بس دو منٹ

ہمیں ہمیشہ سے آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت ہے۔ کوئی اسائنمنٹ ملی ہو تو آخر وقت تک لٹکائے رکھتے ہیں۔ جمع کرانے میں ایک دن رہ جائے تو ہول اٹھنے لگتے ہیں ۔ تب جا کر کام شروع ہوتا ہے۔ ہر گھڑی دھڑکا لگا رہتا ہے، جیسے تیسے کر کے کام مکمل کرتے ہیں، نہ تو درست طریقے سے ناقدانہ نظر ڈال پاتے ہیں نہ ہی بہتری کے لیے کوئی وقت دے پاتے ہیں۔ بس اسائمنٹ مکمل ہوتے ہی متعلقہ فرد کے حوالے کرتے ہیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے لیے خود سے وعدہ کرتے ہیں۔
اور اگلی بار پھر ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔یعنی خیالی منصوبے تو بہت بناتے ہیں، لیکن آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت نہیں جاتی۔
ایسی ہی شش و پنج کے دوران ہمیں دو منٹ کا قانون نظر آیا۔۔۔ یہ پڑھنے کے بعد سے کافی افاقہ ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

پارک میں بیٹھا قانون شکن جوڑا

لاہور کے ریس کورس پارک میں ایک گوشہ معذور افراد کے لیے مختص ہے۔ اس کے گرد جنگلہ لگا کر حد بندی کی گئی ہے، معذور افراد کے سوا کسی دوسرے کو جانے کی اجازت نہیں۔ اب ایک تو حد بندی کی وجہ سے پارک کا یہ حصہ نکھرا نکھرا لگتا ہے، دوسرا اس میں روشیں اور کنارے لگی ترشی ہوئی جھاڑیاں نظر کو کھینچتی ہیں، تیسرا اس میں لگے جھولوں پر جھولنے کو جی چاہتا ہے۔
یوں تو ہم قانون پسند واقع ہوئے ہیں، لیکن اس روز مخصوص حصے میں ایک جوڑے کو بینچ پر خوش گپیاں کرتے اور ان کے بچوں کو جھولوں سے استفادہ کرتے دیکھا تو رہا نہ گیا۔ کینٹین کے عقب میں ایک راستہ وہاں کو جاتا تھا، وہیں سے داخل ہوگئے۔ ابھی جھولوں کی جانب بڑھے ہی تھے کہ گارڈ صاحب آن دھمکے۔ کہنے لگے یہاں آپ کو داخلے کی اجازت نہیں۔ ہم نے وہاں کھیلتے بچوں کی جانب اشارہ کرنا چاہا، لیکن اتنی دیر میں ان کی والدہ انہیں لے کر بینچ پر بیٹھے شوہر کے پاس جا چکی تھیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

قسمت اور نصیب

ننھا شاپنگ مال کے فرش پر لیٹ کر روتا تھا اور میں اپنی آگہی پر ہنستا جاتا تھا۔۔۔ دراصل میں قسمت اور نصیب کے بارے میں بحثیں سمجھ نہیں پاتا۔ جس کی خواہش ہو، وہ چیز نہ ملے تو شاکی ہو جاتا ہوں۔ روٹھ جاتا ہوں۔ اللہ جی سے گلہ کرنے لگتا ہوں۔ کوئی کہے، "ہو سکتا ہے یہی تمہارے لیے اچھا ہو، یا اسی میں تمہارا بھلا ہو،” تو اس سے بھی بھڑ جاتا ہوں۔ مجھے فلاں اسباب کی ضرورت تھی۔۔۔ اگر میرا بھلا ہی مقصود تھا تو اسی کو میرے لیے فائدہ مند بنا دیا جاتا۔ یہ کیا بات ہوئی، اتنی دعائیں بھی کرو، کوشش بھی کرو، پھر بھی دھڑکا رہے کہ منزل ملے گی یا نہیں۔
خیر، وقت نے اکثر یہی ثابت کیا کہ مجھے خواہش کے برعکس اگر کچھ ملا بھی تو بعد میں وہی بہتر ثابت ہوا۔ لیکن ہر بار نیا ارمان پالتے ہوئے گزرا سبق بھول جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

سائیکل ریس سے سیکھے سبق

ورزش کی غرض سے سائیکل پر دفتر آتے جاتے ہیں۔ اہل لاہور نے سائیکل سواری کا شغل ترک ہی کر رکھا ہے۔ چھ سے آٹھ کلومیٹر طویل سفر میں کبھی کبھار ہی کوئی دوسرا سائیکل سوار ملتا ہے۔ ایسا بھی ہوا کہ راستے میں کوئی سائیکل سوار ملا، ہم اس سے آگے نکلے، یا اس نے ہمیں اوور ٹیک کیا تو خواہ مخواہ کا مقابلہ سا شروع ہو گیا۔ ایک تو اس میں لطف رہتا ہے، دوسرا مسابقت میں راستہ نسبتاً جلدی کٹ جاتا ہے۔
اب یہ کوئی باقاعدہ ریس تو ہوتی نہیں۔ کوئی سائیکل سوار آپ کے قریب سے گزرا، آپ نے اس کی رفتار سے حسد محسوس کیا یا ایسے ہی اپنا امتحان لینا چاہا ۔۔۔ تو تیزی سے پیڈل مارتے ہوئے اس سے آگے بڑھ گئے۔ ذرا آگے جا کر آپ دھیمے پڑے یا اس نے رفتار پکڑی تو آپ سے آگے نکل گیا۔
پھر شروع ہوئی مقابلہ بازی۔ پڑھنا جاری رکھیں

آخر ہم کرنا کیا چاہتے ہیں؟

یہ وہ سوال ہے جو ہم اکثر خود سے کرتے ہیں، اور کبھی اس کا شافی جواب نہیں پاتے۔ تبھی ہم نے گوگل کی معرفت کچھ سیانوں سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔
سوال سادہ سا ہے، ایسا کیا کیا جائے جو من کو بھی بھائے اور پیسے بھی چوکھے کمائے؟ بابا گوگل نےجن بُدھی دانوں کے خیالات ہم تک پہنچائے، وہ جان کر تھوڑی مایوسی ہوئی۔ یہ عاقل کہتے ہیں کام کوئی بھی کرو، کمائی کا مت سوچو۔ بس جو جی میں آئے وہ کرو، کرتے چلے جاؤ، کمائی کی صورت آپ ہی پیدا ہو جائے گی۔
بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی!
جب تک کچھ یافت ہو گی تب تک پاپی پیٹ کا کیا بندوبست ہو؟  کوئی ٹائم فریم بھی تو ہونا چاہیے نا۔اور جی میں بھی کوئی ایک خیال تھوڑی آتا ہے۔  یہ دانا فرماتے ہیں چار پانچ مشقیں کیجیے، آپ کی زندگی کا مقصد خود سامنے آن کھڑا ہو گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا میں کامیاب ہوں؟

یار میں تنگ آ گیا ہوں۔۔۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوئے کہا۔
کس چیز سے تنگ آ گئے ہو؟ میں نے فطری سا سوال پوچھا۔
یہی نا۔۔۔ اب دیکھو یہ بھی کوئی کام ہے جو میں کر رہا ہوں۔ اسے شاید مجھ سے کسی سوال کی توقع نہ تھی۔
پھر تم کون سا کام کرنا چاہتے ہو؟ میں نے مزید دلچسپی لی۔
اس نے تھوڑا سا سوچا، جیسے کچھ سوجھ نہ رہا ہو، پھر کہنے لگا، "یار کام تو یہی ٹھیک ہے، لیکن میری تنخواہ بھی تو دیکھو۔”
یعنی تمہاری تنخواہ بڑھا دی جائے تو اسی کام میں زیادہ دلچسپی لینے لگو گے؟ میرے سوال پر اس نے اثبات میں سر تو ہلایا لیکن چہرے کے تاثرات بتاتے تھے گویا اپنی ہی بات پر یقین نہ ہو۔
جس دوست سے یہ گفتگو ہوئی وہ ایک مناسب دفتر میں مناسب تنخواہ پر کام کر رہا ہے۔ دفتر لانا اور واپس لے جانا بھی انتظامیہ کے ذمے ہے، ایک حد تک طبی سہولیات بھی ادارہ ہی فراہم کرتا ہے۔۔۔ گویا اس کی نوکری بہت سوں کے لیے بہت مثالی ہے لیکن وہ خود اس سے بھی بڑھ کر کچھ چاہتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

صرف پانچ قدم میں کامیابی

آپ زندگی میں کچھ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ آپ سے صرف پانچ قدم کی دوری پر ہے۔ جی ہاں، صرف پانچ قدم کی دوری پر۔
رابن شرما اپنی کتاب دا مونک ہو سولڈ ہز فراری میں کہتے ہیں ۔۔ آپ نے کوئی بھی مقصد حاصل کرنا ہو، پانچ قدم اٹھائیں اور کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
پہلا قدم
آپ جو بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اپنے دماغ میں اس کی ایک واضح تصویر بنائیں۔ مثلاً آپ نے وزن کم کرنا ہے۔۔ تو ہر روز اپنے آپ کو ایک پتلے دبلے شخص کے طور پر تصور کریں۔ آپ کا تصور جتنا واضح ہوگا، عمل بھی اتنا ہی واضح ہو گا۔

دوسرا قدم
آپ نے اپنے مقصد کی واضح تصویر بنا لی، اب اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنے ارادے سے پیچھے نہ ہٹیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

میرے خوابوں کا پھاٹک

ایک دبی دبی سی خواہش بچپن سے پال رکھی ہے۔ کسی دور دراز علاقے میں ایک ریلوے پھاٹک ہو، اور ہمیں اس کے نگہبان کی نوکری مل جائے۔ بس اتنی سی ڈیوٹی ہو کہ ٹرین آنے کے وقت پھاٹک بند کر دیں اور جانے کے بعد کھول دیں۔
شاید ہم ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں اس لیے ایسی خواہش دل میں سمائی۔ شاید یہ خیال کوئی کہانی پڑھتے ہوئے آیا، کچھ بھی ہو، لیکن اس نے جڑ پکڑ لی اور ہمارے ساتھ ساتھ ہی جوان ہونے لگا۔
آہستہ آہستہ اس خیال میں ہم نے اپنی خواہشوں کے رنگ بھرنا شروع کر دیے۔ ریلوے پھاٹک ایسی جگہ ہو جہاں ٹرینوں کی زیادہ آمدورفت نہ ہو۔ بند کرنے اور کھولنے کے لیے زیادہ بار اٹھنا نہ پڑے۔ اور سر چھپانے کے لیے پھاٹک نگہبان کو سرکار چھوٹی سی کوٹھری تو دے گی ہی۔ بس اسی میں پڑے رہیں گے اور کتابیں پڑھیں گے۔
جی ہاں! خوابوں کا سارا تانا بانا اسی ایک چاہ کے گرد بنا کہ کتابیں پڑھنے کے لیے ڈھیر سارا وقت میسر ہو۔ نوکری کے جھمیلے اس کی راہ میں حائل نہ ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں

دودھ کی بوتل

ماشاءاللہ سے منا بڑا ہو رہا تھا۔ اب دودھ کی چھوٹی بوتل اس کا پیٹ نہ بھرتی۔ غٹاغٹ پی جاتا اور مزید کے لیے غل مچاتا۔ ابا اماں کی نیند خراب ہوتی سو ہوتی، منا بھی بے آرام ہوتا۔ تس پر منے کے ابا نے سوچا دودھ کی بڑی بوتل لانا چاہیے، جو ایک ہی بار سیر کر دے۔
تو جناب نئی بوتل آ گئی۔ قد کاٹھ میں بڑی، پہلے سے موجود بوتلیں ٹھنگنی لگنے لگیں۔ رنگ بھی ایسا دل پذیر گویا گلاب کی پنکھڑی ہو۔ بڑے چاؤ سے اس میں دودھ ڈالا گیا اور بوتل منے کے حوالے کی گئی۔ لیکن اس بے چارے کو نئی مشکل آن پڑی۔ چھوٹی بوتل تو وہ آرام سے پکڑ لیتا تھا، یہ قابو میں ہی نہ آوے۔ ہاتھ اوپر رکھے تو پیندا جھک جاوے، پیندے سے پکڑے تو ہاتھ نہ جمے۔ دودھ پینے میں دقت ہوئی تو منا کسمسانے لگا۔ ابے نے سوچا، لے بھئی منے تو بھی کیایاد کرے گا، بوتل پکڑ لی تاکہ منا آسانی سے پیوے۔ پڑھنا جاری رکھیں

دروازے پر کھڑی گاڑی

اٹھ کر ناشتہ کرنے کے بعد گیراج میں کھڑی گاڑی، موٹرسائیکل اور سائیکل پر کپڑا مارنے کی عادت ہے۔ اس صبح دیکھا کہ دروازے کے باہر کوئی نامعقول، گاڑی یوں کھڑی کر گیا ہے کہ اپنی گاڑی نکالنا چاہیں تو ممکن نہ ہو گا۔
ہم گاڑی پر دفتر نہیں جاتے، پھر بھی اس صورتحال پر جھنجھلائے۔ یعنی کسی کو کیا حق ہمارے دروازے پر گاڑی کھڑی کرنے کا۔ اب یہ بھی معلوم نہیں کہ گاڑی کا مالک پڑوس کے کس گھر میں ہے۔ باہر نکل کر اندازہ لگانے کی کوششش کی، لیکن صبح کے چھ بجے آدم نہ آدم زاد۔ جھنجھلاہٹ بتدریج غصے میں ڈھلنے لگی۔ یاد آیا کچھ ہی دن پہلے ایک مہمان کو تڑکے اٹھ کر چھوڑنے جانا پڑا تھا۔ ایسا ہی کوئی معاملہ ہو، یا خدانخواستہ کوئی افتاد آن پڑے اور کوئی لاپرواہ شخص ہمارے گھر کے آگے اپنی گاڑی کھڑی کر جائے تو کیا بنے گا۔ ممکنات کو سوچتے سوچتے پیچ و تاب بڑھتی چلی گئی۔ بس نہیں چلتا تھا کہ گاڑی کا مالک سامنے آئے اور اسے خوب صلواتیں سنائیں۔ پڑھنا جاری رکھیں