سائیکل ریس سے سیکھے سبق

ورزش کی غرض سے سائیکل پر دفتر آتے جاتے ہیں۔ اہل لاہور نے سائیکل سواری کا شغل ترک ہی کر رکھا ہے۔ چھ سے آٹھ کلومیٹر طویل سفر میں کبھی کبھار ہی کوئی دوسرا سائیکل سوار ملتا ہے۔ ایسا بھی ہوا کہ راستے میں کوئی سائیکل سوار ملا، ہم اس سے آگے نکلے، یا اس نے ہمیں اوور ٹیک کیا تو خواہ مخواہ کا مقابلہ سا شروع ہو گیا۔ ایک تو اس میں لطف رہتا ہے، دوسرا مسابقت میں راستہ نسبتاً جلدی کٹ جاتا ہے۔
اب یہ کوئی باقاعدہ ریس تو ہوتی نہیں۔ کوئی سائیکل سوار آپ کے قریب سے گزرا، آپ نے اس کی رفتار سے حسد محسوس کیا یا ایسے ہی اپنا امتحان لینا چاہا ۔۔۔ تو تیزی سے پیڈل مارتے ہوئے اس سے آگے بڑھ گئے۔ ذرا آگے جا کر آپ دھیمے پڑے یا اس نے رفتار پکڑی تو آپ سے آگے نکل گیا۔
پھر شروع ہوئی مقابلہ بازی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو ہم اکثر خود سے کرتے ہیں، اور کبھی اس کا شافی جواب نہیں پاتے۔ تبھی ہم نے گوگل کی معرفت کچھ سیانوں سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال سادہ سا ہے، ایسا کیا کیا جائے جو من کو بھی بھائے اور پیسے بھی چوکھے کمائے؟ بابا گوگل نےجن بُدھی دانوں کے خیالات ہم تک پہنچائے، وہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔ یہ عاقل کہتے ہیں کام کوئی بھی کرو، کمائی کا مت سوچو۔ بس جو جی میں آئے وہ کرو، کرتے چلے جاؤ، کمائی کی صورت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی!
جب تک کچھ یافت ہو گی تب تک پاپی پیٹ کا کیا بندوبست ہو؟  کوئی ٹائم فریم بھی تو ہونا چاہیے نا۔اور جی میں بھی کوئی ایک خیال تھوڑی آتا ہے۔  یہ دانا فرماتے ہیں چار پانچ مشقیں کیجیے، آپ کی زندگی کا مقصد خود سامنے آن کھڑا ہو گا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

خود سے چار معاہدے کرو۔۔۔اور اپنی زندگی جیو

ہم اکثر پرفیکشن یا تکمیل کا ایک تصور قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر ساری زندگی اس تصور کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ ہم پرفیکٹ (مکمل ) اس لیے نظر آنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں تسلیم کریں۔ خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھتےہیں۔  اسی خودساختہ پرفیکشن کی  عینک سے ہم دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں اور ان سے بھی پرفیکٹ ہونے کی توقع کرتے ہیں۔
خود کو دوسروں سے تسلیم کراتے کراتے ہم اپنی زندگی جینا چھوڑ دیتے ہیں۔
اب آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تودوسروں کے نظریات کے آگے ہار مان لیں اور ان کی جیسی زندگی جینا شروع کر دیں۔ یا پھر اپنا ذہن استعمال کریں، اور اپنا راستہ خود متعین کریں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے دوسروں کی بات پر یقین رکھنا ہے، یا اپنے آپ پر؟
ذرا اس زندگی کا تصور کریں جس میں آپ کا رویہ دوسروں کے تابع نہیں، جس زندگی میں دوسرے آپ کو جج نہیں کر رہے۔ آپ کسی کی رائے کے محتاج نہیں۔ آپ کسی کو کنٹرول نہیں کر رہے اور کوئی آپ کو کنٹرول نہیں کر رہا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں