وہ جیو سے شرمندہ ہے

وہ تھکے تھکے قدموں سے ٹی وی اسٹیشن کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
دفتر آنے سے پہلے وہ اخبار میں یہ خبر پڑھ چکا تھا۔۔۔”جیونے اہل بیت کی توہین کردی۔”
خبر پڑھتے ہی اس کا دل بیٹھ گیا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب یہ خبر ٹیلی وژن  پر چلانے کے لیے بھی کہا جائے گا۔اسے معلوم تھا کہ چینل سے اختلاف کو اب مذہبی رنگ دیا جائےگا۔ جیو کی حرکت بہت قابل مذمت،  یہ حرکت کرنے والوں کی بھی گرفت ہونی چاہیے، لیکن اس کی یوں تشہیر۔۔۔معاملہ کہیں آگے برھتا نظر آ رہا تھا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

حلیمہ کو میڈیا نے مارا

اصل کہانی پروگرام کے بعد شروع ہوتی ہے۔۔۔
7جون 2013 کو ایکسپریس نیوز پر ایک پروگرام پیش کیا گیا۔ ملتان ریجن سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کھلاڑی اس پروگرام میں شریک ہوئیں اور ملتان کرکٹ کلب کے عہدے داروں پر جنسی نوعیت کے الزامات لگائے۔
پروگرام کے اینکر کرید کرید کر تفصیلات پوچھتے رہے، "ہوتا کیا ہے؟، کہتے کیا ہیں؟” جیسے سوالات کی تکرار کی گئی ، اور بار بار کی گئی۔
ایک خاتون نے بتایا کہ ٹیم میں شامل کرنے کے لیے ان سے کیا مطالبہ کیا گیا۔ وہ مطالبہ ایسا تھا کہ میں اسے لکھ نہیں پا رہا، البتہ وہ چینل پر دھڑلے سے نشر کر دیا گیا۔
کھلاڑیوں نے ایسی باتیں بھی کیں، "پہلے یہ آپ کو پاکستان کرکٹ ٹیم میں لے جانے کےخواب دکھائیں گے، لیکن پھر یہ آپ کو بیڈ روم لے جائیں گے۔” کو پڑھنا جاری رکھیں

ایک اینکر کی کہانی

اخبار یا ٹیلی وژن میں عموماً صحافی کام کرتے ہیں، لیکن ان دنوں ایک خلائی مخلوق نے یہاں قبضہ جما رکھا ہے۔ اس خلائی مخلوق کا صحافت سے کتنا تعلق ہوتا ہے، واضح کرنے کے لیے ایک اینکر کا قصہ کہوں گا۔ یہ صاحب اپنے ٹاک شو میں "کھچ” مارتے رہتے ہیں۔ صحافتی اصول و ضوابط سے بالکل نابلد ہیں، اس لیے تمام پروگرام ہی یکطرفہ کرتے ہیں۔
یہ فروری 2010 کی بات ہے۔حکومت اور عدلیہ چند ججز کی تقرری پر شدید اختلافات کا شکار تھی۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

میڈیائی سرکس

ایک ٹاک شوکاکچھ حصہ دیکھنےکااتفاق ہوا۔ رونا آیا کہ ہم، ہمارا معاشرہ اور ہمارا میڈیا کس زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ن لیگ کے میاں مرغوب اور ابراہیم مغل ایک ٹاک شو میں شریک تھے۔ موضوع غالباً رمضان المبارک میں حکومت کی جانب سے لگائے گئے سستے بازار تھا۔ اب میاں مرغوب تو حکومت کی نمائندگی کر رہے تھے، ابراہیم مغل صاحب خدا جانے کس کے نمائندے تھے۔ میاں مرغوب بولنے لگیں تو ابراہیم مغل انہیں بولنے نہ دیں۔ پھر جو ہوا اس کے لیے بدتہذیبی بہت ہی معمولی سا لفظ ہے۔ آپ خود ہی دیکھ لیں کو پڑھنا جاری رکھیں

میڈیاعمران خان کی کیسےمددکررہاہے؟

سات جون 2014کو عمران خان کا سیالکوٹ میں جلسہ تھا۔ اسی دن ایک اخبار اور اس کے متعلقہ ٹی وی چینل پر خبر دی گئی

این اے118: نادرا کی جانب سےسربمہر تھیلے کھول کر ووٹوں سے بھرنے کاانکشاف

page 2

خبر میں بتایا گیا کہ چیئرمین نادرا امتیاز تاجوراور ڈی جی پروجیکٹ ڈائیریکٹر نے انتہائی خفیہ اندا زمیں تھیلے کھولے، اور مزید ووٹ ڈال کر دوبارہ سربمہر کر دیے۔
این اے 118 ان چار حلقوں میں شامل ہے جن کے نتائج کے خلاف تحریک انصاف احتجاج کر رہی ہے۔ خبر کےمطابق الیکشن ٹریبیونل نے انگوٹھوں کے نشان سے ووٹوں کی تصدیق کے لیے یہ تھیلے نادرا آفس بھجوائے، جہاں نادرا حکام نے تھیلے کھول کر ان میں جعلی ووٹ بھر دیے۔ اور اس دوران سی سی ٹی وی کیمرے بھی بند رکھے گئے۔
بظاہر تو خبر بہت دھانسو ہے۔ لیکن بہت سے پہلو غور طلب بھی ہیں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں