خود سے چار معاہدے کرو۔۔۔اور اپنی زندگی جیو

ہم اکثر پرفیکشن یا تکمیل کا ایک تصور قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر ساری زندگی اس تصور کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ ہم پرفیکٹ (مکمل ) اس لیے نظر آنا چاہتے ہیں تاکہ لوگ ہمیں تسلیم کریں۔ خود کو دوسروں کی نظر سے دیکھتےہیں۔  اسی خودساختہ پرفیکشن کی  عینک سے ہم دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں اور ان سے بھی پرفیکٹ ہونے کی توقع کرتے ہیں۔
خود کو دوسروں سے تسلیم کراتے کراتے ہم اپنی زندگی جینا چھوڑ دیتے ہیں۔
اب آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ یا تودوسروں کے نظریات کے آگے ہار مان لیں اور ان کی جیسی زندگی جینا شروع کر دیں۔ یا پھر اپنا ذہن استعمال کریں، اور اپنا راستہ خود متعین کریں۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے دوسروں کی بات پر یقین رکھنا ہے، یا اپنے آپ پر؟
ذرا اس زندگی کا تصور کریں جس میں آپ کا رویہ دوسروں کے تابع نہیں، جس زندگی میں دوسرے آپ کو جج نہیں کر رہے۔ آپ کسی کی رائے کے محتاج نہیں۔ آپ کسی کو کنٹرول نہیں کر رہے اور کوئی آپ کو کنٹرول نہیں کر رہا۔ کو پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements