو، میرا منہ نہ کھلواؤ
تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہو
پہنچ کے مس کال دے دینا
یار چارجر تو دینا
تمہارا موبائل چارج ہو گیا ہے تو میرا لگا دو
وہ سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کو
میں نے وہ دن بھی دیکھے ہیں جب وہ اسکوٹر چلاتا تھا

ہر پاکستانی کی ڈائری

حسب معمول دفتر کے لیے لیٹ ہو ں، موٹرسائیکل کی چابی اٹھاتا ہوں تو نظر ساتھ رکھے ہیلمٹ پر بھی پڑتی ہے۔
میں سر جھٹکتا ہوں، قانون اور ہیلمٹ دونوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہر نکل جاتا ہوں۔
آگے  ٹریفک کا سرخ اشارہ میرا منہ چڑارہا ہے۔ ہارن بجا بجا کر اپنے آگے کھڑے لوگوں کو دائیں بائیں سرکنے پر مجبور کرتا ہوں، اتنی دیر میں اشارہ سبز ہو جاتا ہے۔لگتا ہے میرے علاوہ ہر شخص اسی چوک پر قیام کا ارادہ لے کر گھر سے نکلا ہے، میں ہارن پر ہاتھ رکھتا ہوں اور آسمان سر پر اٹھا لیتا ہوں۔
اگلا اشارہ بھی سرخ ہے، لیکن میرے سے آگے کوئی گاڑی نہیں، لہذا آسانی سے اسے کاٹ دیتا ہوں۔ میری وجہ سے ایک گاڑی کو اچانک بریک لگانا پڑتے ہیں، ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی خاتون کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتا ہے، گاڑی والا کھڑکی سے سر نکال کر کچھ کہتا ہے۔ میں کچھ نہیں سنتا،آگے بڑھ جاتا ہوں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بڑا صحافی بننے کے رہنما اصول

 بڑا صحافی بننے کے لیے پہلا اصول یہ ہے کہ کسی اصول، اخلاق، یا ضابطے کی پیروی نہ کریں۔
ایک  بڑے صحافی کےلیے پریشان ہونا، پریشان دکھنا اور پریشان کرنا (دوسروں کو) بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی کبھار مسکرانے کی عادت میں مبتلا ہیں تو کبھی بڑے صحافی نہیں بن سکتے۔
اضطراب کو شخصیت کا حصہ بنا لیں۔ خبر آنے پر اچھل پڑیں۔ نہ آنے پر چھلک پڑیں۔
ہر خبر کو بریکنگ نیوز سمجھیں اور اسی طرح برتیں۔
اپنے آپ کو بڑا صحافی ثابت کرنے کے لیے گاہے بگاہے دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہیں۔
لفافہ دکان سے ملے یا سیاستدان سے۔۔۔آنکھیں اور منہ بند کر کے لے لیں۔
مطالعہ۔۔۔ چاہےکتاب کا ہو، یا اخبار کا۔۔۔اجتناب برتیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مرغے لڑانے والے صحافی

بدقسمتی سے شعبہ صحافت میں ایسے حضرات کا عمل دخل بڑھ گیا ہے، جو صحافت کو بھی حماقت کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے مبینہ صحافی خبر اور اشتہار میں زیادہ فرق نہیں کرتے۔۔۔اشتہار کی طرح خبر کو بھی ناچ ناچ کر بیان کرنا چاہتےہیں۔  یہ حضرات خبر اور ڈکار کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں، یعنی دونوں کو روکا نہ جائے۔ خبر اور ڈکار ،جب اور جہاں آئے، مار دیا جائے۔
ایسے صحافی خبر بنانے، سنوارنے، اور نکھارنے پر نہیں، صرف اسے چلانے پر یقین رکھتےہیں۔ لہذا خبر میں غلطیاں تو بہت ہوتی ہیں، خبریت بالکل بھی نہیں ہوتی۔مجھے لگتا ہے، ایسے حضرات شعبہ صحافت میں آنے سے قبل مرغے لڑاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ دماغ نہیں لڑاتے، چونچیں لڑاتےہیں، اور آخر کار خبر کو بھی مرغ کی طرح  ہلال کردیتےہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

افسر بجلی ہوتا ہے

افسر بجلی کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی دفتر میں نہ بھی موجود ہو تو اس کے آنے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ آجائے تو پھر جانے کا انتظار شروع ہوجاتا ہے۔ بجلی کی طرح افسر کی ناراضی بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ تاہم  افسر بجلی کی طرح جھٹکا دے بھی سکتا ہے اور جھٹکا کر بھی سکتا ہے۔
بجلی کی مانند افسر کی بھی دوستی اچھی ہوتی ہے، نہ دشمنی۔ ہر ملازمت پیشہ انسان کو افسر نامی ہستی سے ضرور پالا پڑتا ہے۔ اور کسی نہ کسی موقع پر ماتحت رہنے والا شخص خود بھی کبھی افسر بن جاتا ہے۔ البتہ انسان بدل جاتے ہیں، افسری نہیں بدلتی۔  افسران کو ان درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
نوکیلے افسر:ایسے افسر گوشت پوست سے نہیں، کانٹوں سے بنے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ کانٹے ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ماتحت کی روح تک کو زخمی کر دیتےہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ہمارے دفتر کی کرسیاں

شاید آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو، ہمارے دفتر میں کرسی کو رسی کے ساتھ میز سے باندھا جانے لگاہے۔ اور جب سے یہ چلن نکلا ہے، ہمیں کرسی اور کتے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
لیکن نوبت یہاں تک پہنچی کیوں؟ یہ کہانی آٹھ سال پہلے شروع ہوتی ہے۔
جب دفتر کا ڈول ڈالا گیا، اس وقت نئی کرسیاں منگوائی گئی تھیں۔تب ان کی چھب ڈھب نرالی تھی۔ ہاتھ مضبوط اور پیروں میں روانی تھی۔ پھر زمانہ قیامت کی چال چلتا گیا، اور یہ بے چاریاں اس کی رفتار کا ساتھ نہ دے سکیں۔
کچھ تو زیادتی کرسیاں استعمال کرنے والوں نے بھی کی۔ یعنی کام کرنے کےلیے بیٹھے تو وہیں پسار لیے۔ کرسی کی کمر نے مزاحمت کی تو زور لگا کراس کی ساخت اپنی مرضی کے مطابق ڈھال لی۔کرسی کا سانچہ لیٹنے کی راہ میں حائل ہوا، تو اپنی تہذیب کا سانچہ ہی اتار پھینکا۔ اس زور زبردستی سے کئی کرسیوں کی کمر ٹوٹ گئی۔ کئی بے دست و پا ہوگئیں۔ آرام کرنے والوں کا تو کام بن گیا، لیکن جنہوں نے ان کرسیوں پر بیٹھ کر کام کرنا تھا۔۔۔وہ کسی کام کے نہ رہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

سکہ، ٹرین اور دستاویزی فلم

وہ بہت شائستہ  خاتون تھیں، لیکن ان کی گفتگو میں انگریزی کے لفظ اور فقرے یوں درآتے، جیسے کچی بستیوں میں سیلاب آتا ہے۔ بغیر اطلاع کے، اور بلااجازت۔ یونیورسٹی میں مجھ سمیت کلاس کے تمام پینڈو لڑکے خواہ مخواہ مرعوب ہوجاتے۔ ہمارا انگریزی سے تعارف صرف چندالفاظ تک محدود تھا، مسئلہ شٹ اپ، گیٹ آؤٹ، وغیرہ۔ اسی لیے ہم انگریزی کو ڈانٹ ڈپٹ کی زبان سمجھتے تھے۔ کوئی ہاؤ آر یو بھی پوچھ لیتا تو ہوائیاں اڑنے لگتیں۔ اپنا حال بتاتے بھی یوں لگتا جیسے وضاحت دے رہے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں