پاکستانی میڈیا میں روبوٹ اینکر کے 12 فوائد

 

چین نے حال ہی میں ایک روبوٹک اینکر سے خبریں پڑھوائی ہیں۔ بنانے والوں نے اس میں آرٹی فیشیل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ ویسے تو ذہانت اپنے ہاں کے اینکرز کی بھی مصنوعی ہی ہے اور اکثر تو خبریں بھی روبوٹ کی طرح پڑھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ چینی روبوٹک اینکر پاکستانی مارکیٹ میں آ گیا تو اس کے کئی دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
سب سے پہلے تو پاکستانی نیوز پروڈیوسرز کے سر کے درد ختم ہو جائیں گے۔ یہ سر درد دو وجہ سے ہوتا ہے۔ ایک تو اپنے اینکروں کی پڑھی خبریں سن کر ہوتا ہے، دوسرا جب یہ خبریں سننے کے بعد پروڈیوسر اپنا سر زور زور سے دیوار سے مارتا ہے اور نوبت مرہم پٹی تک جا پہنچتی ہے (پروڈیوسر کی) تو بھی درد ہوتا ہے۔ روبوٹک اینکر آنے کے بعد یہ سر دردی ختم ہو جائے گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

امریکا اتنا بھی جمہوری نہیں

melania and miraمیلانیا ٹرمپ سے تو آپ واقف ہی ہوں گے؟ وہی جو اپنے امریکی صدر کی زوجہ ہیں۔ اور اس مناسبت سے خاتون اول کہلاتی ہیں۔ امریکا میں ہی قومی سلامتی کی نائب مشیر ہیں میرا رکارڈل۔ تو ہوا یوں کہ میلانیا اور میرا صاحبہ میں کچھ ان بن ہو گئی۔ بات کچھ خاص نہ تھی۔ خاتون اول نے امریکا کا دورہ کرنا تھا۔ جہاز میں معمول سے زیادہ سیٹیں سیکیورٹی اسٹاف کے لیے مختص کر دی گئیں۔ کچھ نشستیں صحافیوں کو دی گئیں۔ جب کہ قومی سلامتی کی نائب مشیر اور ساتھی عہدے دار کے لیے کوئی سیٹ نہ چھوڑی گئی۔
اگر نشستیں نہ بچیں تو محکمہ خارجہ اور قومی سلامتی کے عہدے دار علیحدہ طیارے پر جاتے ہیں تاکہ پالیسی سطح کی مشاورت فراہم کر سکیں۔ تاہم یہاں میرا ریکارڈل ڈٹ گئیں۔ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اس دورے کے لیے فراہم کردہ اپنے محکمے کے وسائل بھی استعمال نہ ہونے دیں گی۔ پڑھنا جاری رکھیں

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔ پڑھنا جاری رکھیں

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

پرانی موٹرسائیکل اور گندی گالیاں

زمانہ گزرا، ہم نے ایک عدد سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل خریدی۔ ظاہری صورت تو بھلی ہی تھی، اور تکنیکی باریکیوں کا ہمیں علم نہ تھا۔ بیچنے والا بھی مستری تھا، سو ہمیں اطمینان تھا کہ اس نے ٹھیک حالت میں رکھی ہو گی۔ لہذا زیادہ چھان پٹک نہ کی اور سودا کر لیا۔ اب اگلے روز اسے کک مارتے ہیں تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی۔ دوبارہ اسی عطار کے لونڈے کے پاس جا پہنچے جس سے یہ بیماری خریدی تھی۔
اسے بتایا کہ موٹرسائیکل تو اسٹارٹ ہو کے نہیں دے رہی۔
کہنے لگا، پا جی، اینوں اسٹارٹ کرن واسطے گالاں کڈنیاں پین گیاں (بھائی صاحب، اسے اسٹارٹ کرنے کےلیے گالیاں نکالنی پڑیں گی)
ہم سٹپٹائے، "بھیا گالیاں نکالنی تو ہمیں آتی ہی نہیں۔”
بولا، پا جی جدوں ککاں مارو گے اور اے اسٹارٹ نہیں ہووے گی تے گالاں کڈنیاں آپے ای آ جان گیاں (بھائی صاحب، جب آپ ککس ماریں گے اور موٹرسائیکل اسٹارٹ نہیں ہو گی تو آپ کو خود بخود گالیاں نکالنا آ جائےگا۔
مشورہ نا معقول تھا، پھر بھی ہم نے موٹرسائیکل کو کک ماری تو منہ سے نکلا، ہٹ نالائق! اسٹارٹ ہو جا۔
پا جی اے کی پے کردے او؟ مکینک نے حیرانی سے پوچھا۔ (بھائی صاحب، یہ کیا کر رہے ہیں)
تمہارے ہی کہنے پر موٹرسائیکل کو گالیاں نکال رہے ہیں۔
ناہنجار کہنے لگا، پا جی ایناں گالاں نال کم نہیں چلنا، اینوں گندیاں گالاں کڈو (ایسی گالیوں سے کام نہیں چلنا، گندی گالیاں نکالیں)
اب یہ نہیں کہ ہمیں گندی گالیاں آتی نہ تھیں، بس اس کے سامنے خفیف ہوئے جا رہے تھے۔
کک ماری اور دل کڑا کر کے بول دیا، نطفہ نا تحقیق! اسٹارٹ کیوں نہیں ہوتی۔
مکینک ہنس ہنس کو دوہرا ہو گیا۔ بولا، گالاں انگریزی اچ نہیں، پنجابی اچ کڈنیاں نیں (گالیاں انگریزی میں نہیں، پنجابی میں نکالنی ہیں)
اب ہماری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ غصے سے موٹرسائیکل کو کک ماری تو بے ساختگی میں دانت پیس کر کہا، تیری پین دی سری۔
اور موٹرسائیکل اسٹارٹ ہو گئی
#ماخوذ

کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، پڑھنا جاری رکھیں

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔