میرا پنیر کہاں گیا

ایک جگہ پر چار لوگ رہتے تھے، ان میں سے دو چوہے تھے۔۔اور دو انہی جتنے چھوٹے چھوٹے انسان ۔۔چوہوں کے نام تھے سنف اور سکری اورانسانوں کے نام تھے ہیم اور ہاء۔۔۔
چاروں روزانہ اپنے کھانے کے لیے پنیر تلاش کرتے
چوہے چونکہ بے عقل تھے، اس لیے انہیں جس قسم کا پنیر مل جاتا وہ کھا لیتے
انسان چونکہ عقل مند تھے، انہیں ایک خاص قسم کے پنیر کی تلاش تھی۔ ان کا خیال تھا وہ خاص پنیر ملا تو ہی انہیں خوشی ملے گی۔
سنف اور سکری منہ اٹھا کر چل پڑتے۔ کہیں پنیر مل جاتا اور کہیں ناکامی ملتی۔
ہیم اور ہا خاص قسم کا پنیر تلاش کرنے کے منصوبے بناتے رہتے اور ناکامی پر بہت اداس ہو جاتے
آخر ایک دن چاروں کو ایک جگہ ملی۔۔۔ جہاں پنیر کا خزانہ پڑا تھا پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

بارہ عادتیں جو کامیاب بنائیں

سیانے کہتے ہیں کامیاب ہونا مشکل نہیں ہے، بس اپنے اندر کامیاب لوگوں والی عادتیں پیدا کرنا ہوں گی۔ سیانوں کی یہ بات ہم تک انٹرنیٹ کے ذریعے پہنچی، اور انٹرنیٹ کے ذریعے ہی ہم نے کامیاب لوگوں کی عادتوں کا کھوج لگایا۔
معلوم ہوا، کہ کامیاب لوگ اپنا (1) ہدف مقرر کرتے ہیں۔
(2) کامیاب لوگوں کی سوچ واضح ہوتی ہے۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے وہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے خیالات کو ایک واضح سمت دینے کے لیے وہ اپنے اہداف ایک کاغذ پر (یا کمپیوٹر پر) لکھ لیتے ہیں۔ منصوبے پر عمل سے پہلے وہ لکھ کر اس کی جزئیات پر خوب غور کرتے ہیں۔ یعنی کے منصوبہ کیا ہے، کیا ہدف حاصل کرے گا اور یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرنا ہوں گے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بس دو منٹ

ہمیں ہمیشہ سے آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت ہے۔ کوئی اسائنمنٹ ملی ہو تو آخر وقت تک لٹکائے رکھتے ہیں۔ جمع کرانے میں ایک دن رہ جائے تو ہول اٹھنے لگتے ہیں ۔ تب جا کر کام شروع ہوتا ہے۔ ہر گھڑی دھڑکا لگا رہتا ہے، جیسے تیسے کر کے کام مکمل کرتے ہیں، نہ تو درست طریقے سے ناقدانہ نظر ڈال پاتے ہیں نہ ہی بہتری کے لیے کوئی وقت دے پاتے ہیں۔ بس اسائمنٹ مکمل ہوتے ہی متعلقہ فرد کے حوالے کرتے ہیں اور آئندہ ایسا نہ کرنے کے لیے خود سے وعدہ کرتے ہیں۔
اور اگلی بار پھر ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔یعنی خیالی منصوبے تو بہت بناتے ہیں، لیکن آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادت نہیں جاتی۔
ایسی ہی شش و پنج کے دوران ہمیں دو منٹ کا قانون نظر آیا۔۔۔ یہ پڑھنے کے بعد سے کافی افاقہ ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ملازم پیشہ لوگو! اپنے آپ سے سوال کرو

ہم صحافی ویسے تو سوال پوچھتے بھی ہیں، اور سوال اٹھاتے بھی ہیں، لیکن اپنے آپ سے کچھ بنیادی سوال کبھی نہیں کرتے۔ جب فہرست بنائی تو احساس ہوا، ہر ملازم پیشہ آدمی خود سے یہ سوال ضرور کرے:
کیا مجھے اپنی محنت کامناسب صلہ مل رہا ہے؟
دفتر میں بہت سے لوگ میرے سے بہت کم کام کرتے ہیں، پھر ان کی تنخواہ میرے برابر، یا مجھ سے زیادہ کیوں ہے؟
کیا اس نوکری میں میرے لیےترقی کے واضح مواقع ہیں؟
کیا اس ادارے میں ترقی کا کوئی واضح طریقہ کار وضع کیا گیا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں