لیدر جیکٹ والی میری بیٹی! سلامت رہو

Arooj Aurangzeb

آپ اور آپ کے ساتھی لاہور کے فیض میلے میں انقلابی نعرے لگا رہے تھے۔ بہت سےلوگوں کی طرح ویڈیو میں نے بھی دیکھی۔ سرفروشی کی تمنا،شوق شہادت کی پکار، ایشیا کو سرخ کرنے کی للکار۔ میرے اندر کے عملیت پرست ادھیڑ عمر آدمی نے سر جھٹک کر مسکراتے ہوئے آپ کو اور ان نعروں کو مسترد کرنا چاہا۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکا۔
آپ سب مجھے بہت اچھے لگے۔
آپ کے نعرے۔ وہ نعرے لگانے کا انداز۔ ان نعروں سے جھانکتی امید۔ بسمل عظم آبادی کی نظم۔ اس نظم سے جھلکتی بغاوت۔ نظم پڑھنے والوں کے لہجوں میں موجود عزم۔ سب ہی کچھ کتنا اچھا تھا۔ اتنا اچھا تھا کہ کچھ دیر کے لیے تو میں یہ سوچنا بھی بھول گیا کہ ایشیا سرخ ہو گا، لال لال لہرائے گا تو ہوش ٹھکانے آئے گا۔۔ان سب باتوں کا مطلب کیا ہے؟ آپ کے نظریات کیا ہیں؟
اتنی سی ویڈیو سے معلوم بھی کیا ہوتا ہے۔ لیکن اتنی سی ویڈیو یہ ضرور بتاتی ہے کہ آپ لوگ اپنی ایک سوچ رکھتے ہیں۔ اس سوچ کا اظہار کرنا جانتے ہیں۔ آپ کی سوچ انقلابی ہے، تاثرات انقلابی ہیں ۔آپ لوگوں میں جوش ہے، ولولہ ہے، امنگ ہے۔ اور یہ سب بہت خوش کن بات ہے۔
نوجوانوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔عزم، ارادہ، اپنی ایک الگ سوچ، کچھ کر گزرنے کا ولولہ ، تبدیلی کی نیت۔ یہ سب آپ کو اپنی عمر کے اکثر نوجوانوں سے مختلف بناتا ہے۔ اسی لیے مجھے اچھے لگے ۔
پھر آپ لوگوں کے بارے میں خبریں آئیں۔ معلوم ہوا کہ آپ طلبہ یونین پر عائد پابندیاں ختم کرانا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ایک اکٹھ کا اہتمام بھی کر رہے ہیں۔ یعنی آپ کے پاس باقاعدہ ایک ارادہ ہے۔ ایک منزل ہے۔ اس منزل کو پانے کی جستجو ہے۔جستجو کے لیے کوئی راہ بھی متعین کر لی ہے۔ بھئی بہت ہی زبردست۔
آپ طلبہ سیاست کے حامی ہو۔ اچھی بات ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی طلبہ سیاست زیادہ ذمہ دار ہوگی۔ طلبہ سیاست کی آڑ میں آپ جمعیت والوں کی طرح غنڈہ گردی نہیں کریں گے۔دھونس نہیں جمائیں گے۔ دیگر مظاہرین کی طرح راستے بند نہیں کریں گے۔ کسی کو تنگ نہیں کریں گے۔ املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔
میری دعائیں اور نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
اس وقت جو آپ سوچ رہےہیں ، ضرور کر گزریے۔ لیکن دیکھیں، پلیز پلیز پلیز، یہ شوق شہادت ، سرفروشی وغیرہ صرف نعروں میں اچھی لگتی ہے۔ جدوجہد ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ اگر آپ نے ذمہ دارانہ سیاست کرنی ہے، تو پر امن رہنا ہوگا۔ زندہ رہنا ہو گا۔ تبھی تو جدوجہد جاری رہے گی۔ ٹھیک! اب آگے بڑھتے ہیں۔
آپ یقیناًعملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہوں گے۔ یا رکھنے والے ہوں گے۔ نوکریاں اور گھر بار کی ذمہ داریاں آپ سے خراج وصول کریں گی۔آپ اس سے بھاگ نہیں سکتے۔ بھاگنا چاہیے بھی نہیں۔ اس وقت،نعرے نہیں، آپ کی پیشہ ورانہ قابلیت ہی آپ کے کام آئے گی۔
میں مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا، امکان کی حد تک بات کرتا ہوں کہ انقلاب، شاید آپ اپنے معاشرے میں نہ لا سکیں۔یا لے بھی آئے تو بجلی کے بل کی جگہ انقلاب جمع نہیں کرا پائیں گے۔
ہاں آج آپ نے جو نصب العین اپنا ہے، اس کی مدد سے آپ اپنے اردگرد رہنے والوں کی زندگی ضرور خوب صورت بنا سکتے ہیں۔اپنے آدرشوں کو عملی زندگی میں برتیے گا۔ جب آپ کسی ادارے کے افسر بنیں، تو اپنے ماتحت کا استحصال نہ کیجیے گا، اس سے اونچی آواز میں بات نہ کیجیے گا۔ اگر آپ نے گھر میں کام کے لیے کوئی ملازم رکھاتو اس سے عزت سے پیش آئیے گا۔ اسے تنخواہ بروقت ادا کیجیے گا۔ وہ کسی بیماری کی وجہ سے چھٹی کر لے تو اس کی تنخواہ نہ کاٹیے گا۔ معاشرے کے طبقات آپ ختم نہ بھی کر سکے، لیکن خود کو کسی سے برتر نہ سمجھیے گا۔
ایشیا سرخ ہو گیا تو چلیں، اچھی بات ہو گی۔ لیکن اگر نہ ہو سکا تو بھی کوئی بات نہیں۔ ناکامیوں سے دل برداشتہ نہیں ہونا۔خود بھی خوش رہیں، جو افراد آپ سے منسلک ہیں، انہیں بھی خوش رکھیں۔
اللہ آپ کو اور آپ کے جذبوں کو سلامت رکھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s