ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

Advertisements

مقدس پانی کب ملے گا؟

صبح پانچ بجے سفر کا آغاز کیا تو اندازہ نہ تھا دھند یوں آن دبوچے گی۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے موٹر وے کا راستہ پکڑا تو بادل سے آ گئے۔ سوچا کسی فیکٹری کا دھواں ہو گا۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو پھر سب صاف۔ اس سے پہلے گھر سے نکلنے اور اسٹور سے خریداری کے بعد معمولی سا حادثہ کرا بیٹھے تھے۔ گاڑی میں چار پانچ نفوس بیٹھیں تو سردیوں میں شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ پیچھے موجود کھمبا نظر ہی نہ آیا۔ تصادم کے بعد اتر کر دیکھا تو زیادہ نقصان نہ تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔
خالی ٹینکی کے باوجود اطمینان تھا کہ موٹر وے ٹال پلازے سے پہلے ایک پیٹرول پمپ ہے۔ لیکن دھند کا ایسا ہلہ آیا کہ پیٹرول پمپ نظر ہی نہ آیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

بادشاہ کی قبر پر زرد روشنی

مقبرہ جہانگیر کے داخلی دروازے پر بیٹھے شخص نے ٹکٹ کے پیسے تو وصول کر لیے، لیکن ٹکٹ نہ دی۔کہنے لگا، آپ ٹینشن نہ لیں، اندر چلے جائیں۔ ہمیں ٹینشن تو بہت ہوئی، یہ پیسے وہ حکومت کو پہنچانے کے بجائے اپنی جیب میں ڈالے گا۔ جہانگیر زندہ ہوتا تو ہم اسی وقت زنجیر عدل کھینچ دیتے۔
اندر پختہ روش پر نوجوانوں کی ٹولیاں کرکٹ میچ کھیل رہی ہیں۔ تاریخی عمارت میں جا بجا تاریخ لکھی ہے۔ کہیں کہیں فون نمبر بھی لکھے ہیں۔ جو کوئی آیا ہے، عمارت کی دیوار کو وزیٹرز بک سمجھ کر اپنے تاثرات رقم کر گیا ہے۔
میں نورالدین جہانگیر کی قبر پر خاموش کھڑا ہوں۔ دربان چھت کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے، یہ فانوس 1901 میں لگایا گیا۔ میں اوپر دیکھتا ہوں، 1901 کے فانوس میں فلپس کا ساٹھ واٹ کا بلب، بادشاہ کے جاہ و جلال پرمریل سی   روشنی بکھیر رہا ہے۔
واپسی پر وہی دربان میری طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے، شاید اپنی معلومات کے عوض کچھ رقم چاہتا ہے۔ جہانگیر زندہ ہوتا تو اسے موتیوں سے لاد دیتا، میں نظریں بچا کر نکل جاتا ہوں۔ پڑھنا جاری رکھیں