زرداری کی کہانی، ہاشوانی کی زبانی

1983 کی رات ساڑھے گیارہ بجے صدر الدین ہاشوانی کو ایک کال موصول ہوئی۔
"سر ہوٹل کے ڈسکو میں جھگڑا ہو گیاہے۔” دوسری جانب میریٹ ہوٹل کراچی کے جنرل مینیجر تھے۔
جنرل مینیجرنے بتایا کہ دو افراد لڑ پڑے ہیں، اور ان کے گروہوں نے اسلحہ نکال لیا ہے۔ ہوٹل کے ڈسکو میں فائرنگ ہورہی ہے، بھگدڑ مچ گئی ہے۔صدرالدین ہاشوانی نےحکم دیا،  محافظوں سے کہہ کر ان افراد کو باہر پھینک دیا جائے۔
اس رات، لڑنے والے دو افراد میں سے ایک آصف زرداری تھے۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements