دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

Advertisements

بد بو کی جنگ

جنگ عظیم دوئم کا قصہ ہے۔ فرانسیسی مزاحمت کار جرمن قبضے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ایسے میں امریکا نے انہیں انوکھا ہتھار فراہم کیا۔ یہ بارود نہیں، بد بو پھینکتا تھا۔ مزاحمت کار چوری چھپے کسی جرمن افسر پر بد بو کی پھوار پھینک دیتا۔ مقصد یہ تھا کہ جرمن افسر سبکی محسوس کریں اور یوں قابض فوجوں کا حوصلہ پست کیا جائے۔
تاہم ہتھیار کا استعمال کچھ دیر ہی چلا۔ وجہ یہ تھی کہ جرمن افسر پر بد بو پھینکے والا مزاحمت کار خود بھی اسی سڑانڈ میں نہا جاتا۔ تقریباً دو ہفتے بعد اس متعفن اسلحے کا استعمال ترک کر دیا گیا۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ تعفن کی جنگ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ مخالف پر گندگی پھینکیں گے تو بد بو کی لپٹیں آپ سے بھی اٹھیں گی۔

صرف ایک شرط پر

ریڈرز ڈائجسٹ پر ایک کہانی پڑھی جس نے دل پر دستک دی۔ آپ بھی پڑھیے
پیٹر اپنی بیوی میری آن سے بہت محبت کرتا تھا۔ 1972 میں انہوں نے جرمنی میں بس نما گاڑی خریدی اور سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ دونوں محبت کی سرمستی میں گھومتے پھرے۔ کچھ سال جنوبی افریقہ قیام کیا اور پھر آسٹریلیا آن بسے۔ اس دوران ان کی بس نما گاڑی بھی ان کے ساتھ ساتھ رہی۔

img542-what-was-then-rhodesia-on-our-wedding-day
آسٹریلیا بسنے کے بعد خاندان میں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا۔ پیٹر اور میری آن نے پیار سے اپنی گاڑی کا نام شوئن رکھا۔ شوئن جرمن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘اچھا’
شوئن پر انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آسٹریلیا بھر کے سفر کیے اور خوبصورت یادیں اکٹھی کیں۔
2009 میں پیٹر کی بیگم میری آن چل بسیں۔ پیٹر ریٹائر بھی ہو چکے تھے اور بوڑھے بھی۔ اس وقت انہوں نے شوئن کو فروخت کرنے کا سوچا۔
جب پیٹر شوئن فروخت کرنے کا سوچ رہے تھے، ایلسی اور ڈومینیک شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور گھومنے پھرنے میں زندگی بتانا چاہتے تھے۔ ایلسی کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کے پاس ایک ‘خوشیوں بھری بس’ ہو جس پر سوار ہو کر وہ نئی دنیاوّں کی سیر کرے۔ آن لائن اشتہار دیکھتے ہوئے اسے شوئن کے بارے میں معلوم ہوا اور دونوں کا اس گاڑی پر دل آگیا۔
وہ شوئن کو دیکھنے پیٹر کے گھر گئے۔ اسے اپنے شوق کے بارے میں بتایا اور شوئن کو بھی دیکھا۔ شوئن انہیں پسند تو بہت آئی لیکن اس کی قیمت 39 ہزار ڈالر تھی، جسے ادا کرنا جوڑے کے بس میں نہ تھا۔
دکھی دل کے ساتھ ایلسی اور ڈومینیک لوٹ آئے۔
کچھ دن بعد ایلسی کو پیٹر کی کال آئی۔ اس نے شوئن پر ایک اور نظر ڈالنے کی درخواست کی۔
پیٹر نے انہیں بتایا کہ دو خریدار شوئن کو منہ مانگی قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں، لیکن یہ خریدار بس اشیاء جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ وہ شوئن کا خیال تو رکھیں گے لیکن شوئن کو ایک سجاوٹ کی چیز کے طور پر کھڑا کیے رکھیں گے۔ وہ کسی شیڈ یا گیراج میں پڑی رہے گی۔
پیٹر نے ان سے پوچھا، وہ شوئن کی کیا قیمت دے سکتے ہیں؟
ڈومینیک نے کہا، وہ تو بمشکل آدھی رقم دے پائیں گے۔
پیٹر نے بھیگی آواز میں کہا، مجھے یہ پیشکش قبول ہے، لیکن صرف ایک شرط پر۔ آپ وعدہ کریں کہ مہم جوئی پر نکلیں گے۔ اور جب آپ کے بچے ہو جائیں گے تو اپنی مہمات پر انہیں بھی ساتھ لے جایا کریں گے۔
اب شوئن آسٹریلیا میں گھومتی پھرتی ہے اور ایلسی اور ڈومینیک کے لیے خوبصورت یادیں تخلیق کرتی ہے

yorke-p-campfire-2-700

ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

جانا کراچی اور دیکھنا جیو کا دفتر

IMG-20180123-WA0023.jpgمحمد جنید دو کام کرتے ہیں۔ ایک تو جیو پر خبریں پڑھتے ہیں۔ اور جب خبریں نہیں پڑھ رہے ہوتے تو دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ فلاں کیسے چلتا ہے، کیسے بولتا ہے، کیسے اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کیا پہنتا ہے؛ جنید کوئی نہ کوئی سقم یا عیب دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ویسے مہربان آدمی ہیں۔ دوسروں کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری شادی پر بھی تشریف لائے تھے۔ اور ہمیں ایسا موقع دینے پر تاحال تیار نہیں۔ ہماری دوستی کا بار اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کی خامیاں نظر انداز کر کے انہیں عزیز مانتے ہیں۔ (واضح رہے، لفظ ‘بار’ کا استعمال ہم نے اپنی شخصیت کے لیے کیا ہے، جسامت کے لیے نہیں)
ہم کراچی گئے تو انہوں نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ ملنے پہنچے تو معلوم ہوا دفتر والوں نے انہیں کرسی سے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکا رکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد جنید بہت زیادہ بولتے ہیں، اور جو بولتے ہیں وہ تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں۔ لہذا دفتر والوں نے یہی حل سوچا ہے کہ خبریں پڑھوانے کے بعد ان کے منہ پر ٹیپ لگا کر کرسی سے باندھ دیا جائے۔

خیر ہماری منت سماجت پر ان کی بندشیں ختم کی گئیں۔ انہوں نے آزاد ہوتے ہی ہاتھ میں جھاڑو تھام لیا اور کہا، اسٹوڈیو کی صفائی ٹھیک نہیں۔ دس منٹ بعد دائیں کونے میں جمع کوڑا بائیں کونے میں سمیٹ دیا اور فاتحانہ انداز میں کہنے لگے، اسے کہتے ہیں صفائی۔
اسی دوران جیو کے وجیہ اینکر وجیہ ثانی بھی آن پہنچے۔ ایک مشہور بلاگر اور نام نہاد صحافی کو اپنے درمیان پا کر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک جانب جنید اور دوسری جانب وجیہ صاحب کھڑے ہوئے۔ دو اسمارٹ لوگوں کی خاطر ہم نے بھی سانس کھینچ کر پیٹ سمیٹ لیا اور تصویر بنوائی۔

IMG-20180123-WA0013.jpg
اس کے بعد ہم شاہزیب خانزادہ صاحب اور ان کی ٹیم سے ملے۔ اور انہیں اچھا پروگرام کرنے کے لیے مفید ٹپس دیں۔

IMG-20180123-WA0016.jpg

جیو والے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اینکر رکھنے کی ضد کرنے لگے۔ آزمائشی طور پر وہاں بٹھا بھی دیا جہاں کئی مایہ ناز اینکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جیو والوں کی منت سماجت پر ہم دو سو روپے فی خبر نامہ کے عوض خبریں پڑھنے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اتنی دیر میں تمام عملہ ہماری قابلیت اور لیاقت سے واقف ہو چکا تھا۔ جیو والوں نے حساب لگایا کہ ہمیں دو سو روپے دے کر خبریں پڑھوائی جائیں اور اس کے بعد عملے اور ناظرین کے لیے پیناڈول کا بندوبست بھی کیا جائے تو ایک بلیٹن دو کروڑ روپے کا پڑے گا۔ لہذا بہت اچھی سی چائے پلا کر ہمیں رخصت کر دیا گیا۔
جاتے جاتے ہم نے دیکھا، جنید کو دوبارہ کرسی سے باندھا جا رہا تھا۔

عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی

ایک بٹ کی مدح میں

media-20171220تصویر میں بائیں ہاتھ قیصر بٹ صاحب ہیں (دائیں ہاتھ خاکسار خود ہے)۔ چینل میں ہماری بھرتی کے بعد پہلا ڈی جی پی آر کارڈ انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ ارے بھائی ہم کہاں جھنجھٹ پالتے ہیں پاسپورٹ سائز تصویر رکھنے کا، متعلقہ دستاویز، ان کی فوٹو کاپیز، حکام کی تصدیق، شعبہ ہیومن ریسورس کی مہر۔۔۔ کون کرائے یہ سب۔ پھر ان چیزوں کو پہنچانا الگ قضیہ۔ ان الجھنوں کا حل قیصر بٹ صاحب ہیں۔ آپ کو بس تصویر اپنی کھنچوانی ہے، دستاویز یہ آپ کو کہہ کہہ منگوا چھوڑیں گے، باقی کے بکھیڑے یہ خود سمیٹیں گے۔ کارڈ بن گیا تو ڈی جی پی آر کے دفتر سے وصول کر کے آپ تک پہنچائیں گے اور پھر ریلوے کارڈ بنوانے پر اصرار ہو گا۔ فائدے آپ کے ہیں، ہلکان یہ ہوں گے۔
الغرض، ساتھیوں کی خدمت میں خوش رہتے ہیں۔ ان کی پریشانی میں پریشان ہوتے ہیں۔ جب تک ہماری شادی نہ ہوئی تھی، یہ فکر مند رہتے۔ نہ جانے کس خدشے پر کئی بار ہمیں ان حکیموں کے رابطہ نمبر بھی دیے جن سے استفادہ کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہمیں یہ فکر دامن گیر ہو گئی کہ ہمیں باپ بنانے کے چکر میں خود حاملہ نہ ہو جائیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی مدد کے لیے ہر حد کو جائیں گے۔ اور کسی صلے کی تمنا نہ رکھیں گے. شاید دوستوں کی دعاؤں کا اثر ہے کہ ہم سے دس سال زیادہ عمر کے ہونے کے باوجود کم عمر نظر آتے ہیں۔ ان کے سر کے بال جب کہ ہمارے صرف اعمال سیاہ ہیں۔ اب اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے قیصر بٹ صاحب پریس کلب الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلوں پر تو پہلے ہی ان کا راج ہے، انشاءاللہ دوستوں کی محبت ووٹ بن کر بٹ صاحب کے نام سے بکسے بھر دے گی۔ ووٹ اور اسپورٹ سبھی قیصر بٹ کے نام

کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”

انصاف اور پلاٹ

14 اکتوبر 17 کے روزنامہ دی نیوز میں  خبر چھپی ہے جس کا عنوان ہے اپنے کیس کے خود ہی منصف۔ خبر کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کے لیے اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنائی جا رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ اسکیم کے لیے نہ صرف زمین خریدی جائے بلکہ حکومت ہی وہاں ترقیاتی کام بھی کرائے۔ واضح رہے کہ کسی نجی اسکیم کے لیے زمین کی خریداری حکومت کا کام نہیں۔
ویب سائٹ پاکستان 24 ڈاٹ ٹی وی بھی اس بارے میں خبر دے چکی ہے۔ 11 اگست 17 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق وکیل چاہتے ہیں کہ پلاٹ کا رقبہ ایک کنال سے کسی صورت کم نہ ہو۔ اب اسلام آباد میں ہزاروں وکیلوں کے لیے ہزاروں کنال جگہ کہاں سے آئے؟ خبر کے مطابق عدالت عالیہ نے زمین ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی ڈالی ہے۔ حکومت نے رہائشی اسکیم کےلیے جو جگہ تجویز کی وہاں پہلے ہی لوگ رہائش پذیر ہیں (دی نیوز کے مطابق یہ تعداد بارہ ہزار ہے)۔ خبر کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کیس سن رہے تھے اور ججوں نے کھل کر سرکاری افسران پر وکیلوں کے لیے زمین حاصل کرنے کا دباؤ ڈالا۔ مجوزہ زمینوں کے مالکان بھی کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایک متاثرہ زمین مالک نے کھڑے ہو کر کہا، وکیلوں کے پلاٹوں کے لیے ہم اپنے گھر کیوں گرانے دیں؟ اس دن تو ججز نے خاموش رہ کر یہ بات سن لی لیکن اگلے روز پولیس اہلکاروں نے متاثرہ زمین مالکان کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔ خبر کے مطابق، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اہلکاروں سے کہا، اگر زمین حاصل کرنے میں تاخیر کی گئی تو سرکاری اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
اندازہ کریں۔ وکیلوں کی زمین کے لیے سرکاری اہلکاروں کو توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ وکیلوں کا خیال کیا گیا، ان کی وجہ سے جو بارہ ہزار افراد اپنے ٹھکانوں سے بے دخل ہوں گے، ان کا کیا ہو گا؟
چند ہزار وکیلوں کےلیے ہزاروں افراد کی چھت چھیننے کے اس منصوبے میں عدالت کی کیا دلچسپی ہے، اور کیا مفاد ہے؟
دی نیوز کی خبر کہتی ہے وکیلوں کی اس ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی کرنے والوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پچیس جج صاحبان شامل ہیں۔
دی نیوز کی خبر کے مطابق ایک ایسے جج صاحب بھی یہ کیس سنتے رہے جنہوں نے مجوزہ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی بھی کر رکھا تھا۔ گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔ دی نیوز نے خبر میں سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فیصلے سے جج کو معمولی سا مالی فائدہ بھی ہو تو وہ جج نااہل ہو گا۔ چاہے یہ ثابت نہ بھی ہو کہ فیصلہ مالی فائدے کی وجہ سے دیا گیا۔
انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی عدالت حکومت کو ایک ایسا کام کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے جو حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ حکومت سرکاری منصوبوں کےلیے تو زمین حاصل کر سکتی ہے لیکن نجی منصوبے کے لیے ایسا کرنے کا کیوں کہا جا رہا ہے؟ اور سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسکیم کےلیے مجوزہ زمین میں پہلے سے رہائش پذیر بارہ ہزار لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟

سہمی سہمی ایک تصویر

IMG_20171012_203920جس وقت ہم نے حجام کے آگے سر تسلیم خم کیا، اس وقت دکان میں رکھے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ زلف تراش کی نظریں اور ہمارے کان ڈرامے پر تھے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ گھر میں نئی آنے والی بہو ملازماؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی، حجام کا انہماک بھی بڑھ رہا تھا (ڈرامے میں)۔ ڈرامے کے معاملات میں تیزی آئی تو ہمارے سر پر چلتی قینچی کی ‘کھچ کھچ’ بھی تیز ہوتی گئی۔
گویا پہلے قینچی کی تال کچھ یوں تھی۔۔۔ کھچ کھچ کھڑچ، کھچ کھچ کھڑچ۔ کھڑچ کی آواز تب آتی جب قینچی ہمارے بالوں کی کسی لٹ پر حملہ آور ہوتی اور اسے کاٹ پھینکتی۔ بعد میں تال یوں ہوتی گئی۔۔۔ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ۔ سین جذباتی ہو جاتا تو قینچی کی لے یوں ہوتی۔۔۔ کھچ کھچا کھچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچا کھڑچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچ کھچ کھچ۔۔۔ ڈرامے کے مرکزی کردار کو غصہ آتا تو قینچی کہتی۔۔۔ کھڑچ کھڑچ کھڑچ کھچ۔
یعنی کہیں تو قینچی ہوا میں غیر موجود بالوں پر بھی تلوار کی طرح پھر گئی اور کہیں ہمارے کان کاٹتے کاٹتے رہ گئی۔
جب کہانی عین کلائیمکس پر پہنچ گئی تو حجام نے ہاتھ میں موجود قینچی چھوڑ کر استرا پکڑ لیا۔ ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ قلمیں تراشنے کو اٹھنے والا استرا کہیں سر ہی قلم نہ کر دے، اس فکر میں ڈرامہ لکھنے والے بنانے والے اور چلانے والے کو خوب کوسا۔ جس وقت گھبرا کر ہم نے آنکھیں بند کیں اس وقت سامنے شیشے میں اپنے جیسا ایک ہیولا خزاں رسیدہ زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا اور اشتہار شروع ہوئے تو ہم نے آنکھیں کھولیں۔ اعضاء تو سب سلامت تھے، البتہ بالوں کی سفیدی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے حجام کی دکان میں ٹی وی پر پابندی لگا دی جائے۔ بلکہ ووٹ بھی اسی سیاسی جماعت کو دیں گے جو ہمارے مطالبے کو قانون بنائے گی۔
قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ تصویر میں جو ہم گھبرائے گھبرائے نظر آتے ہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھی جائے۔