کھوتے اور گینڈے کی کہانی

20171024230126_IMG_0928ایک دفعہ کا ذکر ہے، کھوتا اور گینڈا ایک گھر میں رہنے لگے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں تو کھوتے نے اپنی شناخت مٹانے کے لیے رنگ روغن کرا لیا اور خود کو زیبرا کہلوانے لگا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اسے کھوتا ہی کہتے۔
اب ہوا یوں کہ کھوتا روزانہ وزن ڈھوتا اور گینڈا شام ڈھلے تھوڑا بہت گھاس پھونس دے کر اس کا پیٹ بھر دیتا۔ کچھ وقت گزرا تو گینڈے کو محسوس ہوا گھر بیٹھے بیٹھے اس کا وزن بڑھنے لگا ہے۔ لہذا اس نے ورزش کرنے کا سوچنا شروع کر دیا۔ اب روز روز ورزش کے لیے کون گھر سے باہر نکلے، گینڈے نے گھر میں ہی چہل قدمی شروع کر دی۔ کبھی کبھار دل کرتا تو اچھل پھاند بھی کر لیتا۔
گینڈے کی ان حرکتوں سے ایک مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ جب اچھلتا، گھر میں بڑا سا ٹویا پڑ جاتا۔ کھوتے کو باہر سے مٹی لا لا کر یہ ٹوئے بھرنے پڑتے۔ لوگ باتیں بناتے تو کھوتا کہتا، "میں ٹوئے بھرنے کی جنگ میں گینڈے کے ساتھ ہوں۔ میں اپنے گھر میں پڑنے والے ٹوئے بھر رہا ہوں، لوگوں کو کیا تکلیف ہے؟” لوگ کہتے کہ بھائی جان! کھوتے اور گینڈے کے ایک گھر میں رہنے کی تک ہی نہیں بنتی۔ لیکن کھوتا ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا۔
ایک دن گینڈے کو کچھ زیادہ ہی ورزش آئی ہوئی تھی۔ اس نے اچھل اچھل کر گھر اتھل پتھل کر دیا۔ اتنے گہرے گڑھے بن گئے کہ کھوتا ان کو بھرتے بھرتے خود دھنس گیا۔ جب دھنسے ہوئے کھوتے نے مدد کے لیے گینڈے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا، "ڈو مور!”

Advertisements

انصاف اور پلاٹ

14 اکتوبر 17 کے روزنامہ دی نیوز میں  خبر چھپی ہے جس کا عنوان ہے اپنے کیس کے خود ہی منصف۔ خبر کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ممبران کے لیے اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ اسکیم بنائی جا رہی ہے۔ اور سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ ہدایات دے رکھی ہیں کہ اسکیم کے لیے نہ صرف زمین خریدی جائے بلکہ حکومت ہی وہاں ترقیاتی کام بھی کرائے۔ واضح رہے کہ کسی نجی اسکیم کے لیے زمین کی خریداری حکومت کا کام نہیں۔
ویب سائٹ پاکستان 24 ڈاٹ ٹی وی بھی اس بارے میں خبر دے چکی ہے۔ 11 اگست 17 کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق وکیل چاہتے ہیں کہ پلاٹ کا رقبہ ایک کنال سے کسی صورت کم نہ ہو۔ اب اسلام آباد میں ہزاروں وکیلوں کے لیے ہزاروں کنال جگہ کہاں سے آئے؟ خبر کے مطابق عدالت عالیہ نے زمین ڈھونڈنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر ہی ڈالی ہے۔ حکومت نے رہائشی اسکیم کےلیے جو جگہ تجویز کی وہاں پہلے ہی لوگ رہائش پذیر ہیں (دی نیوز کے مطابق یہ تعداد بارہ ہزار ہے)۔ خبر کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار یہ کیس سن رہے تھے اور ججوں نے کھل کر سرکاری افسران پر وکیلوں کے لیے زمین حاصل کرنے کا دباؤ ڈالا۔ مجوزہ زمینوں کے مالکان بھی کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ ایک متاثرہ زمین مالک نے کھڑے ہو کر کہا، وکیلوں کے پلاٹوں کے لیے ہم اپنے گھر کیوں گرانے دیں؟ اس دن تو ججز نے خاموش رہ کر یہ بات سن لی لیکن اگلے روز پولیس اہلکاروں نے متاثرہ زمین مالکان کو عدالت کی عمارت میں داخل ہونے سے ہی روک دیا۔ خبر کے مطابق، کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے سرکاری اہلکاروں سے کہا، اگر زمین حاصل کرنے میں تاخیر کی گئی تو سرکاری اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔
اندازہ کریں۔ وکیلوں کی زمین کے لیے سرکاری اہلکاروں کو توہین عدالت کی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔ وکیلوں کا خیال کیا گیا، ان کی وجہ سے جو بارہ ہزار افراد اپنے ٹھکانوں سے بے دخل ہوں گے، ان کا کیا ہو گا؟
چند ہزار وکیلوں کےلیے ہزاروں افراد کی چھت چھیننے کے اس منصوبے میں عدالت کی کیا دلچسپی ہے، اور کیا مفاد ہے؟
دی نیوز کی خبر کہتی ہے وکیلوں کی اس ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی کرنے والوں میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے پچیس جج صاحبان شامل ہیں۔
دی نیوز کی خبر کے مطابق ایک ایسے جج صاحب بھی یہ کیس سنتے رہے جنہوں نے مجوزہ اسکیم میں پلاٹ کے لیے اپلائی بھی کر رکھا تھا۔ گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔ دی نیوز نے خبر میں سپریم کورٹ کے ہی ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فیصلے سے جج کو معمولی سا مالی فائدہ بھی ہو تو وہ جج نااہل ہو گا۔ چاہے یہ ثابت نہ بھی ہو کہ فیصلہ مالی فائدے کی وجہ سے دیا گیا۔
انصاف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی عدالت حکومت کو ایک ایسا کام کرنے کا حکم صادر کر رہی ہے جو حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ حکومت سرکاری منصوبوں کےلیے تو زمین حاصل کر سکتی ہے لیکن نجی منصوبے کے لیے ایسا کرنے کا کیوں کہا جا رہا ہے؟ اور سوال تو یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اسکیم کےلیے مجوزہ زمین میں پہلے سے رہائش پذیر بارہ ہزار لوگ انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟

سہمی سہمی ایک تصویر

IMG_20171012_203920جس وقت ہم نے حجام کے آگے سر تسلیم خم کیا، اس وقت دکان میں رکھے ٹی وی پر ڈرامہ چل رہا تھا۔ زلف تراش کی نظریں اور ہمارے کان ڈرامے پر تھے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ گھر میں نئی آنے والی بہو ملازماؤں کے ساتھ بدسلوکی کرتی ہے۔ جیسے جیسے کہانی آگے بڑھ رہی تھی، حجام کا انہماک بھی بڑھ رہا تھا (ڈرامے میں)۔ ڈرامے کے معاملات میں تیزی آئی تو ہمارے سر پر چلتی قینچی کی ‘کھچ کھچ’ بھی تیز ہوتی گئی۔
گویا پہلے قینچی کی تال کچھ یوں تھی۔۔۔ کھچ کھچ کھڑچ، کھچ کھچ کھڑچ۔ کھڑچ کی آواز تب آتی جب قینچی ہمارے بالوں کی کسی لٹ پر حملہ آور ہوتی اور اسے کاٹ پھینکتی۔ بعد میں تال یوں ہوتی گئی۔۔۔ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ کھچ کھڑچ۔ سین جذباتی ہو جاتا تو قینچی کی لے یوں ہوتی۔۔۔ کھچ کھچا کھچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچا کھڑچ کھچ۔۔۔ کھچ کھچ کھچ کھچ۔۔۔ ڈرامے کے مرکزی کردار کو غصہ آتا تو قینچی کہتی۔۔۔ کھڑچ کھڑچ کھڑچ کھچ۔
یعنی کہیں تو قینچی ہوا میں غیر موجود بالوں پر بھی تلوار کی طرح پھر گئی اور کہیں ہمارے کان کاٹتے کاٹتے رہ گئی۔
جب کہانی عین کلائیمکس پر پہنچ گئی تو حجام نے ہاتھ میں موجود قینچی چھوڑ کر استرا پکڑ لیا۔ ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ قلمیں تراشنے کو اٹھنے والا استرا کہیں سر ہی قلم نہ کر دے، اس فکر میں ڈرامہ لکھنے والے بنانے والے اور چلانے والے کو خوب کوسا۔ جس وقت گھبرا کر ہم نے آنکھیں بند کیں اس وقت سامنے شیشے میں اپنے جیسا ایک ہیولا خزاں رسیدہ زرد پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا اور اشتہار شروع ہوئے تو ہم نے آنکھیں کھولیں۔ اعضاء تو سب سلامت تھے، البتہ بالوں کی سفیدی مزید بڑھ چکی تھی۔ اب ہمارا مطالبہ ہے حجام کی دکان میں ٹی وی پر پابندی لگا دی جائے۔ بلکہ ووٹ بھی اسی سیاسی جماعت کو دیں گے جو ہمارے مطالبے کو قانون بنائے گی۔
قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ تصویر میں جو ہم گھبرائے گھبرائے نظر آتے ہیں، اس کی وجہ کچھ اور نہ سمجھی جائے۔

حادثہ ہو گیا

ایک سڑک سے بائیں ہاتھ دوسری سڑک کو مڑے تو پیچھے آنے والے موٹرسائیکل سوار نے بائیں جانب سے ہی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ ہماری گاڑی ابھی موڑ کاٹ ہی رہی تھی کہ وہ ہم سے آن ٹکرائے۔ ٹکر کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار، ان کی اہلیہ اور تین بچے گر گئے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر اہلیہ تھیں، ابھی تربیتی لائسنس ملا تھا، اور گاڑی چلانے کی مشق جاری تھی۔ شاید موڑ کاٹنے کے بعد ان سے گاڑی بروقت سیدھی نہ ہوئی اور حادثہ پیش آیا،  یہ سوچ کر ہم نے موٹرسائیکل سوار، ان کے بچوں اور اہلیہ سے معذرت کی۔
وہ صاحب الجھنے لگے کہ اگر کوئی سنجیدہ نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ ہم نے بارہا معذرت کی، لیکن وہ یہی کہتے گئے کہ آپ کی معذرت سے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
اس منطق کا جواب ہمارے پاس نہ تھا۔ دل سے معذرت خواہ تھے، ان کو لگنے والی خراشوں پر رنجیدہ تھے، ان کا کوئی نقصان ہوا تھا تو بھرنے کو تیار تھے، معذرت کے سوا کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ان سے عرض کی، بھیا جب ہماری معذرت آپ کو قبول نہیں تو ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیجیے۔ ہمارا جرم ہے تو سزا دلوائیے۔
یہ سنتے ہی انہوں نے فون نکالا اور نمبر ٹٹولنے لگے۔ ساٹھ بڑبڑاتے جاتے، اس رپورٹر کا کیا نمبر تھا۔۔۔ میں نے سوچا شاید رپورٹر سے ون فائیو کا نمبر پوچھنے لگے ہیں۔ اتنی دیر میں کال مل گئی۔ کہنے لگے، میں فلاں جگہ کھڑا ہوں فوراً ڈی ایس این جی بھیجو (ڈی ایس این جی میڈیا کی اس گاڑی کو کہتے ہیں جو سیٹلائٹ سے منسلک ہو جاتی ہے۔ کسی مقام سے ٹیلی وژن نشریات براہ راست دکھانے کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے)
جب ہم نے بات قانون کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا کے ہاتھ میں جاتے دیکھی تو خاموش کھڑے ہو گئے اور معاملات تقدیر کے سپرد کر دیے۔ ابھی ٹی وی چینل کی گاڑی پہنچی نہ تھی کہ ان کی اہلیہ نے انہیں بات ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ ہم نے ایک بار پھر معذرت کی، شکریہ ادا کیا اور گھر روانہ ہوئے۔ جلدی میں ان کا نام تک پوچھنا یاد نہ رہا۔ حادثے پر اب بھی افسوس ہے۔ اللہ انہیں اور اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

ہلیری کلنٹن کے ساتھ کیا ہوا

گہری سانس لو، اپنے پھیپھڑوں کو ہوا سے بھر لو، اس وقت صبر کرنا ہی مناسب ہے، بعد میں رو لینا۔
ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بننے کے بعد حلف اٹھا رہے تھے تو اس وقت ان سے مات کھانے والی ہلیری کلنٹن کے دل و دماغ میں انہی خیالات کی یلغار تھی۔
امریکا کی سابق وزیر خارجہ، اور صدارتی انتخاب ہارنے والی خاتون ہلیری کلنٹن کی نئی کتاب پڑھنا شروع کی ہے۔ ہلیری ایک مضبوط hillaryامیدوار تھیں، انتخابات میں ان کی شکست پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے کتاب کا نام رکھا گیا ہے
What happened
یعنی کہ کیا ہوا؟ کتاب کا آغاز حیریٹ ٹب مین کے ان جملوں سے ہوتا ہے
اگر تم تھک چکے ہو، چلتے رہو
اگر تم خوف زدہ ہو، چلتے رہو
اگر تم بھوکے ہو، چلتے رہو
اگر تم آزادی چاہتے ہو، چلتے رہو
پہلا باب ہی پڑھ پایا ہوں، اور ابھی تک تو یہی لگ رہا ہے کہ بی بی نے کتاب لکھ کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کی ہے۔
تعارفی کلمات میں رقم طراز ہیں
یہ سب لکھنا آسان نہ تھا، میں جانتی تھی کہ کروڑوں لوگ مجھ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں، اور میں انہیں مایوس کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ لیکن میں نے کر دیا۔
ابتدائی کلمات میں ہی روس کی جانب بھی انگلیاں اٹھا دی ہیں۔ ڈائیریکٹر ایف بی آئی پر بھی مداخلت کا الزام لگایا۔ ای میلز لیک ہونے کی خبر کو اچھالنے پر میڈیا سے بھی شکوہ کیا۔
لکھا ہے، "مجھے یقین تھا کہ ٹرمپ ملک اور دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ وہ  بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھا چکا تھا۔ ہمارے ساتھ مذاق ہو چکا تھا۔ "

پس تحریر: فرصت اور شوق برقرار رہنے کی دعا کیجیے، باقی کتاب کا نچوڑ بھی پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ ہلیری کلنٹن اس سے پہلے "سخت فیصلے” کے عنوان سے ایک کتاب لکھ چکی ہیں۔ اس میں پاکستان کے بارے میں  باب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کرنٹ افیئر پروگرام کا ‘پرومو’ بنانے کا فارمولا

اگر آپ کرنٹ افیئر، یعنی حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تشہیر کے لیے بھی آپ کو ایک ویڈیو بنانا ہو گی۔ اس تشہیری ویڈیو کو میڈیا کی زبان میں پرومو کہا جاتا ہے (جو پروموشن سے نکلا ہے)۔
تو ایسا پرومو بنانے کا بہت سادہ سا فارمولا ہے۔
سب سے پہلے پروگرام کے اینکر کو شہر کی سڑکوں پر گواچی گاں کی طرح پھرتے ہوئے دکھائیں۔
اسے شہر کی کسی تاریخی یا اہم عمارت میں داخل اور خارج ہوتے دکھائیں۔ یا اینکر کو کسی بہت ہی اونچی عمارت پر لے جائیں جہاں کھڑا ہو کر وہ شہر کو غور سے دیکھے (اور دل میں سوچے کہ کہیں شاٹ بنوانے کے بعد پروڈیوسر دھکا تو نہیں دے گا)۔
اینکر کو کسی لائبریری لے جائیں، یہاں وہ کتابوں سے بھری الماری سے سب سے موٹی کتاب نکالے اور یوں پڑھنے لگے جیسے سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔
کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے نوٹس لیتے ہوئے بھی دکھائیں۔
ایسا شاٹ بھی ضروری ہے جس میں اینکر اخبار پڑھے اور کسی اہم خبر کے گرد دائرہ لگائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

گریٹر اقبال پارک کی سیر

ایک زمانہ تھا جب اقبال پارک گریٹر نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ اقبال پارک جانا ہو تو ویگن والے سے کہا جاتا تھا، بھائی یادگار پر اتار دینا۔ اور یہ 20170901155415_IMG_0539وہی جگہ ہے جہاں برسوں پہلے ایک یار عزیز نے راہ چلتے شخص سے پوچھا تھا، یادگار کتھے وے۔ اور اس نے مینار پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا، ایدھر ویخھو پائین۔ او کھڑی اے (ادھر دیکھیں بھائی جان، وہاں کھڑی ہے)
اب تو صاحب اس پارک کو وسعت دی جا چکی ہے۔ گاڑیوں کے لیے پارکنگ فراخ بھی ہے اور مفت بھی۔ مینار پاکستان، بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ۔۔۔ سبھی کو ایک احاطے میں سمو دیا گیا ہے۔ مینار پاکستان دیکھنے کے بعد ٹریفک میں سے بچتے بچاتے پھلانگے جھپٹتے سڑک نہیں پار کرنی پڑتی بلکہ خوبصورت روشوں سے ہوتے ہوئے پہنچا جا سکتا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

یادگار دیکھنی ہے تو دور سے دیکھیں

آپ کے علم میں ہو گا 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ اس قرارداد کی یاد میں لاہور کے 20170901161849_IMG_0563اسی مقام پر ایک مینار تعمیر کیا گیا، جو مینار پاکستان کہلایا۔
اب آپ اپنے وطن کی یادگار دیکھنا چاہیں تو گریٹر اقبال پارک کا رخ کریں، یہاں آپ کو مینار پاکستان ایستادہ نظر آئے گا، لیکن آپ اس کے قریب نہ جا سکیں گے۔ مینار پاکستان کے گرد لوہے کی باڑ لگا دی گئی ہے۔ اور یہ بندش آج سے نہیں کئی سال سے ہے۔ پہلے مینار کے چبوترے کے گرد خاردار تار لگائی گئی تھی۔ دل کے ساتھ ساتھ نظروں کو بھی بھلی نہیں لگتی تھی۔ اب مینار پاکستان کو ایک خوبصورت جنگلے میں مقید کر دیا گیا ہے۔
کیسی بات ہے۔۔۔ قرار داد پاکستان کی یاد میں بنایا گیا مینار آج پاکستانیوں کے لیے ہی بند ہے۔ مینار پاکستان کی دیواروں پر قرار داد پاکستان کا متن بھی آویزاں ہے، اور سنا ہے اردو کے ساتھ ساتھ بنگالی زبان میں بھی۔۔۔ اب کسی نے قرارداد پڑھنی ہے تو گھر سے پڑھ کر آئے۔
پاکستان اس لیے بنایا گیا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوؤں سے خطرہ تھا، اور آج یاد گار پاکستان کو پاکستانیوں سے خطرہ ہے۔
اگر آپ اچھے وقتوں میں مینار کا قرب حاصل کر چکے ہیں تو خوش نصیب ہیں۔ اس میں نصب سنگ مرمر کی ٹھنڈک اپنے وجود میں جذب کی ہے تو بختاور ہیں، اس کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر تصویر بنوائی ہے تو اقبال مند ہیں۔ سنا ہے مینار کا نچلاحصہ پھول کی پتیوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ رکھتا ہو گا بھئی، اب یہ پھول ٹچ می ناٹ بن چکا ہے۔

نیشنل جیوگرافک میں پاکستانی ٹی وی کا صحافی

ایک دفعہ پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلز میں کام کرنے والا صحافی نیشنل جیوگرافک میں بھرتی ہو گیا۔
وہاں جا کر اس نے وخت ڈال دیا۔ ہر وقت جلدی مچائے رکھتا۔ نہ ڈھنگ سے ایڈیٹنگ کرنے دیتا نہ کہانی کے ربط کا خیال رکھتا۔ بس جو فوٹیج جیسے ملتی اسے وہیں جوڑ جاڑ کر نشر کر دیتا۔ ایک کہانی چلنے کے دوران کوئی نئی آ جاتی تو پہلی روک کر دوسری چلا دیتا۔ نہ اسے کچھ سمجھ آتی نہ دیکھنے والوں کو۔ ہاتھی پر دستاویزی فلم چلی تو اس میں چوہوں کے شاٹ بھی لگے ہوئے تھے۔ افسروں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ کہنے لگا فوٹیج آئی تھی میں نے سوچا اچھی ہے، ابھی نہ چلائی تو ضائع ہو جائے گی۔ ایک بار ہائی ریزولوشن فلم میں وٹس ایپ سے آئی فوٹیج ٹھوک دی۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ نمائندے نے بھیجی تھی، کہیں تو استعمال کرنی تھی نا! افسر اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ ہر آئی ہوئی چیز چلانے والی نہیں ہوتی، تمہیں یہاں اس لیے نہیں رکھا کہ جو آئے چلا دو۔ بلکہ تمہارا کام چھانٹی کرنا ہے اور صرف بہترین چیز نشر کرنا ہے۔ لیکن خبری صحافی کو اپنے افسروں کی بات سمجھ نہ آتی۔ پڑھنا جاری رکھیں

پرانا کچھوا نیا خرگوش

چڑیا گھر کی سیر کو گئے تو کچھوے سے ملاقات ہوئی۔ وہ اسی رفتار سے چل رہا تھا جس رفتار سے کئی سال سے ہماری تنخواہ چل رہی ہے۔۔۔ یعنی ایک ہی جگہ کھڑا تھا۔
ہم نے پوچھا، بھئی کہانی میں تو آپ مستقل مزاجی سے چلتے رہتے ہیں اور ریس جیت جاتے ہیں، یہاں خرگوش کی طرح لمبی تان کر کیوں سو رہے ہیں؟
کچھوا مایوسی سے بولا، بھائی عمیر! میں چلتا رہوں یا رک جاؤں۔۔۔ منزل مجھے ملنی ہے نہ ہی خرگوش کو۔
قریب کے پنجرے میں خرگوش بھی ہماری باتیں سن رہا تھا۔ کہنے لگا، منزل چاہے نہ ملے لیکن چھلانگیں وغیرہ لگانے سے بندے کی ٹور شور بن جاتی ہے۔
ساتھ والے پنجرے سے بندر بولا، چھلانگیں تو میں بھی بڑی بڑی لگاتا ہوں، میری ٹور کیوں نہیں بنتی؟
خرگوش نے کہا، جو ایک ہی جگہ کھڑا ہو کر چھلانگیں لگاتا رہے، اس کی ٹور نہیں بنتی۔۔۔ جو چھلانگ لگا کر آگے بڑھ جائے اس کی بن جاتی ہے۔