لو کہہ دیا، مجھے تم سے نفرت ہے

اگر آپ ایک hard working انسان ہیں۔آپ کو محنت وغیرہ کرنے کا بہت شوق ہے۔تو براہ مہربانی، یہ تحریر نہ پڑھیں۔
کیوں کہ میں ان محنتی لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔
بندہ صبح صبح دہی کھا کر دفتر جاتا ہے۔۔ تو وہاں جاتے ہی کام تو نہیں شروع کر دیتا نا۔ پہلے سارے دفتر والوں سے حال احوال لیتا ہے، گپ شپ لگاتا ہے، جو کولیگ موجود نہ ہو اس کی غیبت کرتا ہے۔پھر ناشتہ منگواتا ہے، ناشتہ کرتاہے۔۔ پھرجا کر موڈ بنے تو کام شروع کرتا ہے۔
لیکن یہ لوگ وقت پر دفتر پہنچتے ہی کام بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کم بخت ناشتہ بھی گھر سے کر کے آتے ہیں۔تو غصہ نہ آئے تو اور کیا آئے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

تنخواہوں میں کٹوتیاں اور برطرفیاں، اس صحافت کا کیا بنے گا؟

پاکستانی صحافت پر ایسا دور آیا کہ اپنے ساتھ تنخواہوں میں کٹوتی، بے روز گاری اور بے زاری بھی لایا۔
معاملہ یوں کہ صحافی کئی کئی سال تک ایک ہی تنخواہ پر کام کرتے ہیں۔ میڈیا مالکان تنخواہوں میں سالانہ اضافے پر یقین نہیں رکھتے۔ عہدہ بڑھانے کا تو تصور ہی نہیں۔ لیکن اب تو ایک نیا کام ہوا۔ میڈیا مالکان نے معاشی مسائل کا رونا روتے ہوئے صحافیوں کی تنخواہیں کم کر دیں۔ اندازہ لگائیں، کہ ایک شخص، جس نے اپنی عمر صحافت کو دی۔۔ اس کے گرد مہنگائی کا مینار بلند ہوتا گیا اور وہ سالوں تک ایک مخصوص تنخواہ پر گزارا کرتا رہا، وہ بھی کبھی وقت پر مل گئی، کبھی نہ ملی۔ بجائے اس کی تنخواہ بڑھنے کے، الٹا کم ہو گئی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

چینی چھوڑنے کا دکھ

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please. کو پڑھنا جاری رکھیں

علاج

کہاں مصروف ہو آج کل؟
بس یار کیا بتاؤں
ارے ہاں، تم تو ماہر نفسیات کے پاس جا رہے تھے نا، کیا تشخیص کی اس نے
کچھ نہیں، بس کہتا ہے میں بہت زیادہ workaholic ہوں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
جسے کام کا بہت شوق ہو۔
پھر کیا علاج ہے مرض کا
علاج تو اس نے نہیں بتایا، لیکن ماہر نفسیات کی فیس بھرنے کے لیے آج کل دو نوکریاں کر رہا ہوں

#منقول

کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”