کیا بیگم کو لانا میری ذمہ داری ہے؟

بیگم اپنے میکے گئی ہیں اور زندگی گلزار ہے۔ ایک دن دفتری ساتھی پوچھنے لگیں، کب لا رہے ہیں بھابھی کو؟ واضح رہے کہ ہم لاہور میں قیام پذیر ہیں اور  سسرال اسلام آباد میں ہے۔ درمیان میں تقریباً چار سو کلومیٹر حائل ہیں، جنہیں پاٹنے میں دو ہزار پانچ سو روپے کا پیٹرول اور پانچ سو روپے کا ٹال ٹیکس بھی لگتا ہے۔ گویا بیگم کو لینے جانا اور واپس آنا بندے کو دس گھنٹے کے سفر اور چھ سے سات ہزار روپے میں پڑتا ہے۔ پیسہ تو یوں بھی ہاتھ کا میل ہے، بیگم کو چھوڑنے جا رہے ہوں تو چھبتا بھی نہیں، لیکن کیا ضروری ہے کہ بیگم کی واپسی کے لیے بھی اسی معاشی دہشت گردی کا ارتکاب کیا جائے؟ اور پھر عاجز کو اپنی تھکاوٹ کا بھی احساس رہتا ہے۔
بیگم کی واپسی سے متعلق پوچھنے والی کو جواب دیا، "لینے تھوڑی جائیں گے، خود آئیں گی وہ”۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

نیازی صاحب کا شربت

خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ رکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔
ماہ رمضان کا شاید آخری عشرہ چل رہا تھا۔ نیازی صاحب نے افطاری سے قبل حسب معمول آفس کینٹین کی فریج سے شربت کی بوتل نکالی۔ لیکن شربت خلاف معمول پھیکا سا نکلا۔ شاید بیگم سے حساب کتاب میں کچھ بھول ہوئی ہو۔۔۔ نیازی صاحب نے صبر کے ‘پھیکے’ گھونٹ بھرتے ہوئے شربت حلق سے اتار دیا۔
اگلے روز شربت پسند عناصر نے زیادہ مقدار پر صفایا کیا، ظاہر ہے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پانی بھی اسی مقدار میں بڑھانا پڑا۔ اب نیازی صاحب کو پھیکے شربت کے پیچھے کسی منظم واردات کا ذائقہ محسوس ہوا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

لینڈ لائن ٹیلی فون کی کہانی

ہم ایک لینڈ لائن ٹیلی فون ہیں۔ کیا؟ نہیں پہچانا؟ ارے وہی جو ٹی وی لاؤنج میں کونے میں پڑے رہتے ہے۔ لاحول ولا، آپ کے بزرگوار کی بات نہیں ہو رہی، ارے وہی جو آپ کے ڈی ایس ایل کنکشن کے ساتھ جہیز میں آئے تھے۔
چلیں شکر ہے آپ نے پہچانا تو۔ ہم عرض کر رہے تھے۔۔۔ بھئی آپ پھر اپنے موبائل فون سے کھیلنے لگے! دیکھیے جناب زمانے نے ہمارے ساتھ کیا چال چلی ہے۔ کہاں تو ہمارا کنکشن لگوانے کے لیے وزیروں کی سفارش کروانا پڑتی تھی، کہاں نیم دلی سے کی گئی فون کال پر جھٹ سے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایسی بے قدری۔
پہلے ہم سجا سنوار کر گھر میں مرکزی جگہ دھرے جاتے تھے، جو آتا جاتا ایک پیار بھری نظر ضرور ڈالتا۔ اجی اس زمانے میں ہم پر ذمہ داری بھی تو بہت بھاری تھی۔ ساری دنیا کے رابطے کا ایک ہم ہی ذریعہ تھے۔ پھر معاشرتی اخلاق کے بھی امین۔ جہاں کسی پروانے نے شمع کو فون ملایا، ہم نے شمع کے ابے مشتاق کو جگایا۔ طالب اور مطلوب کے درمیان کباب کی ہڈی ہم ہی ہوتے تھے۔ گفتگو رومانوی ہونے لگتی تو حیا کے مارے ریسیور میں کھڑکھڑاہٹ پیدا ہو جاتی۔ بات اور جذبات دونوں ہی سرد پڑ جاتے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

پرنٹر کی کہانی اس کی زبانی

میں ایک حقیر پر تقصیر پرنٹر ہوں۔۔۔ نہ ذات نہ صفات، نہ ہی کوئی اوقات۔ کمپیوٹر سے منسلک رہتا ہوں، اور اسی کے احکامات کا تابع ہوں۔ میرے دامن میں چند اجلے صفحے ہوتے ہیں، جن پر سیاہی پھیر کر دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں۔
جہاں مجھے نصب کیا گیا ہے، وہیں پر بہت سے بندے اور ٹی وی بھی نصب ہیں۔ ٹی وی تو ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے گلا پھاڑتے ہیں، بندے ساتھ ساتھ دوڑتے بھاگتے بھی ہیں۔ کیسی جگہ ہے، سبھی خبر نامی کسی محترمہ کے دیوانے ہیں۔ لینا، پکڑنا، جانے نہ پائے، ارے اس نے پکڑ لی ہم نے کیوں نہ پکڑی۔۔۔ ہمہ وقت اسی قسم کی آوازیں گونجتی ہیں۔ خبر صاحبہ آگے آگے ہوتی ہیں اور یہ ان کے پیچھے۔ سبھی کہتے ہیں یہ ٹیلی وژن اسٹیشن ہے، مجھے تو اسپتال برائے  ذہنی و جذباتی امراض معلوم ہوتا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کرسی سے شادی

ایک دفتر میں کرسیوں کی تعداد کم تھی اور بیٹھنے والوں کی زیادہ۔ طلب اور رسد کے اس فرق کے باوجود کام بخوبی چل رہا تھا کہ چند زور آوروں نے زور لگا کر کچھ کرسیوں پر قبضہ جما لیا۔ اب کرسی کوئی پلاٹ تو ہے نہیں جس کے گرد دیوار کھڑی کر کے اپنے بندے بٹھا دیے جائیں۔ نابغوں نے اس کا بھی حل نکال لیا۔ جیسے پالتو جانوروں کو پٹے ڈالے جاتے ہیں، اسی طرح کرسیوں کو بھی ڈال دیے گئے۔
چونکہ ان حضرات نے اس سے قبل صرف ازاربند ہی باندھے تھے، لہذا کرسیاں باندھنے کے لیے بھی اسی کا انتخاب کیا۔ باحیثیت افراد نے تو زیر قبضہ کرسیوں کے لیے ریشمی ازاربند بنوائے۔ جسے ازار بند نہ ملا، اس نے دفتر میں موجود مختلف تاروں سے ہی کام چلایا۔ ایک کرسی کو ٹیلی فون کی تار سے باندھا گیا۔ جب کسی کا فون آتا، یہ کرسی بھی ٹنٹنا اٹھتی (گنگنا اٹھنے کے وزن پر)۔ بعد میں اسے نیٹ ورکنگ کیبل سے باندھا گیا، تاکہ دفتری نیٹ ورک کی طرح یہ کرسی بھی سکون سے سوئی رہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

قیامت کی صحافت

جب قیامت آئے گی، اور  حضرت اسرافیل صور پھونکنا شروع کریں گے ،تو پاکستان کے ٹی وی نیوز رومز میں کام کرنے والے صحافیوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔ کہ یہ آواز اجل کی ہے یا ان کے افسران کی۔
پھر قیامت آنے کی خبر چلے گی۔ ہانک لگائی جائے گی، قیامت آنے کی خبر سب سے پہلے ہمارے چینل نے دی، پھٹہ چلا دو۔ (بریکنگ نیوز کو ترکھان صفت صحافیوں نے پھٹے کا نام دے رکھا ہے۔ اسی پھٹے پر رکھ کر خبر کو قبر تک پہنچایا جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی اہم، یا غیر اہم خبر آئے، نیوزروم میں آواز لگتی ہے۔۔۔اس کا پھٹہ چلا دو، یعنی اسے بریکنگ نیوز قرار دے کر اسکرین پر انڈیل دو)۔
قیامت کی  کوریج کےلیے تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔ چونکہ واقعہ بڑا ہوگا، اس لیے رپورٹر کےساتھ ساتھ اینکر بھی فیلڈ میں بھجوا دیا جائے گا۔ وہ چیخ چیخ کر کہے گا، دیکھیے ناظرین سورج سوا نیزے پر آگیا ہے، سورج اتنا قریب ہے کہ میں اسے ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا ہوں۔۔اوئی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ان کی شکایت

ہمارے ٹیلی وژن چینل پر بین الاقوامی خبروں کے لیے ایک ڈیسک ہے۔ دنیا بھر سے پاکستانیوں کی دلچسپی کی خبریں تلاش کرنا، اور اردو میں ترجمہ کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ایک زمانے میں   ڈیسک کا انچارک ایسی خاتون کو بنایا گیا جو اردو لکھنا جانتی تھیں نہ بولنا۔ کسی دوسرے ملک سے پاکستان آئی تھیں، اور انگریزی اخبار سے منسلک رہی تھیں۔ اب کام کی صورت کیا ہو؟ وہ جس خبر کو ضروری سمجھتیں، اس کے اہم حصوں کو نشان زدہ کر کے ماتحت عملے کو دے دیتیں۔  وہ ترجمہ کرتا، خاتون تصدیق کرتیں کہ نشان زدہ حصے خبر میں شامل ہیں، اور خبر فائل کر دی جاتی، جس کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو منٹ تک کا ہوتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خواتین، انگریزی اور خاکسار

خواتین ہوں یا انگریزی، خاکسار دونوں سےیکساں گھبراتا ہے۔
کیوں کہ خاکسار کو نہ انگریزی کی سمجھ آتی ہے، نہ خواتین کی۔
انگریزی ہمارے دماغ اور خواتین ہمارے ایمان میں خلل ڈالتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کسی محفل میں خواتین کی موجودگی حواس باختہ کردیتی ہے۔  کھانا پینا بھول جاتا ہے۔ نظریں ڈونگوں اور چمچوں کے بجائے جھمکوں اور آویزوں میں اٹکنے لگتی ہیں۔
ایسے میں سالن کے گھونٹ بھرنے لگتے ہیں اور پانی میں نوالہ ڈبو لیتے ہیں۔ کباب سالم کھا جاتے ہیں، اور بسکٹ کو کیچپ لگا لیتے ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بیویاں عمران خان ہوتی ہیں  

بیویاں بھی عمران خان ہوتی ہیں، کیونکہ
عمران حکومت کو پریشان کرتے ہیں، یہ شوہروں کو پریشان کرتی ہیں
عمران بل جلاتے ہیں، یہ دل جلاتی ہیں
عمران قانون شکنی کرتے ہیں، یہ شوہروں کی  حوصلہ شکنی کرتی ہیں
عمران ملک کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں، یہ شوہروں کومالی نقصان پہنچاتی ہیں
عمران سول نا فرمانی کرتے ہیں، یہ صرف نافرمانی کرتی ہیں
عمران ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ کرتے ہیں، یہ ٹی وی ریموٹ پر قبضہ کر لیتی ہیں کو پڑھنا جاری رکھیں

تحریک انصاف والوں کی 20 عادات

1۔اکثر غصے میں رہتے ہیں
2۔جہاں کشتیاں چلانی چاہییں، وہاں کشتیاں جلا دیتے ہیں
3۔عمران خان کی ہر حماقت میں حکمت تلاش کرتے ہیں
4۔مبشر لقمان کو سچا صحافی اور طلعت حسین کو بکاؤ مال سمجھتے ہیں
5۔اے آر وائی کو حق کا علم بردار اور جیو کو جھوٹ کا قصوروارسمجھتے ہیں کو پڑھنا جاری رکھیں