تم میرے مقروض ہو راشد

یہ اسی شام کا ذکر ہے جب ہم اپنی تنخواہ بڑھنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ آخری بار تںخواہ بڑھے کئی سال گزر چکے تھے، اور اس بار افواہ سی تھی کہ روایت توڑ دی جائے گی، اب کی بار پگار ضرور بڑھائی جائے گی۔
اوروں کا تو نہیں معلوم، ہم تو ہمہ وقت اس گھڑی کے بارے میں سوچتے جب مہینے کے آخر میں اضافہ شدہ تنخواہ ملے گی۔ جانے وہ اضافہ کتنا ہو گا؟ کئی سال ایک ہی تنخواہ پر کام کرنے کی کسر نکلے گی یا اونٹ کے منہ میں زیرہ ہو گا؟ کہیں جو ہماری کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا تو الٹا تنخواہ کم نہ کر لی جائے؟ غرض، دن اسی اُدھیڑ بن میں گزرتا اور رات اسی شش و پنج میں کٹتی۔
جاگتی آنکھوں سے کبھی خواب دیکھتے کہ تنخواہ بے تحاشا بڑھ گئی ہے اور بینک اکاؤنٹ میں پھولے نہیں سما رہی۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements