مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، پڑھنا جاری رکھیں

بد بو کی جنگ

جنگ عظیم دوئم کا قصہ ہے۔ فرانسیسی مزاحمت کار جرمن قبضے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ایسے میں امریکا نے انہیں انوکھا ہتھار فراہم کیا۔ یہ بارود نہیں، بد بو پھینکتا تھا۔ مزاحمت کار چوری چھپے کسی جرمن افسر پر بد بو کی پھوار پھینک دیتا۔ مقصد یہ تھا کہ جرمن افسر سبکی محسوس کریں اور یوں قابض فوجوں کا حوصلہ پست کیا جائے۔
تاہم ہتھیار کا استعمال کچھ دیر ہی چلا۔ وجہ یہ تھی کہ جرمن افسر پر بد بو پھینکے والا مزاحمت کار خود بھی اسی سڑانڈ میں نہا جاتا۔ تقریباً دو ہفتے بعد اس متعفن اسلحے کا استعمال ترک کر دیا گیا۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ تعفن کی جنگ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ مخالف پر گندگی پھینکیں گے تو بد بو کی لپٹیں آپ سے بھی اٹھیں گی۔

دھرنا ڈائری: دوسرا اور آخری صفحہ

pti-girls-dance-in-islamabad-dharnaآفس سے کال آئی آپ نے دھرنا کوریج کے لیے اسلام آباد جانا ہے۔ ہمیں خوشی اور تشویش ایک ساتھ ہوئی۔ خوشی ایک مختلف ذمہ داری ملنے کی تھی، تشویش اس بات کی کہ خدا جانے یہ دھرنا کب تک چلے۔ کتنے دن کا زاد راہ ساتھ رکھیں، اسلام آباد کا موسم کیسا ہو گا، گرم کپڑے نکالنے ہیں تو الماری کے بالائی خانے پھرولنا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔
2014 کے دھرنے میں بھی اسلام آباد بھیجے گئے تھے، نیوز روم کی چار دیواری سے نکل کر فیلڈ میں جانے سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ خبر نشریاتی رابطے کے بجائے اپنی آنکھ سے بنتے دیکھی تھی۔ کئی تجربات جو نیوز روم میں سات سال گزار کر نہ ہوئے وہ فیلڈ میں رہتے ہوئے سات دن میں ہو گئے تھے۔
شادمانی کے غبارے سے کچھ ہوا اس وقت نکلی جب بتایا گیا اسلام آباد جا کر بھی ہمارا پڑاؤ بیورو آفس میں ہی ہو گا۔ سوچے بیٹھے تھے کہ میدان جنگ میں جو کچھ بیتے گا، اس کی داستان کہیں گے، یہاں ہمیں پچھلے مورچوں میں بٹھا دیا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

فوجی کی بیٹی

27 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں پولیس نے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے کئی کارکن گرفتار کر لیے۔ کارروائی کا شکار ایک کارکن سماویہ طاہر بھی تھیں۔ لیڈی پولیس اہلکار نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو گتھم گتھا ہو گئیں، اہلکار کی وردی نوچی، واقعے کی فوٹیج میں سنا جا سکتا ہے کہ کوئی مرد سماویہ کو چھوڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اتنی دیر میں ایک پولیس اہلکار آتا ہے اور خود سماویہ کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار پہلے تو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہوتی، لیکن بار بار کہنے پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لیتی ہے۔
میڈیا بھی اس موقع پر موجود ہے۔ سماویہ طاہر پولیس کو برا بھلا کہتی ہوئے یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں: پڑھنا جاری رکھیں

ہیڈ لائن

کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا۔
میں نے سرخی نکالی
کشمیریوں کے لیے پاکستانی قیادت متحد
لیکن عمران خان نے تو اس اجلاس کا بائیکاٹ کر رکھا ہے؟
یہ سوال کھدبداتا ہوا آن کھڑا ہوا۔
میں نے ہیڈ لائن تبدیل کر دی
کشمیریوں کے لیے پاکستان کی سیاسی قیادت متحد

پارلیمنٹ سے خیالی خطاب

جناب اسپیکر! میرا یقین کریں، میں نے کبھی کچھ غلط نہیں کیا، نہ ہی کبھی کچھ ٹھیک کیا ہے۔
یہ اپوزیشن والے سارے مل کر رولا ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں سات سوال پوچھیں گے۔ اب وزیراعظم بن کر بھی میں نے سوالوں کے جواب ہی دینے ہیں۔۔۔ یہ اسمبلی ہے یا اسکول؟
تھوڑا میرے سننے میں بھی مسئلہ ہے۔ اپوزیشن اور عوام جو کہتی رہے وہ نہیں سنائی دیتا، جو دل کہتا ہے وہ صاف سنائی دیتا ہے۔ اسی کا علاج کرانے تو میں لندن گیا تھا۔ وہاں ڈاکٹروں نے بتایا، میاں صاحب، مسئلہ آپ کے کانوں میں نہیں، آپ کی نیت میں ہے۔ آپ بس ریلیکس کیا کریں۔ یہاں بھی مجھے سننے میں غلطی ہوئی، انہوں نے ریلیکس کہا، میں رولیکس لینے گھڑیوں کی دکان پر پہنچ گیا۔
لوگ ہلکی پھلکی بھوک مٹانے کے لیے ٹک کھاتے ہیں، میں تو دیگ کی دیگ ٹکا جاتا ہوں۔ ایک دن دیگ کا ڈھکن اٹھایا ہی تھا کہ نکے منڈے کا فون آ گیا۔ آپ سے کیا چھپانا، یہ معصوم بھی ہمیشہ غلط وقت پر ہی فون کرتا ہے۔ کہنے لگا ابا جی اسی پھڑے گئے آں۔۔۔ پانامہ لیک ہو گیا ہے۔ بتایا نا، میرے سننے میں مسئلہ ہے، میں نے سمجھا بے چارے کا بھکانا لیک ہو گیا ہے۔ جب اس نے ساری بات سمجھائی تو میں نے کہا "یار اس سے تو ہماری بڑی بزتی ہو گی۔” کم بخت کہنے لگا، ابا جی پہلے کون سی ہماری بڑی عزت ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

آپ کہاں کے صحافی ہو

دفتر سے واپسی پر ایک بیکری نما جنرل اسٹور سے گھر کے لیے چیزیں خریدتا ہوں۔ بیکری مالک خوش مزاج شخص ہیں۔ کبھی فراغت ہو تو گپ لگا لیتے ہیں۔
آج اطلاع نما سوال کیا، پھر جا رہا ہے وزیراعظم؟
میں نے کہا فی الحال تو ایسے کوئی آثار نہیں۔
کہنے لگے، "میں آپ کو اندر کی خبر دیتا ہوں۔ نوازشریف اگلے مہینے استعفیٰ دے دے گا۔اور  برطانیہ کا وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون ایک ہفتے کے اندر اندر مستعفی ہو جائے گا۔ ”
یعنی ان صاحب کو پاکستانی وزیراعظم کےساتھ ساتھ برطانوی وزیراعظم کے ارادوں کا بھی علم ہے! میں مرعوب سا ہوا۔
پوچھنے لگے، "آپ کو پتہ ہے پانامہ لیکس کی گیم ڈالی کس نے ہے؟”
کم علمی کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہ تھا۔
فاتحانہ نظروں سے مجھے دیکھ کر کہنے لگے، "شہباز شریف نے۔” پڑھنا جاری رکھیں

جماعت اسلامی کامسئلہ کیاہے؟

جماعت اسلامی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملکی مسائل کا حل جہاد اور قتال فی سبیل اللہ میں سمجھتی ہے۔ یعنی اگر ملک میں تعلیم کی کمی ہے، آلودگی ہے، شہری تہذیب سے عاری ہیں، سرعام تھوکتے ہیں، راہ چلتے گندگی پھیلاتے ہیں، پھلوں کے چھلکے سڑک پر پھینک دیتے ہیں، دیوار کے پاس بیٹھ کر رفع حاجت کرتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، اپنا کام ایمانداری سے نہیں کرتے، ملاوٹ کرتے ہیں،کم تولتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں، دوسروں کا حق مارتے ہیں،ملکی وسائل کا غلط استعمال کرتےہیں، پانی ضائع کرتے ہیں، زور زور سے ہارن بجاتے ہیں، قانون پر عمل نہیں کرتے، نقل کرتے ہیں، سفارش کرتے ہیں اور کراتے ہیں، حق دار کو حق نہیں دیتے، تو ان تمام مسائل کا حل تعلیم و تربیت میں نہیں، جہاد اور قتال میں ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں