راہوالی کی قلفیاں

اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جائیں تو گوجرانوالہ سے ذرا پہلے راہوالی آتا ہے۔ یہاں سے گزرتے ہوئے آپ کو سڑک کنارے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر بہت سے بزرگوں کی تصویریں نظر آئیں گی۔ پہلے پہل آپ توجہ نہیں دیں گے، لیکن تصویروں کا سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔ پھر آپ غور کریں گے کہ تمام تصویریں بظاہر تو ایک شخص کی نظر آتی ہیں لیکن ہر ایک کی صورت کچھ کچھ مختلف ہے۔ سر پر ٹوپی، سفید داڑھی لیکن چہرے کا سانچہ کچھ مختلف۔ کہیں داڑھی ذرا لمبی ہے، کہیں ٹوپی فرق ہے، کہیں عینک لگا رکھی ہے، کہیں صورت کے گرد نور کا پھیلاؤ کچھ زیادہ ہے۔ اب آپ تصویروں کے دائیں بائیں اوپر نیچے لکھی عبارت بھی پڑھیں گے۔ تب معلوم ہو گا یہ تصویریں تو قلفی بیچنے والوں نے لگا رکھی ہیں، اپنی ہی قلفی کو راہوالی کی اصلی، یا ‘المشہور’ یا مستند قلفی کے دعوے کے ساتھ۔
آپ گاڑی کی رفتار کچھ آہستہ کریں گے تو معلوم ہو گا بینرز پر ٹنگے بزرگوں میں سے زیادہ تر کا نام سلمان نام ہے۔ کہیں صرف سلمان، کہیں محمد سلمان، کہیں صوفی سلمان۔۔۔ اور کہیں اس سے ملتے جلتے نام، جیسے کہ سبحان۔ ایک آدھ استثنیٰ سید پیر مرتضیٰ جیلانی کے نام کی صورت بھی سامنے آیا۔

کہیں یہ دعویٰ کہ راہوالی کی پرانی قلفی تو سلمان ہی کی ہے، کہیں یہ استغاثہ کہ محمد سلمان ہی اصلی قلفی والے ہیں کہیں یہ اصرار کہ راہوالی کی مشہور قلفی تو صوفی سلمان صاحب کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں پیش کرتا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں