آم ہو یا جام ہو

آپ بھی کہیں گے گھسا پٹا مضمون پھر سے باندھنے لگے۔ صاحب ہمارے سامنے تو ہزار بار آم کا ذکر آئے تو بھی جی نہ اکتائے۔ آپ کے لیے سرسوں کے پھول بہار کی علامت ہوتے ہوں گے۔ ہم تو جب ریڑھیوں پر پیلے پیلے آم رکھے دیکھتے ہیں تب سمجھتے ہیں کہ بہار آئی ہے۔
گرمیوں کی تپتی دوپہر ہو، کاٹے نہ کٹ رہی ہو۔ ایسے میں چند کلو آم میسر آجائیں تو جام کا لطف آ جائے۔
ذرا سوچیے، طرح دار، سجیلا آم کس بانکپن کے ساتھ ریڑھی پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ اوپر سے پھلوں کا بادشاہ بھی کہلاتا ہے۔ چھونے سے پہلے فرشی سلام کو جی چاہے۔ آپ ریڑھی والے سے اپنی پسند کا تلوانا چاہیں گے، وہ ہاتھ نہ لگانے دے گا۔ جھٹ پٹ چند دانے تول کر آپ کو تھما دے گا۔ گھر آ کر معلوم ہو گا، ریڑھی پر جو نکھرے نکھرے پیلے آم دیکھے تھے، ان میں سے چند ہی آپ کے حصے میں آئے ہیں، باقی کے جو ہیں وہ داغدار ہیں اور پلپلے ہیں۔

کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements