مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

نواز شریف کا ذوق طعام

ترک صدر کی پاکستان آمد، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، اور تحریک انصاف کی جانب سے بائیکاٹ نے شاید کچھ سیاسی الجھاؤ پیدا کیا ہو، لیکن ہمیں تو کرامت اللہ غوری کی کتاب بار شناسائی میں لکھا ایک واقعہ یاد آ گیا۔
کرامت اللہ غوری سفارت کاری سے وابستہ رہے ہیں۔ دوران ملازمت پاکستان کے جن حکمرانوں سے واسطہ رہا، ان کا احوال اپنی کتاب بار شناسائی میں لکھا ہے۔ لکھتے ہیں، وہ ترکی میں بطور سفیر اپنے فرائض ادا کر رہے تھے تو جولائی 1999 میں استنبول اور گرد و نواح میں ہلاکت خیز زلزلہ آیا۔ نواز شریف اس وقت اپنی وزارت عظمیٰ کی دوسری اننگز کھیل رہے تھے۔ انہوں نے تعزیت کے لیے ترکی آنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں انہوں نے ترک حکمرانوں سے اظہار غم کیا، زلزلے سے متاثرہ علاقے دیکھے اور دل گرفتہ ہوئے۔ لیکن افسوس کی اس فضا میں بھی میاں نواز شریف کا ذوق طعام سر اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

پارلیمنٹ سے خیالی خطاب

جناب اسپیکر! میرا یقین کریں، میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا، نہ ہی کبھی کچھ ٹھیک کیا ہے۔
یہ اپوزیشن والے سارے مل کر رولا ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں سات سوال پوچھیں گے۔ اب وزیراعظم بن کر بھی میں نے سوالوں کے جواب ہی دینے ہیں۔۔۔ یہ اسمبلی ہے یا اسکول؟
تھوڑا میرے سننے میں بھی مسئلہ ہے۔ اپوزیشن اور عوام جو کہتی رہے وہ نہیں سنائی دیتا، جو دل کہتا ہے وہ صاف سنائی دیتا ہے۔ اسی کا علاج کرانے تو میں لندن گیا تھا۔ وہاں ڈاکٹروں نے بتایا، میاں صاحب، مسئلہ آپ کے کانوں میں نہیں، آپ کی نیت میں ہے۔ آپ بس ریلیکس کیا کریں۔ یہاں بھی مجھے سننے میں غلطی ہوئی، انہوں نے ریلیکس کہا، میں رولیکس لینے گھڑیوں کی دکان پر پہنچ گیا۔
لوگ ہلکی پھلکی بھوک مٹانے کے لیے ٹک کھاتے ہیں، میں تو دیگ کی دیگ ٹکا جاتا ہوں۔ ایک دن دیگ کا ڈھکن اٹھایا ہی تھا کہ نکے منڈے کا فون آ گیا۔ آپ سے کیا چھپانا، یہ معصوم بھی ہمیشہ غلط وقت پر ہی فون کرتا ہے۔ کہنے لگا ابا جی اسی پھڑے گئے آں۔۔۔ پانامہ لیک ہو گیا ہے۔ بتایا نا، میرے سننے میں مسئلہ ہے، میں نے سمجھا بے چارے کا بھکانا لیک ہو گیا ہے۔ جب اس نے ساری بات سمجھائی تو میں نے کہا "یار اس سے تو ہماری بڑی بزتی ہو گی۔” کم بخت کہنے لگا، ابا جی پہلے کون سی ہماری بڑی عزت ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

نواز اور اوباما کا تقابلی جائزہ

فوج کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کی خبر آئی تو ہیلری کلنٹن کی کتاب کے باب نمبر سات پر تھا۔ یہ باب بتاتا ہے کہ امریکا نے ایف پاک کی اصطلاح کب کیوں اورکیسے استعمال کرنا شروع کی، اور کیسے اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ یہ باب پڑھتے ہوئے خواہ مخواہ نواز شریف اور امریکی صدر کا تقابلی جائزہ لینے لگا۔ پڑھنا جاری رکھیں