عمر بلال کی سال گرہ

امریکا پلٹ صحافی عمر بلال کی سالگرہ یوں تو سات دسمبر کو ہوتی ہے۔ لیکن اس کی تقریبات سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔IMG-20181208-WA0017
ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سات دن تک جشن منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ملک کے تمام شہروں کے ساتھ ساتھ نیویارک، لندن، ٹوکیو، مشرق وسطیٰ اور آسٹریلیا میں بھی تقاریب منعقد کی جاتی ہیں۔
اس موقع پر سرکاری عمارات پر چراغاں کیا جاتا ہے اور قومی پرچم سرنگوں رکھا جاتا ہے۔
عمر بلال کی بڑھتی عمر کی وجہ سے بہت زیادہ موم بتیاں جلائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے موم کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ فوری طور پر موم دوسرے ممالک سے درآمد کرتا پڑتا ہے، جس کے بعد ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اور موم بتیاں جلانے سے دنیا بھر میں آکسیجن کی قلت اور دھویں کی زیادتی ہو جاتی ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

ایسی گرل فرینڈ کسی کی نہ ہو

اپنی زندگی کے آخری دن، اٹھارہ سالہ امریکی نوجوان کانریڈ رائے کو موبائل فون پر ایک پیغام موصول ہوا
"تم کر سکتے ہو، اس بارے میں سوچو مت، بس کر گزرو!”
یہ پیغام بھیجنے والی لڑکی کانریڈ کی سترہ سالہ دوست مشیل کارٹر تھی، اور کانریڈ کو خودکشی کی ترغیب دے رہی تھی۔ اگلے روز کانریڈ کی لاش اس کی گاڑی سے ملی۔ دم گھٹنے سے اس کی موت ہو چکی تھی۔

یہ واقعہ 2014 میں پیش آیا۔ اب مشیل پر مقدمہ چل رہا ہے کہ اس نے اپنے دوست کو خودکشی پر اکسایا۔ کانریڈ کے والدین میں علیحدگی ہو چکی تھی اور وہ 2012 میں بھی خودکشی کی کوشش کر چکا تھا۔
ایک روز اس نے اپنی دوست کو موبائل پر پیغام بھیجا، "مجھے اپنے ماضی پر افسوس ہے، میں اس وجہ سے پریشان رہتا ہوں۔”
مشیل کا جواب تھا، "خودکشی کر لو۔” اس پر کانریڈ نے لکھا، "کیا مجھے کر لینی چاہیے؟”
مشیل کارٹر صاحبہ تو پکی ہی ہو گئیں، اور ہر حال میں کانریڈ کو خودکشی کرانے پر تل گئیں۔ اسے خودکشی پر اکسانے، بلکہ مجبور کرنے لگیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

سموسے اور شاباش

پاکستان سپر لیگ کا فائنل لاہور میں ہوا تو اس ہنگام ہمارے ٹیلی وژن چینل نے بھی دھوم دھام سے ٹرانسمش کی۔ اسی کی شاباش دینے کوIMG_20170309_174251 ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ لہذا نیوز روم رنگ رنگ کی لڑیوں اور غباروں سے سجایا گیا۔ خبر کو تخلیقی اور تکنیکی اعتبار سے پیش کرنے والے سبھی افراد نے رونق بخشی۔
ادھر تقریب کی تیاریاں جاری تھیں، اُدھر احباب تصویریں لے رہے تھے۔ ندیم زعیم صاحب بھی بھاری بھرکم کیمرہ اٹھائے عکاسی کرتے پھرتے تھے۔ بھانت بھانت کے لوگ سہج کر سامنے کھڑے ہوتے، یہ کھٹ سے وہ لمحہ قید کر لیتے۔
پھر بیورو سے دوستوں کی آمد شروع ہوئی۔ خبروں کے لیے جن سے روز رابطہ رہتا ہے ان سے ملاقات کا بھی اہتمام ہوا۔
رفتہ رفتہ وسیع و عریض نیوز روم یوں بھر گیا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ رہی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

معاذ مسکرائے

یہ محمد معاذ ہیں۔ ہمارے ٹیلی وژن چینل میں جو شعبہ نیوز رپورٹس تیار کرتا ہے، اس کے سربراہimg-20170302-wa0005 ہیں۔ کام سے شدید محبت کرتے ہیں۔ کام میں دیہان کا یہ عالم ہے کہ جب ہم نیوز روم میں کسی خیال پر گفتگو کر کے ان سے رجوع کرتے ہیں تو معاذ اسے پہلے ہی شروع کرا چکے ہوتے ہیں۔
انہیں کوئی کام کہہ دیا جائے تو پھر بے فکری ہو جاتی ہے، کیوں کہ وہ جان پر کھیل کر بھی پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
بہت زیادہ کام کرنے کی وجہ سے اکثر پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ مسکراہٹ چہرے سے غائب رہتی ہے۔ شام چار بجے دفتر میں ایک مجلس بلائی جاتی ہے جس میں دن بھر جلنے والی خبروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور شام کے خبر ناموں کے لیے لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے۔ اس میٹنگ سے قبل تو ان کی سنجیدگی سوا ہوتی ہے۔ سوچ کی شدت غلبہ پاتی ہے تو دونوں ہاتھوں سے اپنا ہی سر تھام لیتے ہیں۔ استغراق کا ایک عالم طاری ہوتا ہے۔ غیب سے جانے کیا کیا مضامین خیال میں آتے ہیں۔ جب تک مجلس کی کارروائی باضابطہ طور پر شروع نہ ہو یہ اسی کیفیت میں رہتے ہیں۔
ایسی ہی ایک میٹنگ میں ہمیں بھی شامل ہونے کی سعادت ملی۔ معاذ صاحب کو دونوں ہاتھوں سے سر تھامے دیکھا تو یہ لمحہ کیمرے کی آنکھ سے قید کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ ہمارا ارادہ بھانپ گئے یا ہماری سادگی پر پیار آ گیا۔۔۔ بے ساختہ تبسم فرمانے لگے۔ کچھ دیر میں تبسم مزید نمایاں ہو کر باقاعدہ قسم کی ہنسی میں ڈھل گیا۔ تصویر دیکھ کر اندازہ لگائیے کہ معاذ مسکراتے ہوئے بھی اچھے لگتے ہیں۔ اور انہیں رائے دیجیے کہ ہر وقت کی فکر اچھی بات نہیں۔
اللہ آپ کو یوں ہی ہنستا مسکراتا رکھے۔