کرنٹ افیئر پروگرام کا ‘پرومو’ بنانے کا فارمولا

اگر آپ کرنٹ افیئر، یعنی حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تشہیر کے لیے بھی آپ کو ایک ویڈیو بنانا ہو گی۔ اس تشہیری ویڈیو کو میڈیا کی زبان میں پرومو کہا جاتا ہے (جو پروموشن سے نکلا ہے)۔
تو ایسا پرومو بنانے کا بہت سادہ سا فارمولا ہے۔
سب سے پہلے پروگرام کے اینکر کو شہر کی سڑکوں پر گواچی گاں کی طرح پھرتے ہوئے دکھائیں۔
اسے شہر کی کسی تاریخی یا اہم عمارت میں داخل اور خارج ہوتے دکھائیں۔ یا اینکر کو کسی بہت ہی اونچی عمارت پر لے جائیں جہاں کھڑا ہو کر وہ شہر کو غور سے دیکھے (اور دل میں سوچے کہ کہیں شاٹ بنوانے کے بعد پروڈیوسر دھکا تو نہیں دے گا)۔
اینکر کو کسی لائبریری لے جائیں، یہاں وہ کتابوں سے بھری الماری سے سب سے موٹی کتاب نکالے اور یوں پڑھنے لگے جیسے سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔
کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے نوٹس لیتے ہوئے بھی دکھائیں۔
ایسا شاٹ بھی ضروری ہے جس میں اینکر اخبار پڑھے اور کسی اہم خبر کے گرد دائرہ لگائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

سیٹھوں کے ملازم صحافی

پیارے صحافی بھائیو اور بہنو! خاکسار کے خیال میں آج کل صحافت ایک کاروبار ہے اور ہر بیوپار کی طرح اس کا بنیادی مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ اس میڈیائی بازار میں خبر ایک پراڈکٹ ہے اور صحافی اسے لانے، بنانے اور پیش کرنے والا مزدور۔ آپ کی خبر بکے گی تو کاروبار چلے گا۔
جس سیٹھ کے ہاں آپ مزدوری کرتے ہیں، وہ صحافت کے علاوہ بھی کئی کاروبار کرتا ہے۔ اور میڈیائی کاروبار کرنے کا ایک مقصد اپنے ‘دیگر’ تجارتی مفادات کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کی صحافت بھی اسی سوداگری دائرہ کار میں رہے گی۔ آپ ہر وہ خبر چلانے میں آزاد ہوں گے جس سے سودا بھی بک جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
اسی دائرے میں گھومتے ہوئے آپ نے مزدوری کرنی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

میڈیا مالکان کے نام کھلا خط

آپ ایک ٹی وی چینل کھولنے والے ہیں یا کھولے بیٹھے ہیں۔ آپ نے اس کی کامیابی کے لیے چند افراد کو بھرتی کر رکھا ہے۔ اور آپ توقع رکھتے ہیں کہ یہ افراد آپ کے چینل کو مقبولیت میں پہلے نمبر پر لے کر آئیں۔ یہ ترتیب بظاہر درست ہے۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا فیصلہ آپ کے ملازمین نے نہیں، بلکہ آپ نے خود کرنا ہے۔
آپ کا چینل کتنا بکتا ہے (ب کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھیں)، اس کا دارومدار متعدد عوامل پر ہے۔ یعنی اگر آپ صحافی سے کہیں بھیا ناظرین بھی کھینچ لاؤ، تو وہ صحافی کی بنیادی ذمہ داری نہیں۔ اس کی بنیادی ذمہ داری ایسی خبریں دینا ہے جو درست ہوں اور بہتر انداز میں ناظر تک پہنچا دی جائیں۔ اسی طرح ڈرامے کے ہدایت کار کی ذمہ داری ایک بہترین ڈرامہ بنانا ہے، اس ڈرامے کے لیے اشتہار کیسے لائیں جائیں، اسے کس دن اور کس وقت نشر کیا جائے، یہ فیصلہ ایک اور شعبے کی ہو گی۔
لہذا آپ ٹی وی چینل کھول چکے ہیں یا کھولنے والے ہیں تو چند بنیادی باتوں کا تعین آپ نے خود ہی کرنا ہو گا۔ یا ان باتوں کے تعین کے لیے علیحدہ سے کسی ملازم کو ذمہ داری دینا ہو گی۔ آپ کو خود سے چند بنیادی سوال پوچھنا ہوں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

عامر لیاقت سے پانچ سوال

عامر لیاقت صاحب۔ سنتا ہوں کہ رمضان نشریات کے بعد، اب آپ جیو پر مارننگ شو بھی "برپا” کرنے جا رہے ہیں۔یہ خبر سنی تو مجھے ایکسپریس والوں پر ترس بھی آیا، اور پیار بھی۔ جب آپ کچھ دنوں کے لیے وہاں سدھارے تھے، تو انہوں نے کتنی خوشیاں منائی تھیں۔آپ کو اپنا صدر ہی مقرر کر لیا تھا۔
آپ کی آمد کے روز بڑے سائز کا خیر مقدمی اشتہار شائع کیا گیا (اور جب تک آپ رہے، آپ کی محمودہ سلطانہ فاؤنڈیشن کے اشتہار بھی شائع ہوتے رہے)۔ایکسپریس نیوز نے رات نو بجے کے خبر نامے میں آپ کی آمد کو بریکنگ نیوزکے طور پر پیش کیا، اور آپ کا براہ راست انٹرویو لیا گیا(یہ انٹرویو آپ تحریرکے آخرمیں دیکھ سکتےہیں)۔
اس انٹرویو میں آپ نے عقل کے جو موتی بکھیرے، میں ابھی تک انہیں سمجھنے سے قاصر ہوں۔ جیو پر مارننگ شو شروع کرنے سے پہلے مندرجہ ذیل دانائی بھری باتوں کی وضاحت ضرور فرما  دیجیے گا۔ پڑھنا جاری رکھیں

کیا بابو صحافی نوکری چھوڑ دے؟

بابو بچپن سے ہی صحافی بننا چاہتا تھا۔ تعلیم بھی اسی شعبے میں پائی، اور منتوں مرادوں کے بعد ایک ٹی وی چینل میں نوکری بھی مل گئی۔ بابو کو لگا اسے زندگی مل گئی ہے؛ وقت پر لگا کر اڑنے لگا اور پلک جھپکتے میں سات سال گزر گئے۔
اب بابوکے ساتھ ایک مسئلہ ہے۔
بابو نے جس تنخواہ پر نوکری شروع کی تھی، سات سال بعد اس  میں  چند ہزار روپے کا ہی اضافہ  ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں، اور بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔
بابو کو یہ بھی علم نہیں کہ اسے مزید کتنے سال اسی تنخواہ پر کام کرنا ہوگا۔ پڑھنا جاری رکھیں

جلےبھنےاینکرکاجواب

آداب عرض کیے بغیر گزارش یہ ہے کہ آپ جو اینکروں کی اقسام اورصحافیوں کی اقسام وغیرہ قسم کےلایعنی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔۔۔ کسی مستند حکیم کی پھکی کھا لیں تو آپ کی تحریری بدہضمی میں افاقہ ہو گا۔

ہم اینکروں پر تنقید سے پہلے آپ اپنے گریبان میں جھانک لیتے تو زیادہ بہتر تھا۔ جہاں صحافتی استعداد کا یہ عالم ہو کہ کراچی یا لاہور کے چھوٹے سے محلے کی ایک چھوٹی سی گلی میں پانی کھڑا ہونے کوبھی قومی خبرنامے کا حصہ بنا دیا جائے،ایسے صحافیوں کا اینکروں پر انگلی اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے چاند پر تھوکنا۔ پڑھنا جاری رکھیں

رپورٹر اور نیوز روم، ساس بہو کا رشتہ

رپورٹر سے خبر درکار ہے۔۔۔پوچھنےپر جواب ملے گا، "بس پانچ منٹ میں آ رہی ہے۔” کئی پانچ منٹ گزر جائیں گے۔ خبر نامہ شروع ہونے والا ہے۔ پروڈیوسر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں۔ گھڑی کی سوئی آگے کو سرکتی ہے لیکن وقت رکتا محسوس ہوتا ہے۔بار بار فون کرنے پر ایک ہی جواب ہے،”بس پانچ منٹ!”۔ پروڈیوسر کی پیشانی پر پسینہ چمکنے لگا ہے۔ آخر کمپیوٹرمیں متعلقہ خبر فائل ہونے کا اشارہ ملاہے۔ پروڈیوسر نےجلدی سے خبر کھولی، کچھ بھی نہیں لکھا ہوا۔ پھر فون کیا جاتا ہے۔ جواب ملتا ہے، "خبر لکھ کر رکھ لی تھی، بس کاپی اور پیسٹ کرنی ہے، پانچ منٹ اور۔۔” خبر نامہ شروع ہونے میں چند لمحے باقی ہیں، خبر آخر کار موصول ہو جاتی ہے۔ پڑھنے پر معلوم ہوتا ہے جو خبر بیس سیکنڈ کے لیے چلنی ہے، اس کا اسکرپٹ پانچ منٹ کا لکھا گیا ہے۔ پروڈیوسر اور کاپی ایڈیٹر دل پر ہاتھ رکھتے ہیں، اور کرسی پر ڈھے جاتے ہیں۔۔۔ پڑھنا جاری رکھیں

صحافیوں کی اقسام

نیوز روم میں بھانت بھانت کے صحافی پائے جاتے ہیں۔ کسی کی باتوں سے خوشبو آتی ہے، تو کسی کی سوچ بھی ماحول بدبودار بنادیتی ہے۔ کوئی روتے میں بھی ہنسی بکھیر دیتا ہے اور کسی کا قہقہہ بھی خوفزدہ کر دیتا ہے۔ کسی کو گلے لگانے کا جی چاہتا ہے، اور کسی کا گلا دبانے کی خواہش ہوتی ہے۔ ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے صحافیوں کو مندرجہ ذیل اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

وہ جیو سے شرمندہ ہے

وہ تھکے تھکے قدموں سے ٹی وی اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
دفتر آنے سے پہلے وہ اخبار میں یہ خبر پڑھ چکا تھا۔۔۔”جیونے اہل بیت کی توہین کردی۔”
خبر پڑھتے ہی اس کا دل بیٹھ گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب یہ خبر ٹیلی وژن  پر چلانے کے لیے بھی کہا جائے گا۔اسے معلوم تھا کہ چینل سے اختلاف کو اب مذہبی رنگ دیا جائےگا۔ جیو کی حرکت بہت قابل مذمت،  یہ حرکت کرنے والوں کی بھی گرفت ہونی چاہیے، لیکن اس کی یوں تشہیر۔۔۔معاملہ کہیں آگے برھتا نظر آ رہا تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

حلیمہ کو میڈیا نے مارا

اصل کہانی پروگرام کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔۔
7جون 2013 کو ایکسپریس نیوز پر ایک پروگرام پیش کیا گیا۔ ملتان ریجن سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کھلاڑی اس پروگرام میں شریک ہوئیں اور ملتان کرکٹ کلب کے عہدے داروں پر جنسی نوعیت کے الزامات لگائے۔
پروگرام کے اینکر کرید کرید کر تفصیلات پوچھتے رہے، "ہوتا کیا ہے؟، کہتے کیا ہیں؟” جیسے سوالات کی تکرار کی گئی ، اور بار بار کی گئی۔
ایک خاتون نے بتایا کہ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ان سے کیا مطالبہ کیا گیا۔ وہ مطالبہ ایسا تھا کہ میں اسے لکھ نہیں پا رہا، البتہ وہ چینل پر دھڑلے سے نشر کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں نے ایسی باتیں بھی کیں، "پہلے یہ آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم میں لے جانے کےخواب دکھائیں گے، لیکن پھر یہ آپ کو بیڈ روم لے جائیں گے۔” پڑھنا جاری رکھیں