کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”

Advertisements

کرنٹ افیئر پروگرام کا ‘پرومو’ بنانے کا فارمولا

اگر آپ کرنٹ افیئر، یعنی حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تشہیر کے لیے بھی آپ کو ایک ویڈیو بنانا ہو گی۔ اس تشہیری ویڈیو کو میڈیا کی زبان میں پرومو کہا جاتا ہے (جو پروموشن سے نکلا ہے)۔
تو ایسا پرومو بنانے کا بہت سادہ سا فارمولا ہے۔
سب سے پہلے پروگرام کے اینکر کو شہر کی سڑکوں پر گواچی گاں کی طرح پھرتے ہوئے دکھائیں۔
اسے شہر کی کسی تاریخی یا اہم عمارت میں داخل اور خارج ہوتے دکھائیں۔ یا اینکر کو کسی بہت ہی اونچی عمارت پر لے جائیں جہاں کھڑا ہو کر وہ شہر کو غور سے دیکھے (اور دل میں سوچے کہ کہیں شاٹ بنوانے کے بعد پروڈیوسر دھکا تو نہیں دے گا)۔
اینکر کو کسی لائبریری لے جائیں، یہاں وہ کتابوں سے بھری الماری سے سب سے موٹی کتاب نکالے اور یوں پڑھنے لگے جیسے سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔
کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے نوٹس لیتے ہوئے بھی دکھائیں۔
ایسا شاٹ بھی ضروری ہے جس میں اینکر اخبار پڑھے اور کسی اہم خبر کے گرد دائرہ لگائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

حضور والا! صحافی بھیجیے

انگریزی اخبار نے خبر اڑائی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت چین میں بوجھ ڈھونے والے چوپائے بھیجنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایک تو چین میں مذکورہ چوپائے کی مانگ بہت ہے، کہ اس کا گوشت لاہوریوں کے ساتھ ساتھ چینیوں کو بھی مرغوب ہے۔ دوسرا اس کی کھال دواؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خواتین آرائش حسن کا جو سامان استعمال کرتی ہیں، اس میں بھی شوہروں کی کمائی کے ساتھ ساتھ متذکرہ چوپائے کی کھال استعمال کی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت اس منصوبے سے بہت سا زر مبادلہ کمانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ چوپائے کی افزائش نسل کے لیے تجاویز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔ تاہم عاجز کی رائے میں برآمد کرنے ہی ہیں تو صحافی کیے جائیں۔ ان کی افزائش نسل کی بھی ضرورت نہیں، پہلے ہی گنجائش سے بڑھ کر ہیں۔
صحافیوں کو بھی چونکہ فقط مشقت ہی کرنا ہوتی ہے، لہذا فہم و فراست سے فاصلہ رکھتے ہیں، حکم حاکم پر سر جھکائے بھاگتے رہتے ہیں، تھک جائیں تو ایک چابک پڑتے ہی پھر سرپٹ دوڑنے لگتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے۔ چین میں صحافیوں کی منڈی لگی ہو گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

بھورے کوٹ کی سیاہ کہانی

2003 میں لاہور وارد ہوئے تو والد صاحب نے جیکٹ نما کوٹ ہمراہ کیا۔ خاکی سے رنگ کی یہ جیکٹ خاصی کارآمد تھی۔ کئی برس تک ہمیں سردی سے بچاتی رہی۔ جیکٹ بدلنے میں وسائل سے زیادہ خواہش کی کمی آڑے آتی۔ بھلا ایک کار آمد جیکٹ کے ہوتے ہوئے دوسری کیوں خریدی جائے۔
بر سر روزگار ہوئے تو بھی سردیوں میں اسی جیکٹ کا آسرا رہا۔ یہ اور بات کہ گزرتے ماہ و سال اپنے نشان اس پر چھوڑتے جا رہے تھے ۔۔۔ پھر بھی اسے پہن کر عافیت کا احساس ہوتا۔ جیکٹ کی یکسانیت پر یار دوست شاید پہلے بھی طعنے دیتے رہے ہوں، اب ان پر غور کرنا شروع کیا۔
یوں سردیوں کے مقابلے کے لیے ایک سیاہ رنگ کا کوٹ خریدا گیا۔ خاص بات یہ تھی کہ اس کے دو حصے تھے۔ زپ کے ذریعے علیحدہ ہو جاتے۔ اس سے اگلی سردیوں نے ہماری الماری میں ایک سیاہی مائل سرمئی رنگ کے کوٹ کا اضافہ دیکھا۔ اسی برس تقریباً اسی رنگ کی لیکن وضع قطع میں مختلف جیکٹ خریدی گئی۔ اس بندوبست کے بعد ہم کوٹ/جیکٹ بدل بدل کر دفتر جانے لگے۔ نسبتاً کم سردی کے لیے ایک سیاہ اور ایک سیاہی مائل سرمئی اپر بھی لیا گیا۔

ہمارے پہناووں پر اتری دھنک سے حاسدین کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ پڑھنا جاری رکھیں

نظر اور صبر

کیا بتائیں، عینک جب سے ناک اور اعصاب پر سوار ہوئی ہے، اپنی تو قسمت ہی پھوٹ گئی ہے۔ دیکھنے والے ہمیں پڑھا لکھا ، عقل مند اور دانش ور سمجھ لیتے ہیں۔ معاملہ یہاں تک رہے تو ٹھیک،  وہ تو ہماری فہم اور دانش کا امتحان بھی لینے لگتے ہیں۔ ہمیں  بحر اور عرض  کا فرق نہیں معلوم، یہ بین الاقوامی سیاست کے امور پوچھنے لگیں گے۔ ہم اپنے محلے کے کونسلر کو نہیں جانتے، یہ برطانیہ میں پاکستانی میئر منتخب ہونے پر رائے چاہیں گے۔
غرض، عجیب مشکل ہے۔ ہم عینک کو چھوڑنا چاہتے ہیں، یہ ہمیں نہیں چھوڑتی۔ عینک ان معاملات کو بھی دھندلا دیتی ہے جہاں آنکھوں کے تیر چلتے ہیں اور جگر کے آر پار ہوتے ہیں۔ ہمارے دل میں برپا ہیجان پر سردمہری کا خول چڑھا دیتی ہے، ہم بھی عینک کا حیا کرتے ہوئے جھینپ جھینپ جاتے ہیں۔
ہمیں عینک لگی کیسے؟ اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے۔ بچپن سے ہی وہ دیدہ ور بننا چاہتے تھے جس کی فقط پیدائش کے لیے نرگس کو ہزاروں سال رونا پڑتا ہے۔ لیکن اس مقصد کے لیے مطلوبہ خوبیاں اپنی ذات میں عنقا تھیں۔ لہذا ہم نے اپنی  باطنی نالائقی کو عینک کی ظاہری بردباری سے چھپانے کا فیصلہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

بیگم کو لینے جانا ہی پڑا

بیگم میکے میں تھیں۔ زندگی میں رنگ کوکتے تھے، بہاریں رقص کرتی تھیں، ہر دن عید اور ہر رات شب برات تھی۔ دوست ہر وقت مسکرانے کی وجہ پوچھتے، جواب ہوتا۔۔۔ اتنا جو ہم مسکرا رہے ہیں، بیگم کی جدائی کا غم چھپا رہے ہیں۔
آپ خدانخواستہ کچھ غلط نہ سمجھیے۔ خوف اہلیہ اور خوف الٰہی کے باعث ہم خاصے نیک چلن واقع ہوئے ہیں۔ لیکن پھر بھی بیگم کی موجودگی
کھٹکتی ہے دل شوہراں میں کانٹے کی طرح
کج بحثی کے شوقین حضرات شاید سوال کریں، بھری جوانی میں بے داغ زندگانی، پھر بھی بیگم کے ہونے سے پریشانی۔۔چہ معنی؟
دراصل داغ لگنے سے ڈر نہیں لگتا صاحب، داغ نکالنے سے لگتا ہے۔ جو برتنوں اور کپڑوں سے ہمیں نکالنے پڑتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا بیگم کو لانا میری ذمہ داری ہے؟

بیگم اپنے میکے گئی ہیں اور زندگی گلزار ہے۔ ایک دن دفتری ساتھی پوچھنے لگیں، کب لا رہے ہیں بھابھی کو؟ واضح رہے کہ ہم لاہور میں قیام پذیر ہیں اور  سسرال اسلام آباد میں ہے۔ درمیان میں تقریباً چار سو کلومیٹر حائل ہیں، جنہیں پاٹنے میں دو ہزار پانچ سو روپے کا پیٹرول اور پانچ سو روپے کا ٹال ٹیکس بھی لگتا ہے۔ گویا بیگم کو لینے جانا اور واپس آنا بندے کو دس گھنٹے کے سفر اور چھ سے سات ہزار روپے میں پڑتا ہے۔ پیسہ تو یوں بھی ہاتھ کا میل ہے، بیگم کو چھوڑنے جا رہے ہوں تو چھبتا بھی نہیں، لیکن کیا ضروری ہے کہ بیگم کی واپسی کے لیے بھی اسی معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کیا جائے؟ اور پھر عاجز کو اپنی تھکاوٹ کا بھی احساس رہتا ہے۔
بیگم کی واپسی سے متعلق پوچھنے والی کو جواب دیا، "لینے تھوڑی جائیں گے، خود آئیں گی وہ”۔ پڑھنا جاری رکھیں

نیازی صاحب کا شربت

خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ رکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔
ماہ رمضان کا شاید آخری عشرہ چل رہا تھا۔ نیازی صاحب نے افطاری سے قبل حسب معمول آفس کینٹین کی فریج سے شربت کی بوتل نکالی۔ لیکن شربت خلاف معمول پھیکا سا نکلا۔ شاید بیگم سے حساب کتاب میں کچھ بھول ہوئی ہو۔۔۔ نیازی صاحب نے صبر کے ‘پھیکے’ گھونٹ بھرتے ہوئے شربت حلق سے اتار دیا۔
اگلے روز شربت پسند عناصر نے زیادہ مقدار پر صفایا کیا، ظاہر ہے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پانی بھی اسی مقدار میں بڑھانا پڑا۔ اب نیازی صاحب کو پھیکے شربت کے پیچھے کسی منظم واردات کا ذائقہ محسوس ہوا۔ پڑھنا جاری رکھیں

لینڈ لائن ٹیلی فون کی کہانی

ہم ایک لینڈ لائن ٹیلی فون ہیں۔ کیا؟ نہیں پہچانا؟ ارے وہی جو ٹی وی لاؤنج میں کونے میں پڑے رہتے ہے۔ لاحول ولا، آپ کے بزرگوار کی بات نہیں ہو رہی، ارے وہی جو آپ کے ڈی ایس ایل کنکشن کے ساتھ جہیز میں آئے تھے۔
چلیں شکر ہے آپ نے پہچانا تو۔ ہم عرض کر رہے تھے۔۔۔ بھئی آپ پھر اپنے موبائل فون سے کھیلنے لگے! دیکھیے جناب زمانے نے ہمارے ساتھ کیا چال چلی ہے۔ کہاں تو ہمارا کنکشن لگوانے کے لیے وزیروں کی سفارش کروانا پڑتی تھی، کہاں نیم دلی سے کی گئی فون کال پر جھٹ سے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایسی بے قدری۔
پہلے ہم سجا سنوار کر گھر میں مرکزی جگہ دھرے جاتے تھے، جو آتا جاتا ایک پیار بھری نظر ضرور ڈالتا۔ اجی اس زمانے میں ہم پر ذمہ داری بھی تو بہت بھاری تھی۔ ساری دنیا کے رابطے کا ایک ہم ہی ذریعہ تھے۔ پھر معاشرتی اخلاق کے بھی امین۔ جہاں کسی پروانے نے شمع کو فون ملایا، ہم نے شمع کے ابے مشتاق کو جگایا۔ طالب اور مطلوب کے درمیان کباب کی ہڈی ہم ہی ہوتے تھے۔ گفتگو رومانوی ہونے لگتی تو حیا کے مارے ریسیور میں کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو جاتی۔ بات اور جذبات دونوں ہی سرد پڑ جاتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

پرنٹر کی کہانی اس کی زبانی

میں ایک حقیر پر تقصیر پرنٹر ہوں۔۔۔ نہ ذات نہ صفات، نہ ہی کوئی اوقات۔ کمپیوٹر سے منسلک رہتا ہوں، اور اسی کے احکامات کا تابع ہوں۔ میرے دامن میں چند اجلے صفحے ہوتے ہیں، جن پر سیاہی پھیر کر دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں۔
جہاں مجھے نصب کیا گیا ہے، وہیں پر بہت سے بندے اور ٹی وی بھی نصب ہیں۔ ٹی وی تو ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گلا پھاڑتے ہیں، بندے ساتھ ساتھ دوڑتے بھاگتے بھی ہیں۔ کیسی جگہ ہے، سبھی خبر نامی کسی محترمہ کے دیوانے ہیں۔ لینا، پکڑنا، جانے نہ پائے، ارے اس نے پکڑ لی ہم نے کیوں نہ پکڑی۔۔۔ ہمہ وقت اسی قسم کی آوازیں گونجتی ہیں۔ خبر صاحبہ آگے آگے ہوتی ہیں اور یہ ان کے پیچھے۔ سبھی کہتے ہیں یہ ٹیلی وژن اسٹیشن ہے، مجھے تو اسپتال برائے  ذہنی و جذباتی امراض معلوم ہوتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں