عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی

دھرنا ڈائری: دوسرا اور آخری صفحہ

pti-girls-dance-in-islamabad-dharnaآفس سے کال آئی آپ نے دھرنا کوریج کے لیے اسلام آباد جانا ہے۔ ہمیں خوشی اور تشویش ایک ساتھ ہوئی۔ خوشی ایک مختلف ذمہ داری ملنے کی تھی، تشویش اس بات کی کہ خدا جانے یہ دھرنا کب تک چلے۔ کتنے دن کا زاد راہ ساتھ رکھیں، اسلام آباد کا موسم کیسا ہو گا، گرم کپڑے نکالنے ہیں تو الماری کے بالائی خانے پھرولنا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔
2014 کے دھرنے میں بھی اسلام آباد بھیجے گئے تھے، نیوز روم کی چار دیواری سے نکل کر فیلڈ میں جانے سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ خبر نشریاتی رابطے کے بجائے اپنی آنکھ سے بنتے دیکھی تھی۔ کئی تجربات جو نیوز روم میں سات سال گزار کر نہ ہوئے وہ فیلڈ میں رہتے ہوئے سات دن میں ہو گئے تھے۔
شادمانی کے غبارے سے کچھ ہوا اس وقت نکلی جب بتایا گیا اسلام آباد جا کر بھی ہمارا پڑاؤ بیورو آفس میں ہی ہو گا۔ سوچے بیٹھے تھے کہ میدان جنگ میں جو کچھ بیتے گا، اس کی داستان کہیں گے، یہاں ہمیں پچھلے مورچوں میں بٹھا دیا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

یارو اسے یو ٹرن نہ کہنا

cwlbuppwcaaymakعمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان واپس لے لیا ہے۔ یار لوگ ابھی سے اسے یو ٹرن کہہ رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایسا کہنا درست نہیں۔
عمران خان پانامہ لیکس میں وزیراعظم نوازشریف کے ملوث ہونے کی تحقیقات چاہتے تھے۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کی دھمکی اسی لیے دی گئی۔ اگر عمران خان نے یو ٹرن لینا ہوتا تو اسی وقت لے لیتے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں احتجاج کرنے سے منع کیا تھا۔
اب سپریم کورٹ نے یہ تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ اب عمران خان کے پاس احتجاج کرنے کا جواز ہی باقی نہ رہا تھا۔ لہذا انہوں نے درست فیصلہ کیا، اور دو نومبر کو لاک ڈاؤن کے بجائے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔
اب میں عرض کروں گا کہ عمران خان نے ایسا کیا کیا جسے یو ٹرن یا اس سے ملتی جلتی چیز سمجھا جائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کی خود غرضی

عمران خان نے 30 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد بند کرنے کی کال دے رکھی تھی۔ بعد میں یہ تاریخ بدل کر دو نومبر کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق تحریک انصاف کے سربراہ نے بتایا۔۔۔ تاریخ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کی وجہ سے تبدیل کی گئی۔ تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کا گروپ ان انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔
اگر تو بی بی سی کی خبر درست ہے، تو عمران خان کے رویے کو سادہ الفاظ میں خودغرضی ہی کہا جا سکتا ہے۔ اپنے ایک وکیل رہنما کے انتخابات کے لیے تو اسلام آباد بند کرنے کی تاریخ تبدیل کر دی۔ لیکن دو نومبر کو راولپنڈی اسلام آباد کے کئی شہریوں کے اہم کام ان کی –لاک ڈاؤن کال- کی وجہ سے رہ جائیں گے، اس کا خیال نہ کیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی

نوک جوک نے خصوصی ذرائع سے عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی معلوم کر لی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کپتان کی ناراض بہنوں نے شادی پر آنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس پر عمران خان نے اے آر وائی کےاینکر مبشر لقمان کو بلا لیا۔عمران نے کہا”مبشر تم بھی میری بہنوں کی طرح ہو، اس خوشی کے موقع پر تم میرے ساتھ نہیں ہو گے تو اور کون ہو گا۔”
نکاح کے لیے جو شیروانی سلوائی گئی تھی، شفقت محمود نے استری کرتے ہوئے وہ جلا دی۔ عمران خان نے کہا”اوئے شفقت محمود! یہ کیا کردیا تم نے۔” اس پر جہانگیر ترین نے مشورہ دیا” خان صاحب، آپ نے امپائر کی انگلی اٹھنے کے لیے جو شیروانی سلوائی ہوئی تھی وہی پہن لیں۔” یہ سن کر عمران خان اور شفقت محمود، دونوں کی جان میں جان آ گئی۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان ایک مخلص لیڈر

اس دنیا کی بالعموم اور پاکستان کی بالخصوص خوش قسمتی ہے کہ اسے عمران خان جیسا عاقل و بالغ لیڈر میسر آیا۔ وہ اخلاص دیانت اور ذہانت کا دوسرا نام ہیں۔
عمران خان کو احساس ہے کہ ہڑتال سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔تبھی تو  ایک مخلص لیڈر کی طرح انہوں نے عوام سے دلی معذرت بھی کی ہے۔  نامعقول سیاسی مخالفین اس موقع پر یہ شعر پڑھتے دیکھے گئے
ع ۔۔۔کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
عمران خان نے جواب میں دلیل دی کہ وہ قتل کے بعد نہیں، پہلے ہی توبہ کر رہے ہیں۔ یوں مخالفین اپنے سے منہ لے کر رہ گئے۔عمران خان کوعوام کی تکلیف کا اتنا احساس ہے کہ ہر ہڑتال پر برطانیہ میں مقیم اپنے بیٹوں قاسم اور سلمان کو بھی اسکول جانے سے منع کر دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر  قوم کے بیٹوں کی تعلیم ضائع ہو تو ان کے اپنے بیٹوں کی بھی ہونی چاہیے۔
نہ صرف یہ، بلکہ قاسم اور سلمان برطانیہ میں اپنے دیگر کلاس فیلوز کو بھی اسکول نہیں جانے دیتے۔ اس معاملے میں زبردستی قطعاً نہیں کی جاتی،  بس ا سکول کے داخلی دروازے پر ٹائر جلا دیتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں جو اپنی مرضی سے سکول نہیں آنا چاہتا وہ چھٹی کرے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان! یہ کرتی ہے برطانوی پولیس

عمران خان کو برطانیہ میں رہنے اور پڑھنے کا دعویٰ ہے۔ بار باربرطانوی جمہوریت کی مثالیں دیتے ہیں۔ اب تو خیر سے پورے پاکستان کو بند کرنے کے درپے ہیں۔ یہ چند تصاویر برطانیہ کی ہیں۔ وہاں احتجاج ہوا تو دیکھیں برطانوی پولیس نے مظاہرین کا کیا حشر کیا۔ ایک ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہے۔
برطانوی جمہوریت کے دلدادہ عمران خان کے ساتھ پاکستانی پولیس بھی یہی کچھ کرے تو انہیں شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان ! کیا پاکستان آپ کے والد صاحب کا ہے

ووٹوں کی تصدیق ضروری۔ بہت ہی ضروری۔ کہ انہی ووٹوں پر  ملک کی حکومت کھڑی ہوئی۔ آپ کا مطالبہ تسلیم۔ طریقہ کار سے اختلاف، لیکن آپ کی جدوجہد کا حق بھی قبول۔
لیکن اب آپ حد سے بڑھنے لگے ہیں۔ اب آپ نے دھمکی دی ہے کہ پہلے لاہور، فیصل آباد اور کراچی بند کریں گے، پھر پورا پاکستان بند کر دیں گے۔
لیکن عمران خان صاحب! جیسے آپ کو احتجاج کرنے کا حق ہے۔ ایسے ہی مجھے آزادانہ نقل و حرکت کا بھی حق ہے۔ اگر آپ کا احتجاج میری حق تلفی کرتا ہے تو یہ منظور نہیں۔ آپ کے کہنے پر لوگ رضاکارانہ اپنا کاروبار بند کریں تو ٹھیک۔ لیکن زبردستی کا اختیار آپ کو ہر گز نہیں۔
خیبرپختونخوا میں جمیعت علمائے اسلام والوں نے سڑکیں بند کیں تو آپ کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو غصہ آ گیا۔ سڑکیں بند کرنے والوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی دھمکی دی۔اب یہی کچھ آپ کریں گے تو بتائیں کیا سلوک ہونا چاہیے؟ پڑھنا جاری رکھیں