پاک بھارت سرحد پر کھڑا علی محمد

بخدمت جناب ارباب اختیار نادرا!
مودبانہ گزارش ہے کہ زبیر اور نادیہ کو معاف کر دیا جائے۔ وہ بھول گئے تھے کہ رشتے چاہے آسمان پر طے ہوتے ہوں، لکیریں تو زمین والوں نے ہی کھینچ رکھی ہیں۔ آسمان سے تو سرحد نظر بھی نہیں آتی، لیکن دھرتی پر دیوار کی مانند ایستادہ ہوتی ہے۔ آر پار دیکھنے دیتی ہے۔۔۔ آنے اور جانے نہیں دیتی۔ زبیر اور نادیہ یہ بھی بھول گئے تھے کہ اوپر والا جوڑے تو بنا دیتا ہے، نیچے والے جڑنے نہیں دیتے۔ آسٹریلیا میں رہتے رہتے انہیں یہ خیال بھی نہ رہا کہ پاکستانی لڑکے اور ہندوستانی لڑکی کی شادی پر فلمیں بنانے والے خواب بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ فلم ختم ہو جاتی ہے، پاکستان اور بھارت کی کشیدگی ختم نہیں ہوتی۔
صاحبان نادرا! آپ کچھ دیر کے لیے زبیر اور نادیہ کو بھول جائیے۔ ان کے پانچ ماہ کے بیٹے علی محمد کی آنکھوں میں جھانکیے۔ یہ اپنی شناخت کے لیے آپ کے سرخ فیتے میں الجھ چکا ہے۔

ali-muhammad پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

کیا ڈان کو یہ خبر لگانا چاہیے تھی؟

چھ اکتوبر 2016 کو انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک خبر کیا دی، تردیدوں کا سیلاب سا آ گیا۔
خبر کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم نوازشریف، سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور دیگر سول و عسکری افسران موجود تھے۔
خبر کی تفصیل کیا بتانا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی تردید آ چکی، دوسرا ان معاملات میں محتاط رویہ ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ بس سمجھانے کو اتنا کہے دیتے ہیں کہ خبر کے مطابق سول قیادت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا خواہش نما مطالبہ کیا۔ وہ عسکریت پسند جن کے بارے میں امریکا اور بھارت اکثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ عسکری قیادت نے کہا بھئی آپ جسے چاہیں پکڑ لیجیے۔۔۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شکایت کی، "ہم کچھ مخصوص افراد کو پکڑتے ہیں تو انہیں چھڑا لیا جاتا ہے۔” پڑھنا جاری رکھیں

ہیڈ لائن

کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا۔
میں نے سرخی نکالی
کشمیریوں کے لیے پاکستانی قیادت متحد
لیکن عمران خان نے تو اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے؟
یہ سوال کھدبداتا ہوا آن کھڑا ہوا۔
میں نے ہیڈ لائن تبدیل کر دی
کشمیریوں کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت متحد

بھارت کیا سوچ رہا ہے؟

سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کے بعد ایک بات بہت واضح ہے، اس بار بھارت کے تیور کچھ بدلے بدلے ہیں۔

پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔۔۔ ایک بڑے دشمن کے مقابلے میں یہ ہتھیار پاکستانی عوام اور قیادت کو نفسیاتی تحفظ دیتے ہیں۔ بھارت کو بھی معلوم ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرے گا تو پاکستان اپنے جوہری ہتھیار کام میں لا سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے کئی موقعوں پر اس قسم کا جذباتی بیان دیا بھی جا چکا ہے کہ ایٹم بم شب برات پر پھوڑنے کے لیے تو نہیں رکھا۔
بھارت میں غالباً یہ سوچ پائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے ایک باقاعدہ جنگ کے لیے بھارت کے سامنے تو جوہری حصار باندھ دیا ہے لیکن خود وہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں کارروائیاں کرنے سے باز نہیں آ رہا۔ پڑھنا جاری رکھیں

یہ سی پیک کے خلاف سازش ہے

سائبر جرائم قانون کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ان معاملات میں بولنا کچھ عقل مندانہ روش نہیں، لیکن رزم حق و باطل ہو تو ہمارا قلم حق بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔
سوشل میڈیا پر پاک فوج کے خلاف چلائی جانے والی مہم دراصل سی پیک منصوبے کے خلاف سازش ہے۔ ایک عام سی ذہانت رکھنے والا شخص بھی اندازہ لگا سکتا ہے اس سازش کے تانے بانے کس ملک سے جا کر ملتے ہیں۔
پاک فوج ایک طرف تو دہشت گردوں کے خلاف کامیابیاں سمیٹ رہی ہے، دوسری جانب سی پیک منصوبہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہے۔
اس دوران چند تصاویر اس الزام کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہیں کہ موٹروے پولیس نے حد رفتار کی پابندی نہ کرنے پر پاک فوج کے دو افسران کو روکا۔ صرف پانچ سو روپے کے چالان سے بچنے کے لیے ان افسران نے موٹروے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی، فوج کی مزید مسلح نفری طلب کی جو مارتے پیٹتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ قلعہ اٹک لے گئے۔

جھوٹ اس تمام الزام سے یوں ٹپک رہا ہے جیسے برستی بارش میں مفلس کی چھت ٹپکتی ہے۔ پہلی بات تو یہ کہ پاک فوج آئین اور قانون کا احترام کرنے والا ادارہ ہے۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس ادارے میں کام کرنے والے آئین اور قانون کا احترام نہ کریں۔ پڑھنا جاری رکھیں

پیاسا صحافی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک صحافی بہت پیاسا تھا۔ صبح سے پریس کلب میں بیٹھا تھا لیکن اس کے ہاتھ نہ ہی کوئی معقول خبر آئی، نہ ہی ماکول و مشروب۔ پیاس کے مارے برا حال ہو گیا۔
ہوتے ہوتے دوپہر کا وقت آیا لیکن خبر ندارد۔ صبح سے اس کا ایک بھی بیپر نہ ہوا تھا۔(ٹی وی پر براہ راست انٹرویو یا خبر دینے کو تکنیکی زبان میں بیپر کہا جاتا ہے)۔ بیپر دیے بغیر اس صحافی کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگے۔ اس نے پریس کلب کے ایک سیانے صحافی سے پوچھا۔۔۔ آج تو کوئی خبر ہی نہیں مل رہی۔ سیانے صحافی نے بتایا، بیٹا خبریں تو فیلڈ میں جانے سے ملتی ہیں۔ پیاسا صحافی بے چارہ پریس کلب جانے کو ہی فیلڈ میں جانا سمجھتا تھا۔
اس نے سیانے صحافی کی بات سنی ان سنی کر کے ادھر اُدھر فون گھمانے شروع کیے لیکن کوئی کامیابی نہ ملی۔ یونہی فون سے کھیلتے کھیلتے اسے ایک پیاری سی بلی نظر آئی۔ اس نے بلی کی فوٹیج بنانا شروع کر دی۔ فوٹیج بناتے بناتے پیاسے صحافی کو یاد آیا کہ وہ تو بہت سیانا بھی ہے۔ پس اس نے اپنے نیوز روم میں یہ فوٹیج بذریعہ وٹس ایپ بھیج دی۔۔۔ ساتھ ہی سنسنی خیز خبر بھی۔۔۔ بریکنگ نیوز (وہ جب بھی نیوز روم میں کوئی خبر لکھواتا، ساتھ بریکنگ نیوز کا سابقہ ضرور لگاتا) لاہور کی ڈیوس روڈ پر بلیوں کا راج۔ حکومت قابو پانے میں ناکام ہو گئی۔
نیوز روم میں بھی بہت سے پیاسے اور سیانے صحافی بیٹھے تھے۔ وہ صبح سے خبریں چلا چلا کر ہلکان ہو چکے تھے لیکن پیاس ختم ہونے میں آ رہی تھی نہ ہی ذہانت۔
تھوڑی ہی دیر بعد دنیا نے ٹی وی پر بریکنگ نیوز چلتے دیکھی
لاہور میں بلیوں کا راج، حکومت کہاں ہے؟
اور فوٹیج میں ایک معصوم سی بلی کھمبا نوچتے دکھائی دے رہی تھی۔

پارلیمنٹ سے خیالی خطاب

جناب اسپیکر! میرا یقین کریں، میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا، نہ ہی کبھی کچھ ٹھیک کیا ہے۔
یہ اپوزیشن والے سارے مل کر رولا ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں سات سوال پوچھیں گے۔ اب وزیراعظم بن کر بھی میں نے سوالوں کے جواب ہی دینے ہیں۔۔۔ یہ اسمبلی ہے یا اسکول؟
تھوڑا میرے سننے میں بھی مسئلہ ہے۔ اپوزیشن اور عوام جو کہتی رہے وہ نہیں سنائی دیتا، جو دل کہتا ہے وہ صاف سنائی دیتا ہے۔ اسی کا علاج کرانے تو میں لندن گیا تھا۔ وہاں ڈاکٹروں نے بتایا، میاں صاحب، مسئلہ آپ کے کانوں میں نہیں، آپ کی نیت میں ہے۔ آپ بس ریلیکس کیا کریں۔ یہاں بھی مجھے سننے میں غلطی ہوئی، انہوں نے ریلیکس کہا، میں رولیکس لینے گھڑیوں کی دکان پر پہنچ گیا۔
لوگ ہلکی پھلکی بھوک مٹانے کے لیے ٹک کھاتے ہیں، میں تو دیگ کی دیگ ٹکا جاتا ہوں۔ ایک دن دیگ کا ڈھکن اٹھایا ہی تھا کہ نکے منڈے کا فون آ گیا۔ آپ سے کیا چھپانا، یہ معصوم بھی ہمیشہ غلط وقت پر ہی فون کرتا ہے۔ کہنے لگا ابا جی اسی پھڑے گئے آں۔۔۔ پانامہ لیک ہو گیا ہے۔ بتایا نا، میرے سننے میں مسئلہ ہے، میں نے سمجھا بے چارے کا بھکانا لیک ہو گیا ہے۔ جب اس نے ساری بات سمجھائی تو میں نے کہا "یار اس سے تو ہماری بڑی بزتی ہو گی۔” کم بخت کہنے لگا، ابا جی پہلے کون سی ہماری بڑی عزت ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

مجھے تلہ گنگ سے بچاؤ

وقار ملک بھائی۔ آپ تو بڑے لیکھک ہو۔
کچھ تو اس گتھی کو سلجھاؤ۔
مجھے تلہ گنگ سے بچاؤ۔
یہ مجھ پر جادو کرتا ہے۔ چھیڑتا ہے مجھ کو۔
جب میں تلہ گنگ جاتا ہوں تو یہ گاڑی کو پر لگا دیتا ہے، مگر واپسی پر گاڑی ریس ہی نہیں پکڑتی۔ ہر موڑ پر آہستہ ہو جاتی ہے۔ میں بیک ویو مرر پر دیکھتا ہوں تو مجھے واپس بلاتا ہے۔ میرے حلق میں گولا سا پھنسا دیتا ہے۔ باہر سب سوکھا ہوتا ہے، لیکن گاڑی کی ونڈ شیلڈ دھندلا جاتی ہے۔ سڑک کنارے کھڑا ہر درخت اپنی بانہیں پھیلا دیتا ہے۔ اب آپ ہی کہو وقار بھائی، میں کس کس درخت سے لپٹوں۔
اور تو اور، یہ لاہور میں بھی میرے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے۔ جب نہر کنارے لگے کسی درخت کو سڑک کی چوڑائی پر قربان ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے تلہ گنگ کی دھریک یاد آ جاتی ہے۔ بتاؤ نا وقار بھائی ایسا کیوں ہوتا ہے۔
وقار بھائی۔ آپ تو خود تلہ گنگ کے ہو۔ مجھے بتاؤ نا۔ یہ تلہ گنگ جادو گر تو نہیں ہے؟ میں جب لاہور میں نل کھول کر دانت صاف کرتا ہوں تو یہ اپنی بارانی زمین اور زیر زمین پانی کی معدوم ہوتی سطح کے ساتھ میرے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ مجھے نل کھول کر دانت نہیں صاف کرنے دیتا۔ جب لاہور میں کوئی اپنی گاڑی پانی کا پائپ لگا کر دھوتا ہے تو یہ تلہ گنگ مجھے شاکی نظروں سے دیکھنے لگتا ہے۔ کہتا ہے بتاؤ ان لوگوں کو کہ پانی ضائع نہ کریں۔ یہاں لاہور میں بھی زیر زمین پانی کی سطح کوئی اتنی تسلی بخش نہیں۔ یہاں تمہاری گاڑی تو دھل جائے گی لیکن تلہ گنگ میں گلے سوکھ جائیں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

آپ کہاں کے صحافی ہو

دفتر سے واپسی پر ایک بیکری نما جنرل اسٹور سے گھر کے لیے چیزیں خریدتا ہوں۔ بیکری مالک خوش مزاج شخص ہیں۔ کبھی فراغت ہو تو گپ لگا لیتے ہیں۔
آج اطلاع نما سوال کیا، پھر جا رہا ہے وزیراعظم؟
میں نے کہا فی الحال تو ایسے کوئی آثار نہیں۔
کہنے لگے، "میں آپ کو اندر کی خبر دیتا ہوں۔ نوازشریف اگلے مہینے استعفیٰ دے دے گا۔اور  برطانیہ کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ایک ہفتے کے اندر اندر مستعفی ہو جائے گا۔ ”
یعنی ان صاحب کو پاکستانی وزیراعظم کےساتھ ساتھ برطانوی وزیراعظم کے ارادوں کا بھی علم ہے! میں مرعوب سا ہوا۔
پوچھنے لگے، "آپ کو پتہ ہے پانامہ لیکس کی گیم ڈالی کس نے ہے؟”
کم علمی کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہ تھا۔
فاتحانہ نظروں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگے، "شہباز شریف نے۔” پڑھنا جاری رکھیں

میڈیا مالکان کے نام کھلا خط

آپ ایک ٹی وی چینل کھولنے والے ہیں یا کھولے بیٹھے ہیں۔ آپ نے اس کی کامیابی کے لیے چند افراد کو بھرتی کر رکھا ہے۔ اور آپ توقع رکھتے ہیں کہ یہ افراد آپ کے چینل کو مقبولیت میں پہلے نمبر پر لے کر آئیں۔ یہ ترتیب بظاہر درست ہے۔ لیکن اس سے بھی پہلے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کا فیصلہ آپ کے ملازمین نے نہیں، بلکہ آپ نے خود کرنا ہے۔
آپ کا چینل کتنا بکتا ہے (ب کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھیں)، اس کا دارومدار متعدد عوامل پر ہے۔ یعنی اگر آپ صحافی سے کہیں بھیا ناظرین بھی کھینچ لاؤ، تو وہ صحافی کی بنیادی ذمہ داری نہیں۔ اس کی بنیادی ذمہ داری ایسی خبریں دینا ہے جو درست ہوں اور بہتر انداز میں ناظر تک پہنچا دی جائیں۔ اسی طرح ڈرامے کے ہدایت کار کی ذمہ داری ایک بہترین ڈرامہ بنانا ہے، اس ڈرامے کے لیے اشتہار کیسے لائیں جائیں، اسے کس دن اور کس وقت نشر کیا جائے، یہ فیصلہ ایک اور شعبے کی ہو گی۔
لہذا آپ ٹی وی چینل کھول چکے ہیں یا کھولنے والے ہیں تو چند بنیادی باتوں کا تعین آپ نے خود ہی کرنا ہو گا۔ یا ان باتوں کے تعین کے لیے علیحدہ سے کسی ملازم کو ذمہ داری دینا ہو گی۔ آپ کو خود سے چند بنیادی سوال پوچھنا ہوں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں