بریک اپ

ہماری یونیورسٹی میں ایک ضمیر بھائی (فرضی نام) ہوا کرتے تھے۔ قد تو چھوٹا سا تھا لیکن کسرت وغیرہ کی وجہ سے ڈیل ڈول پہلوانوں والا بنا رکھا تھا۔ بات چیت بھی کرختگی سے کرتے، جو ارادتاً نہیں، عادتاً ہوتی۔ لہذا دیکھنے اور برتنے میں ضمیر بھائی خوفناک اور لڑاکا لگتے۔ واقفیت بڑھتی تو معلوم ہوتا درشتی کے سانچے میں ہم سا ہی انسان چھپا ہے۔ جو ہنستا مسکراتا ہے، قہقہے لگتا ہے، اداس بھی ہوتا ہے۔
ضمیر بھائی ہمارے روم میٹ کے دوست تھے۔ اس ناطے وہ کبھی کبھار ہمارے کمرے میں بھی آتے۔ سگریٹ پیتے، گپ لگاتے، چلے جاتے۔ ان دنوں شہر میں رہنے والوں کے لیے ہاسٹل میں رات گزارنا بڑی تفریح ہوا کرتی تھی۔ قالین بچھے ہیں، چار لوگوں کی گنجائش والے کمرے میں دس افراد ٹھنسے ہیں۔ ہاسٹل کی کینٹین سے چائے، پراٹھے، ساگ، آملیٹ، سینڈوچ۔۔۔ سبھی کچھ منگوا لیا گیا ہے۔ لگاتار قہقہے لگ رہے ہیں، درمیان میں کہیں کہیں کھانے پینے اور گفتگو کے لیے بھی وقت نکالا جا رہا ہے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں