ہر پاکستانی کی ڈائری

حسب معمول دفتر کے لیے لیٹ ہو ں، موٹرسائیکل کی چابی اٹھاتا ہوں تو نظر ساتھ رکھے ہیلمٹ پر بھی پڑتی ہے۔
میں سر جھٹکتا ہوں، قانون اور ہیلمٹ دونوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے باہر نکل جاتا ہوں۔
آگے  ٹریفک کا سرخ اشارہ میرا منہ چڑارہا ہے۔ ہارن بجا بجا کر اپنے آگے کھڑے لوگوں کو دائیں بائیں سرکنے پر مجبور کرتا ہوں، اتنی دیر میں اشارہ سبز ہو جاتا ہے۔لگتا ہے میرے علاوہ ہر شخص اسی چوک پر قیام کا ارادہ لے کر گھر سے نکلا ہے، میں ہارن پر ہاتھ رکھتا ہوں اور آسمان سر پر اٹھا لیتا ہوں۔
اگلا اشارہ بھی سرخ ہے، لیکن میرے سے آگے کوئی گاڑی نہیں، لہذا آسانی سے اسے کاٹ دیتا ہوں۔ میری وجہ سے ایک گاڑی کو اچانک بریک لگانا پڑتے ہیں، ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی خاتون کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکراتا ہے، گاڑی والا کھڑکی سے سر نکال کر کچھ کہتا ہے۔ میں کچھ نہیں سنتا،آگے بڑھ جاتا ہوں۔ کو پڑھنا جاری رکھیں