پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

Advertisements

پرانی موٹرسائیکل اور گندی گالیاں

زمانہ گزرا، ہم نے ایک عدد سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل خریدی۔ ظاہری صورت تو بھلی ہی تھی، اور تکنیکی باریکیوں کا ہمیں علم نہ تھا۔ بیچنے والا بھی مستری تھا، سو ہمیں اطمینان تھا کہ اس نے ٹھیک حالت میں رکھی ہو گی۔ لہذا زیادہ چھان پٹک نہ کی اور سودا کر لیا۔ اب اگلے روز اسے کک مارتے ہیں تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی۔ دوبارہ اسی عطار کے لونڈے کے پاس جا پہنچے جس سے یہ بیماری خریدی تھی۔
اسے بتایا کہ موٹرسائیکل تو اسٹارٹ ہو کے نہیں دے رہی۔
کہنے لگا، پا جی، اینوں اسٹارٹ کرن واسطے گالاں کڈنیاں پین گیاں (بھائی صاحب، اسے اسٹارٹ کرنے کےلیے گالیاں نکالنی پڑیں گی)
ہم سٹپٹائے، "بھیا گالیاں نکالنی تو ہمیں آتی ہی نہیں۔”
بولا، پا جی جدوں ککاں مارو گے اور اے اسٹارٹ نہیں ہووے گی تے گالاں کڈنیاں آپے ای آ جان گیاں (بھائی صاحب، جب آپ ککس ماریں گے اور موٹرسائیکل اسٹارٹ نہیں ہو گی تو آپ کو خود بخود گالیاں نکالنا آ جائےگا۔
مشورہ نا معقول تھا، پھر بھی ہم نے موٹرسائیکل کو کک ماری تو منہ سے نکلا، ہٹ نالائق! اسٹارٹ ہو جا۔
پا جی اے کی پے کردے او؟ مکینک نے حیرانی سے پوچھا۔ (بھائی صاحب، یہ کیا کر رہے ہیں)
تمہارے ہی کہنے پر موٹرسائیکل کو گالیاں نکال رہے ہیں۔
ناہنجار کہنے لگا، پا جی ایناں گالاں نال کم نہیں چلنا، اینوں گندیاں گالاں کڈو (ایسی گالیوں سے کام نہیں چلنا، گندی گالیاں نکالیں)
اب یہ نہیں کہ ہمیں گندی گالیاں آتی نہ تھیں، بس اس کے سامنے خفیف ہوئے جا رہے تھے۔
کک ماری اور دل کڑا کر کے بول دیا، نطفہ نا تحقیق! اسٹارٹ کیوں نہیں ہوتی۔
مکینک ہنس ہنس کو دوہرا ہو گیا۔ بولا، گالاں انگریزی اچ نہیں، پنجابی اچ کڈنیاں نیں (گالیاں انگریزی میں نہیں، پنجابی میں نکالنی ہیں)
اب ہماری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ غصے سے موٹرسائیکل کو کک ماری تو بے ساختگی میں دانت پیس کر کہا، تیری پین دی سری۔
اور موٹرسائیکل اسٹارٹ ہو گئی
#ماخوذ

کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، پڑھنا جاری رکھیں

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

بد بو کی جنگ

جنگ عظیم دوئم کا قصہ ہے۔ فرانسیسی مزاحمت کار جرمن قبضے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ایسے میں امریکا نے انہیں انوکھا ہتھار فراہم کیا۔ یہ بارود نہیں، بد بو پھینکتا تھا۔ مزاحمت کار چوری چھپے کسی جرمن افسر پر بد بو کی پھوار پھینک دیتا۔ مقصد یہ تھا کہ جرمن افسر سبکی محسوس کریں اور یوں قابض فوجوں کا حوصلہ پست کیا جائے۔
تاہم ہتھیار کا استعمال کچھ دیر ہی چلا۔ وجہ یہ تھی کہ جرمن افسر پر بد بو پھینکے والا مزاحمت کار خود بھی اسی سڑانڈ میں نہا جاتا۔ تقریباً دو ہفتے بعد اس متعفن اسلحے کا استعمال ترک کر دیا گیا۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ تعفن کی جنگ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ مخالف پر گندگی پھینکیں گے تو بد بو کی لپٹیں آپ سے بھی اٹھیں گی۔

صرف ایک شرط پر

ریڈرز ڈائجسٹ پر ایک کہانی پڑھی جس نے دل پر دستک دی۔ آپ بھی پڑھیے
پیٹر اپنی بیوی میری آن سے بہت محبت کرتا تھا۔ 1972 میں انہوں نے جرمنی میں بس نما گاڑی خریدی اور سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ دونوں محبت کی سرمستی میں گھومتے پھرے۔ کچھ سال جنوبی افریقہ قیام کیا اور پھر آسٹریلیا آن بسے۔ اس دوران ان کی بس نما گاڑی بھی ان کے ساتھ ساتھ رہی۔

img542-what-was-then-rhodesia-on-our-wedding-day
آسٹریلیا بسنے کے بعد خاندان میں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا۔ پیٹر اور میری آن نے پیار سے اپنی گاڑی کا نام شوئن رکھا۔ شوئن جرمن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘اچھا’
شوئن پر انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آسٹریلیا بھر کے سفر کیے اور خوبصورت یادیں اکٹھی کیں۔
2009 میں پیٹر کی بیگم میری آن چل بسیں۔ پیٹر ریٹائر بھی ہو چکے تھے اور بوڑھے بھی۔ اس وقت انہوں نے شوئن کو فروخت کرنے کا سوچا۔
جب پیٹر شوئن فروخت کرنے کا سوچ رہے تھے، ایلسی اور ڈومینیک شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور گھومنے پھرنے میں زندگی بتانا چاہتے تھے۔ ایلسی کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کے پاس ایک ‘خوشیوں بھری بس’ ہو جس پر سوار ہو کر وہ نئی دنیاوّں کی سیر کرے۔ آن لائن اشتہار دیکھتے ہوئے اسے شوئن کے بارے میں معلوم ہوا اور دونوں کا اس گاڑی پر دل آگیا۔
وہ شوئن کو دیکھنے پیٹر کے گھر گئے۔ اسے اپنے شوق کے بارے میں بتایا اور شوئن کو بھی دیکھا۔ شوئن انہیں پسند تو بہت آئی لیکن اس کی قیمت 39 ہزار ڈالر تھی، جسے ادا کرنا جوڑے کے بس میں نہ تھا۔
دکھی دل کے ساتھ ایلسی اور ڈومینیک لوٹ آئے۔
کچھ دن بعد ایلسی کو پیٹر کی کال آئی۔ اس نے شوئن پر ایک اور نظر ڈالنے کی درخواست کی۔
پیٹر نے انہیں بتایا کہ دو خریدار شوئن کو منہ مانگی قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں، لیکن یہ خریدار بس اشیاء جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ وہ شوئن کا خیال تو رکھیں گے لیکن شوئن کو ایک سجاوٹ کی چیز کے طور پر کھڑا کیے رکھیں گے۔ وہ کسی شیڈ یا گیراج میں پڑی رہے گی۔
پیٹر نے ان سے پوچھا، وہ شوئن کی کیا قیمت دے سکتے ہیں؟
ڈومینیک نے کہا، وہ تو بمشکل آدھی رقم دے پائیں گے۔
پیٹر نے بھیگی آواز میں کہا، مجھے یہ پیشکش قبول ہے، لیکن صرف ایک شرط پر۔ آپ وعدہ کریں کہ مہم جوئی پر نکلیں گے۔ اور جب آپ کے بچے ہو جائیں گے تو اپنی مہمات پر انہیں بھی ساتھ لے جایا کریں گے۔
اب شوئن آسٹریلیا میں گھومتی پھرتی ہے اور ایلسی اور ڈومینیک کے لیے خوبصورت یادیں تخلیق کرتی ہے

yorke-p-campfire-2-700

ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

جانا کراچی اور دیکھنا جیو کا دفتر

IMG-20180123-WA0023.jpgمحمد جنید دو کام کرتے ہیں۔ ایک تو جیو پر خبریں پڑھتے ہیں۔ اور جب خبریں نہیں پڑھ رہے ہوتے تو دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ فلاں کیسے چلتا ہے، کیسے بولتا ہے، کیسے اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کیا پہنتا ہے؛ جنید کوئی نہ کوئی سقم یا عیب دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ویسے مہربان آدمی ہیں۔ دوسروں کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری شادی پر بھی تشریف لائے تھے۔ اور ہمیں ایسا موقع دینے پر تاحال تیار نہیں۔ ہماری دوستی کا بار اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کی خامیاں نظر انداز کر کے انہیں عزیز مانتے ہیں۔ (واضح رہے، لفظ ‘بار’ کا استعمال ہم نے اپنی شخصیت کے لیے کیا ہے، جسامت کے لیے نہیں)
ہم کراچی گئے تو انہوں نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ ملنے پہنچے تو معلوم ہوا دفتر والوں نے انہیں کرسی سے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکا رکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد جنید بہت زیادہ بولتے ہیں، اور جو بولتے ہیں وہ تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں۔ لہذا دفتر والوں نے یہی حل سوچا ہے کہ خبریں پڑھوانے کے بعد ان کے منہ پر ٹیپ لگا کر کرسی سے باندھ دیا جائے۔

خیر ہماری منت سماجت پر ان کی بندشیں ختم کی گئیں۔ انہوں نے آزاد ہوتے ہی ہاتھ میں جھاڑو تھام لیا اور کہا، اسٹوڈیو کی صفائی ٹھیک نہیں۔ دس منٹ بعد دائیں کونے میں جمع کوڑا بائیں کونے میں سمیٹ دیا اور فاتحانہ انداز میں کہنے لگے، اسے کہتے ہیں صفائی۔
اسی دوران جیو کے وجیہ اینکر وجیہ ثانی بھی آن پہنچے۔ ایک مشہور بلاگر اور نام نہاد صحافی کو اپنے درمیان پا کر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک جانب جنید اور دوسری جانب وجیہ صاحب کھڑے ہوئے۔ دو اسمارٹ لوگوں کی خاطر ہم نے بھی سانس کھینچ کر پیٹ سمیٹ لیا اور تصویر بنوائی۔

IMG-20180123-WA0013.jpg
اس کے بعد ہم شاہزیب خانزادہ صاحب اور ان کی ٹیم سے ملے۔ اور انہیں اچھا پروگرام کرنے کے لیے مفید ٹپس دیں۔

IMG-20180123-WA0016.jpg

جیو والے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اینکر رکھنے کی ضد کرنے لگے۔ آزمائشی طور پر وہاں بٹھا بھی دیا جہاں کئی مایہ ناز اینکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جیو والوں کی منت سماجت پر ہم دو سو روپے فی خبر نامہ کے عوض خبریں پڑھنے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اتنی دیر میں تمام عملہ ہماری قابلیت اور لیاقت سے واقف ہو چکا تھا۔ جیو والوں نے حساب لگایا کہ ہمیں دو سو روپے دے کر خبریں پڑھوائی جائیں اور اس کے بعد عملے اور ناظرین کے لیے پیناڈول کا بندوبست بھی کیا جائے تو ایک بلیٹن دو کروڑ روپے کا پڑے گا۔ لہذا بہت اچھی سی چائے پلا کر ہمیں رخصت کر دیا گیا۔
جاتے جاتے ہم نے دیکھا، جنید کو دوبارہ کرسی سے باندھا جا رہا تھا۔