آپ کہاں کے صحافی ہو

دفتر سے واپسی پر ایک بیکری نما جنرل اسٹور سے گھر کے لیے چیزیں خریدتا ہوں۔ بیکری مالک خوش مزاج شخص ہیں۔ کبھی فراغت ہو تو گپ لگا لیتے ہیں۔
آج اطلاع نما سوال کیا، پھر جا رہا ہے وزیراعظم؟
میں نے کہا فی الحال تو ایسے کوئی آثار نہیں۔
کہنے لگے، "میں آپ کو اندر کی خبر دیتا ہوں۔ نوازشریف اگلے مہینے استعفیٰ دے دے گا۔اور  برطانیہ کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ایک ہفتے کے اندر اندر مستعفی ہو جائے گا۔ ”
یعنی ان صاحب کو پاکستانی وزیراعظم کےساتھ ساتھ برطانوی وزیراعظم کے ارادوں کا بھی علم ہے! میں مرعوب سا ہوا۔
پوچھنے لگے، "آپ کو پتہ ہے پانامہ لیکس کی گیم ڈالی کس نے ہے؟”
کم علمی کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہ تھا۔
فاتحانہ نظروں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگے، "شہباز شریف نے۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

صحافیوں کے الیکشن

لاہور پریس کلب کے عہدے داروں کے لیے انتخابات مال روڈ والے الحمرا میں ہونا طے پائے اور سارے ملک کو خبر بتانے والے خود ہی خبر بن بیٹھے۔
الحمرا ہال کے باہر بہت سی موٹرسائیکلوں اور خاصی تعداد میں گاڑیوں کا اژدھام ہے۔ اندر جائیں تو بھی خلقت کی خلقت امڈی پڑی ہے۔
بھانت بھانت کا صحافی موجود۔ کوئی سینوں پر پسندیدہ امیدوار کی تصویر چپکائے ہے، کوئی ہاتھوں میں پیمفلٹ تھامے ہے۔ ایک کسی مخصوص امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی حکم نما درخواست کر رہاہے، دوسرا یقین دلا رہا ہے کہ ووٹ فلاں کو ہی ڈالے گا۔
ذرا آگے جائیں تو عجیب نظارہ ہے، کہیں دھاندلی کا شور، کہیں الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کی آوازیں، کہیں پولنگ جاری رکھنے کے نعرے، کہیں جعلی ووٹر پکڑنے کے دعوے۔ غرض ایک ہڑبونگ اور بدنظمی ہے۔
اے لو، قلم کا زور لگانے والے زور بازو بھی آزمانے لگے۔ الحمرا کی ادبی بیٹھک کا دروازہ ہی اکھاڑ دیا۔ جن لوگوں نے وہ دیو قامت دروازہ دیکھ رکھا ہے، انہیں انداز ہو گیا ہو گا کہ ایسی چیزیں معمولی دھکوں سے نہیں ٹوٹتیں۔ کاش ایسے زور آور صحافی اگلے وقتوں کے بادشاہوں کو نصیب ہوتے، قلعوں کے مرکزی دروازے ایک ہی ہلے میں توڑ دیا کرتے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

قیامت کی صحافت

جب قیامت آئے گی، اور  حضرت اسرافیل صور پھونکنا شروع کریں گے ،تو پاکستان کے ٹی وی نیوز رومز میں کام کرنے والے صحافیوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔ کہ یہ آواز اجل کی ہے یا ان کے افسران کی۔
پھر قیامت آنے کی خبر چلے گی۔ ہانک لگائی جائے گی، قیامت آنے کی خبر سب سے پہلے ہمارے چینل نے دی، پھٹہ چلا دو۔ (بریکنگ نیوز کو ترکھان صفت صحافیوں نے پھٹے کا نام دے رکھا ہے۔ اسی پھٹے پر رکھ کر خبر کو قبر تک پہنچایا جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی اہم، یا غیر اہم خبر آئے، نیوزروم میں آواز لگتی ہے۔۔۔اس کا پھٹہ چلا دو، یعنی اسے بریکنگ نیوز قرار دے کر اسکرین پر انڈیل دو)۔
قیامت کی  کوریج کےلیے تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔ چونکہ واقعہ بڑا ہوگا، اس لیے رپورٹر کےساتھ ساتھ اینکر بھی فیلڈ میں بھجوا دیا جائے گا۔ وہ چیخ چیخ کر کہے گا، دیکھیے ناظرین سورج سوا نیزے پر آگیا ہے، سورج اتنا قریب ہے کہ میں اسے ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا ہوں۔۔اوئی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

بڑا صحافی بننے کے رہنما اصول

 بڑا صحافی بننے کے لیے پہلا اصول یہ ہے کہ کسی اصول، اخلاق، یا ضابطے کی پیروی نہ کریں۔
ایک  بڑے صحافی کےلیے پریشان ہونا، پریشان دکھنا اور پریشان کرنا (دوسروں کو) بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی کبھار مسکرانے کی عادت میں مبتلا ہیں تو کبھی بڑے صحافی نہیں بن سکتے۔
اضطراب کو شخصیت کا حصہ بنا لیں۔ خبر آنے پر اچھل پڑیں۔ نہ آنے پر چھلک پڑیں۔
ہر خبر کو بریکنگ نیوز سمجھیں اور اسی طرح برتیں۔
اپنے آپ کو بڑا صحافی ثابت کرنے کے لیے گاہے بگاہے دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہیں۔
لفافہ دکان سے ملے یا سیاستدان سے۔۔۔آنکھیں اور منہ بند کر کے لے لیں۔
مطالعہ۔۔۔ چاہےکتاب کا ہو، یا اخبار کا۔۔۔اجتناب برتیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مرغے لڑانے والے صحافی

بدقسمتی سے شعبہ صحافت میں ایسے حضرات کا عمل دخل بڑھ گیا ہے، جو صحافت کو بھی حماقت کا مترادف سمجھتے ہیں۔ ایسے مبینہ صحافی خبر اور اشتہار میں زیادہ فرق نہیں کرتے۔۔۔اشتہار کی طرح خبر کو بھی ناچ ناچ کر بیان کرنا چاہتےہیں۔  یہ حضرات خبر اور ڈکار کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں، یعنی دونوں کو روکا نہ جائے۔ خبر اور ڈکار ،جب اور جہاں آئے، مار دیا جائے۔
ایسے صحافی خبر بنانے، سنوارنے، اور نکھارنے پر نہیں، صرف اسے چلانے پر یقین رکھتےہیں۔ لہذا خبر میں غلطیاں تو بہت ہوتی ہیں، خبریت بالکل بھی نہیں ہوتی۔مجھے لگتا ہے، ایسے حضرات شعبہ صحافت میں آنے سے قبل مرغے لڑاتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ دماغ نہیں لڑاتے، چونچیں لڑاتےہیں، اور آخر کار خبر کو بھی مرغ کی طرح  ہلال کردیتےہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

جلد باز صحافت

لاہور میں ایک شخص پر بدفعلی میں معاونت کا الزام لگا۔ مقدمہ درج ہوا، اور ہائی کورٹ میں پیشی پڑی۔
اس خبر کی کوریج کے لیے صحافی بھی موجود تھے۔ ٹیلی وژن کے نیوز روم میں کوئی بھی خبر سب سے پہلے ٹکر کی صورت موصول ہوتی ہے (ٹی وی سکرین کے نیچے آپ خبریں ایک پٹی کی صورت چلتے دیکھتے ہیں، اسے ٹی وی صحافت کی زبان میں ٹکر کہا جاتا ہے۔ صحافی کو کوئی بھی خبر ملے، سب سے پہلے اسے سکرین پر پٹی میں چلایا جاتا ہے)۔
تو بدفعلی کا ملزم لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوا، اور ضمانت خارج ہونے پر فرار ہوگیا۔ ٹی وی پر جلد باز صحافیوں نے اس کا ٹکر یوں چلایا
۔۔۔لاہورہائی کورٹ سے بدفعلی کا ملزم فرار ہو گیا۔۔۔
ذراسوچیے، اگر تھوڑے سکون سے جملہ یوں لکھا جاتا۔۔۔بدفعلی کا ملزم لاہور ہائی کورٹ سے فرار
تو عدالت اور صحافت، دونوں کی عزت بچ جاتی
ایک جملے نے ہمیں محرم سے مجرم بنا دیا

ان کی شکایت

ہمارے ٹیلی وژن چینل پر بین الاقوامی خبروں کے لیے ایک ڈیسک ہے۔ دنیا بھر سے پاکستانیوں کی دلچسپی کی خبریں تلاش کرنا، اور اردو میں ترجمہ کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ایک زمانے میں   ڈیسک کا انچارک ایسی خاتون کو بنایا گیا جو اردو لکھنا جانتی تھیں نہ بولنا۔ کسی دوسرے ملک سے پاکستان آئی تھیں، اور انگریزی اخبار سے منسلک رہی تھیں۔ اب کام کی صورت کیا ہو؟ وہ جس خبر کو ضروری سمجھتیں، اس کے اہم حصوں کو نشان زدہ کر کے ماتحت عملے کو دے دیتیں۔  وہ ترجمہ کرتا، خاتون تصدیق کرتیں کہ نشان زدہ حصے خبر میں شامل ہیں، اور خبر فائل کر دی جاتی، جس کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو منٹ تک کا ہوتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

کیا بابو صحافی نوکری چھوڑ دے؟

بابو بچپن سے ہی صحافی بننا چاہتا تھا۔ تعلیم بھی اسی شعبے میں پائی، اور منتوں مرادوں کے بعد ایک ٹی وی چینل میں نوکری بھی مل گئی۔ بابو کو لگا اسے زندگی مل گئی ہے؛ وقت پر لگا کر اڑنے لگا اور پلک جھپکتے میں سات سال گزر گئے۔
اب بابوکے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔
بابو نے جس تنخواہ پر نوکری شروع کی تھی، سات سال بعد اس  میں  چند ہزار روپے کا ہی اضافہ  ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں، اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
بابو کو یہ بھی علم نہیں کہ اسے مزید کتنے سال اسی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

جلےبھنےاینکرکاجواب

آداب عرض کیے بغیر گزارش یہ ہے کہ آپ جو اینکروں کی اقسام اورصحافیوں کی اقسام وغیرہ قسم کےلایعنی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔۔۔ کسی مستند حکیم کی پھکی کھا لیں تو آپ کی تحریری بدہضمی میں افاقہ ہو گا۔

ہم اینکروں پر تنقید سے پہلے آپ اپنے گریبان میں جھانک لیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ جہاں صحافتی استعداد کا یہ عالم ہو کہ کراچی یا لاہور کے چھوٹے سے محلے کی ایک چھوٹی سی گلی میں پانی کھڑا ہونے کوبھی قومی خبرنامے کا حصہ بنا دیا جائے،ایسے صحافیوں کا اینکروں پر انگلی اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے چاند پر تھوکنا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

صحافیوں کی اقسام

نیوز روم میں بھانت بھانت کے صحافی پائے جاتے ہیں۔ کسی کی باتوں سے خوشبو آتی ہے، تو کسی کی سوچ بھی ماحول بدبودار بنادیتی ہے۔ کوئی روتے میں بھی ہنسی بکھیر دیتا ہے اور کسی کا قہقہہ بھی خوفزدہ کر دیتا ہے۔ کسی کو گلے لگانے کا جی چاہتا ہے، اور کسی کا گلا دبانے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے صحافیوں کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں