کیا خواب میں کانٹی نیوٹی جمپ ہوتے ہیں

Continuity jumpٹیلی وژن اور فلم کی اصطلاح ہے۔ عموماً کوئی بھی سین ایک ہی کیمرے سے شوٹ کیا جاتا ہے۔ تو وہ ایک کیمرہ سین کو مختلف زاویوں سے شوٹ کرتا ہے، بعد میں ایڈیٹنگ کرتے ہوئے ٹکڑے جوڑ لیے جاتے ہیں۔ یعنی اگر کردار نے سبزہ زار میں داخل ہو کر بینچ پر بیٹھے کسی فرد سے وقت پوچھنا ہے۔ تو اس سین کو مختلف شاٹس میں فلمایا جائے گا۔ پہلے لانگ شاٹ میں کردار سبزہ زار میں داخل ہوتے دکھایا جائے گا۔ اس لانگ شاٹ سے جگہ کا تعین ہو جائے گا۔ پھر مڈ لانگ شاٹ میں اسے ایک بینچ کے قریب رکتا دکھایا جائے گا۔ مزید کلوز اپس میں اس کی گفتگو فلمائی جائے گی۔ جو فرد وقت بتا رہا ہے، ایک کلوز شاٹ اس کا بھی لیا جائے گا۔ یوں ایک چند سیکنڈ کے سین کو کئی زاویوں سے فلمایا جاتا ہے (اور کئی گھنٹے صرف کیے جاتے ہیں)۔
اب کانٹی نیوٹی جمپ یہ ہے پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مسلم لیگ ن کو کیوں ووٹ دیا جائے؟

انتخابات 2018 میں مسلم لیگ ن بھی عوام کے ووٹوں کی طلب گار ہے۔ مگر کیوں؟ صاحب، کچھ کیا ہوتا تو ووٹ مانگنے ہی نہ پڑتے۔ عوام کارکردگی دیکھ کر دیوانہ وار شیر پر ٹھپے لگاتے چلے جاتے۔
آخر آپ میں کچھ کمی تو ہے جو لوگ تحریک انصاف کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ ہاں ہاں، کہہ دیجیے تحریک انصاف کے درجات کی بلندی میں کچھ خلائی ہاتھوں اور امپائروں نے بھی کام کیا۔ لیکن مسلم لیگ ن نے پانچ سال حکمرانی کی ہے۔ جواب دہی تو بنتی ہے۔
سب سے پہلے تو بات کرپشن الزامات کی۔ پڑھنا جاری رکھیں

عمران خان کو ووٹ کیوں دیا جائے؟

صاحب، مان لیا نواز شریف اور آصف زرداری کرپٹ ہیں۔ عمران خان ان کے مقابلے میں دودھ کے دھلے ہیں۔ کیا ہوا جو کرپشن الزامات میں گندھے الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملا لیا۔ الیکٹ ایبل نہ ہو تو بندہ کس کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کی کرسی تک پہنچے؟ جب خان خود کوئی کرپشن نہیں کرتا تو انہیں بھی نہ کرنے دے گا۔
کیا کہا؟ عمران خان نے اسٹیٹس کو کے خلاف کھڑے ہونے کا نعرہ دیا تھا؟ جی کیا کیجیے۔ خالی خولی نعروں سے تو نہیں ملتی نا وزارت عظمیٰ۔ اقتدار کے مرکز پر قبضہ کیے بغیر تبدیلی بھی تو ممکن نہیں۔ جب طاقت مل گئی تو معاملات اسٹیٹس کو کے مطابق نہیں، اس کے خلاف چلائے جائیں گے۔
اب آپ سوال کریں گے کہ عمران خان نے دوران سفر سمجھوتہ کر لیا، پڑھنا جاری رکھیں

دو قسم کے انصاف

انصاف کی ستم ظریفی دیکھیے۔ عمران خان نے اپنے سیاسی کزن طاہر القادری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کی تو ایک پولیس افسر عصمت اللہ پر حملہ کیا گیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ عمران خان اس حملے کے ملزم ٹھہرے۔ ان پر عدالت میں کیس چلانے کی کوشش کی گئی اور وہ قریب ساڑھے تین سال تک عدالت میں پیش ہی نہ ہوئے۔
آخر کار جب پیش ہوئے تو انہیں مقدمے سے بری کر دیا گیا۔ بری کرنے کی وجہ بھی دلچسپ ہے۔ عدالت نے کہا، ملزم کی جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی۔ اور یہ ثابت بھی نہیں ہوتا کہ عمران خان نے لوگوں کو پولیس افسر پر حملے کے لیے اکسایا ہو۔ حالانکہ تقاریر میں وہ انتظامیہ کے افسران کو کھلے عام دھمکیاں دے چکے تھے۔ اور جائے وقوعہ پر موجودگی ثابت نہ ہونا بھی سمجھ نہیں آتا۔
643963-chiefjustice-1386709229-458-640x480خیر، ایک افسوس ناک واقعہ 2007 کو بھی پیش آیا تھا۔ اْس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تو پولیس اہلکاروں نے ان سے بدسلوکی کی۔ اس دوران افتخار چودھری کو بالوں سے کھینچا گیا۔ واقعے کو گیارہ سال گزرنے کے بعد سزائیں دی گئیں۔ سابق آئی جی اسلام آباد افتخار احمد کو پندرہ روز کے لیے جیل بھیجا گیا۔ حاضر سروس ڈی ایس پی رخسار مہدی، ایس ایس پی موٹروے جمیل ہاشمی، نیشنل سکیورٹی ڈویژن میں ایڈیشنل سیکرٹری اور سابق ایس ایس پی اسلام آباد کیپٹن ریٹائرڈ ظفر، چار پولیس اہلکاروں کو ایک ایک ماہ کےلیے قید کر لیاگیا۔ سابق چیف کمشنر اسلام آباد خالد پرویز، سابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چودھری ایم علی کو عدالت برخاست ہونے تک علامتی سزا سنائی گئی۔
فیصلہ آتے ہی بدسلوکی کے مجرموں کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

بد بو کی جنگ

جنگ عظیم دوئم کا قصہ ہے۔ فرانسیسی مزاحمت کار جرمن قبضے کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ایسے میں امریکا نے انہیں انوکھا ہتھار فراہم کیا۔ یہ بارود نہیں، بد بو پھینکتا تھا۔ مزاحمت کار چوری چھپے کسی جرمن افسر پر بد بو کی پھوار پھینک دیتا۔ مقصد یہ تھا کہ جرمن افسر سبکی محسوس کریں اور یوں قابض فوجوں کا حوصلہ پست کیا جائے۔
تاہم ہتھیار کا استعمال کچھ دیر ہی چلا۔ وجہ یہ تھی کہ جرمن افسر پر بد بو پھینکے والا مزاحمت کار خود بھی اسی سڑانڈ میں نہا جاتا۔ تقریباً دو ہفتے بعد اس متعفن اسلحے کا استعمال ترک کر دیا گیا۔
کہنے کی بات یہ ہے کہ تعفن کی جنگ میں نقصان دونوں فریقوں کا ہوتا ہے۔ مخالف پر گندگی پھینکیں گے تو بد بو کی لپٹیں آپ سے بھی اٹھیں گی۔

صرف ایک شرط پر

ریڈرز ڈائجسٹ پر ایک کہانی پڑھی جس نے دل پر دستک دی۔ آپ بھی پڑھیے
پیٹر اپنی بیوی میری آن سے بہت محبت کرتا تھا۔ 1972 میں انہوں نے جرمنی میں بس نما گاڑی خریدی اور سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ دونوں محبت کی سرمستی میں گھومتے پھرے۔ کچھ سال جنوبی افریقہ قیام کیا اور پھر آسٹریلیا آن بسے۔ اس دوران ان کی بس نما گاڑی بھی ان کے ساتھ ساتھ رہی۔

img542-what-was-then-rhodesia-on-our-wedding-day
آسٹریلیا بسنے کے بعد خاندان میں دو بیٹیوں کا اضافہ ہوا۔ پیٹر اور میری آن نے پیار سے اپنی گاڑی کا نام شوئن رکھا۔ شوئن جرمن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘اچھا’
شوئن پر انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آسٹریلیا بھر کے سفر کیے اور خوبصورت یادیں اکٹھی کیں۔
2009 میں پیٹر کی بیگم میری آن چل بسیں۔ پیٹر ریٹائر بھی ہو چکے تھے اور بوڑھے بھی۔ اس وقت انہوں نے شوئن کو فروخت کرنے کا سوچا۔
جب پیٹر شوئن فروخت کرنے کا سوچ رہے تھے، ایلسی اور ڈومینیک شادی کے بندھن میں بندھے تھے اور گھومنے پھرنے میں زندگی بتانا چاہتے تھے۔ ایلسی کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ اس کے پاس ایک ‘خوشیوں بھری بس’ ہو جس پر سوار ہو کر وہ نئی دنیاوّں کی سیر کرے۔ آن لائن اشتہار دیکھتے ہوئے اسے شوئن کے بارے میں معلوم ہوا اور دونوں کا اس گاڑی پر دل آگیا۔
وہ شوئن کو دیکھنے پیٹر کے گھر گئے۔ اسے اپنے شوق کے بارے میں بتایا اور شوئن کو بھی دیکھا۔ شوئن انہیں پسند تو بہت آئی لیکن اس کی قیمت 39 ہزار ڈالر تھی، جسے ادا کرنا جوڑے کے بس میں نہ تھا۔
دکھی دل کے ساتھ ایلسی اور ڈومینیک لوٹ آئے۔
کچھ دن بعد ایلسی کو پیٹر کی کال آئی۔ اس نے شوئن پر ایک اور نظر ڈالنے کی درخواست کی۔
پیٹر نے انہیں بتایا کہ دو خریدار شوئن کو منہ مانگی قیمت پر خریدنا چاہتے ہیں، لیکن یہ خریدار بس اشیاء جمع کرنے کے شوقین ہیں۔ وہ شوئن کا خیال تو رکھیں گے لیکن شوئن کو ایک سجاوٹ کی چیز کے طور پر کھڑا کیے رکھیں گے۔ وہ کسی شیڈ یا گیراج میں پڑی رہے گی۔
پیٹر نے ان سے پوچھا، وہ شوئن کی کیا قیمت دے سکتے ہیں؟
ڈومینیک نے کہا، وہ تو بمشکل آدھی رقم دے پائیں گے۔
پیٹر نے بھیگی آواز میں کہا، مجھے یہ پیشکش قبول ہے، لیکن صرف ایک شرط پر۔ آپ وعدہ کریں کہ مہم جوئی پر نکلیں گے۔ اور جب آپ کے بچے ہو جائیں گے تو اپنی مہمات پر انہیں بھی ساتھ لے جایا کریں گے۔
اب شوئن آسٹریلیا میں گھومتی پھرتی ہے اور ایلسی اور ڈومینیک کے لیے خوبصورت یادیں تخلیق کرتی ہے

yorke-p-campfire-2-700

ساحل سمندر پر چائنہ کٹنگ

IMG_20180114_175656.jpg

عمیر محمود کراچی کے ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا منظر دیکھنے گئے۔ سورج کو اٹکھیلیاں کرتی موجوں میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا تو مچل گئے۔ فیصلہ کر لیا یہیں چائنہ کٹکنگ کر کے کنال دو کنال کی جھونپڑی ڈال لیں گے۔ بلکہ آنے جانے والوں سے بھتہ بھی وصولا کریں گے۔ یہاں ٹھکانہ ہو گیا تو روز نیم دراز ہو کر سورج کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھا کریں گے۔ پھر خیال آیا، کراچی کے اس علاقے میں دیکھنے کا پانی تو دستیاب ہے، پینے کا پانی ٹینکر سے ڈلوانا پڑتا ہے۔ چلُو بھر پانی کے لیے ہر مہینے ہمارا بارہ پندرہ ہزار اٹھ جایا کرے گا۔ فوراً چائنہ کٹنگ کے ارادے سے باز آئے۔ نائن زیرو کی طرف منہ کر کے توبہ استغفار بھی پڑھی۔ اپنی یادوں کی الماری میں یہ منظر رکھنے کے لیے سورج کو مٹھی میں بھرنا چاہا، وہ ساحلی ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل کر سمندر میں گر گیا۔

جانا کراچی اور دیکھنا جیو کا دفتر

IMG-20180123-WA0023.jpgمحمد جنید دو کام کرتے ہیں۔ ایک تو جیو پر خبریں پڑھتے ہیں۔ اور جب خبریں نہیں پڑھ رہے ہوتے تو دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ فلاں کیسے چلتا ہے، کیسے بولتا ہے، کیسے اٹھتا بیٹھتا ہے، کیسا دکھتا ہے، کیا پہنتا ہے؛ جنید کوئی نہ کوئی سقم یا عیب دریافت کر ہی لیتے ہیں۔ ویسے مہربان آدمی ہیں۔ دوسروں کے غموں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہماری شادی پر بھی تشریف لائے تھے۔ اور ہمیں ایسا موقع دینے پر تاحال تیار نہیں۔ ہماری دوستی کا بار اپنے نازک کندھوں پر اٹھا رکھا ہے، اس لیے ہم بھی ان کی خامیاں نظر انداز کر کے انہیں عزیز مانتے ہیں۔ (واضح رہے، لفظ ‘بار’ کا استعمال ہم نے اپنی شخصیت کے لیے کیا ہے، جسامت کے لیے نہیں)
ہم کراچی گئے تو انہوں نے اپنے دفتر آنے کی دعوت دی۔ ملنے پہنچے تو معلوم ہوا دفتر والوں نے انہیں کرسی سے باندھ کر منہ پر ٹیپ چپکا رکھی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ محمد جنید بہت زیادہ بولتے ہیں، اور جو بولتے ہیں وہ تنقید پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ کمپیوٹر سافٹ ویئر سے بھی چھیڑ چھاڑ کر دیتے ہیں۔ لہذا دفتر والوں نے یہی حل سوچا ہے کہ خبریں پڑھوانے کے بعد ان کے منہ پر ٹیپ لگا کر کرسی سے باندھ دیا جائے۔

خیر ہماری منت سماجت پر ان کی بندشیں ختم کی گئیں۔ انہوں نے آزاد ہوتے ہی ہاتھ میں جھاڑو تھام لیا اور کہا، اسٹوڈیو کی صفائی ٹھیک نہیں۔ دس منٹ بعد دائیں کونے میں جمع کوڑا بائیں کونے میں سمیٹ دیا اور فاتحانہ انداز میں کہنے لگے، اسے کہتے ہیں صفائی۔
اسی دوران جیو کے وجیہ اینکر وجیہ ثانی بھی آن پہنچے۔ ایک مشہور بلاگر اور نام نہاد صحافی کو اپنے درمیان پا کر انہوں نے ہمارے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک جانب جنید اور دوسری جانب وجیہ صاحب کھڑے ہوئے۔ دو اسمارٹ لوگوں کی خاطر ہم نے بھی سانس کھینچ کر پیٹ سمیٹ لیا اور تصویر بنوائی۔

IMG-20180123-WA0013.jpg
اس کے بعد ہم شاہزیب خانزادہ صاحب اور ان کی ٹیم سے ملے۔ اور انہیں اچھا پروگرام کرنے کے لیے مفید ٹپس دیں۔

IMG-20180123-WA0016.jpg

جیو والے تو اتنے متاثر ہوئے کہ ہمیں اینکر رکھنے کی ضد کرنے لگے۔ آزمائشی طور پر وہاں بٹھا بھی دیا جہاں کئی مایہ ناز اینکر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔
جیو والوں کی منت سماجت پر ہم دو سو روپے فی خبر نامہ کے عوض خبریں پڑھنے پر راضی ہو گئے۔ لیکن اتنی دیر میں تمام عملہ ہماری قابلیت اور لیاقت سے واقف ہو چکا تھا۔ جیو والوں نے حساب لگایا کہ ہمیں دو سو روپے دے کر خبریں پڑھوائی جائیں اور اس کے بعد عملے اور ناظرین کے لیے پیناڈول کا بندوبست بھی کیا جائے تو ایک بلیٹن دو کروڑ روپے کا پڑے گا۔ لہذا بہت اچھی سی چائے پلا کر ہمیں رخصت کر دیا گیا۔
جاتے جاتے ہم نے دیکھا، جنید کو دوبارہ کرسی سے باندھا جا رہا تھا۔

عمران خان کو ذاتی خوشی کیوں نہ ملی؟

"کچھ سالوں کے سوا، میں ساری زندگی ذاتی خوشی سے محروم رہا۔ اپنے خیر خواہوں اور چاہنے والوں سے صرف ایک بات کی درخواست 26220141_1961832510499819_3736019385328739801_nہے، دعا کریں مجھے ذاتی خوشی مل جائے۔”
عمران خان کی یہ ٹویٹ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہی ہے۔ میں انہیں زندگی کے کئی حوالوں سے کامیاب سمجھتا ہوں۔ اور میرا خیال تھا کہ کامیابی ہی خوشی لاتی ہے۔ عمران خان ایک کامیاب کھلاڑی رہے، شوکت خانم اسپتال جیسا شاندار منصوبہ کامیابی سے شروع کیا، تکمیل تک پہنچایا اور اسے کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ سیاست میں طویل جدوجہد کی اور پھر خیبر پختونخوا حکومت کی صورت (جزوی ہی سہی) کامیابی حاصل کی۔ خیبر پختونخوا حکومت کے پانچ سال میں یقیناً کئی ایسے منصوبے ہوں گے جو کامیاب ہوئے ہوں گے یا کامیابی کے مراحل میں ہوں گے۔
لوک حکمت میں ایک بات مشہور ہے، کہ خوشی بانٹنے سے ملتی ہے۔ یعنی اگر آپ دوسروں کی خوشیوں کا سامان کریں گے تو آپ کو ذاتی خوشی ملے گی۔ اس میزان پر بھی عمران خان کا پلڑا بھاری ہے۔ ان کے اسپتال سے کتنے لوگوں کو شفا یاب ہونے کی خوشی ملی۔ کھیلوں میں ان کی فتح نے تو پورے پاکستان کو خوشیاں دیں۔ ان کی سیاسی کامیابیاں بھی ان کے چاہنے والوں کے لیے خوشیوں کا باعث بنیں۔ پانامہ پیپرز میں نواز شریف کا نام آنے کے بعد ان کے خلاف مہم شروع کی اور منصب سے ہٹا کر ہی دم لیا۔ یہ بات بھی بہت سے لوگوں کی خوشی کا باعث بنی۔ گویا عمران خان خوشیاں بھی بانٹتے رہے ہیں اور اس کے باوجود ذاتی خوشی سے محروم ہیں۔
لوک حکمت کے تحت ہی یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ جس نے حرام مال کمایا اسے کبھی سکھ نصیب نہیں ہوتا۔ حلال کمائی کی مد میں تو عمران خان عدالت عالیہ سے سند حاصل کر چکے ہیں۔
تو گویا لوک حکمت کو جھٹلا دیا جائے؟
کامیابی کے عمومی حوالوں سے بھی عمران خان کامران ہیں۔ انہیں پیسے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اسلام آباد میں ان کی بہت ہی وسیع رہائش گاہ ہے۔ ایسی رہائش گاہ جو جمالیاتی ذوق نہ رکھنے والے شخص کو بھی متاثر کرے۔ جس کے گرد جنگل ہو۔ جس کے برآمدے سے راول جھیل نظر آتی ہو۔ اس کے علاوہ لاہور میں بھی اپنا گھر رکھتے ہیں۔ بیرون ملک سفر پر بھی کوئی قدغن نہیں۔ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں۔
پھر کیا وجہ ہے کہ انہیں ذاتی زندگی میں خوشی نہیں ملی؟
ان کی ذاتی زندگی کے جتنے حوالے سامنے آئے، اس میں وہ کوئی بہت مشکل انسان نظر نہیں آتے۔ جو مل جاتا ہے پہن لیتے ہیں، جیسا مل جاتا ہے کھا لیتے ہیں۔ جب وہ (غالباً اپنی پیرنی کے کہنے پر) پہاڑی علاقوں میں بسیرا کیے ہوئے تھے، اس وقت ان کے کئی میڈیا انٹرویوز ہوئے۔ سبھی میں وہ ایک ہی ٹریک سوٹ پہنے نظر آتے۔ گویا لباس تبدیل کرنے کی بھی زیادہ پروا نہیں کرتے۔ ایسے انسان کو درویش منش کہا جاتا ہے۔ اور درویش تو خوش رہتے ہیں۔
کیا عمران خان اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ ان کی شادیاں ناکام ہوئیں؟ کیا اس کی وجہ دوسرا فریق تھا یا عمران خان خود؟ سیاسی جلسوں میں عمران خان اپنی بداخلاقی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ کیا وہ یہی بداخلاقی ذاتی زندگی میں تو روا نہیں رکھتے۔ اگر ایسا ہی ہے تو شادیوں میں ناکامی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ ویسے تو لوک حکمت میں اخلاق سے بات کرنے کو احسن کہا گیا ہے، اور خوش اخلاق لوگوں کو عموماً خوش ہی دیکھا گیا ہے۔ خوش اخلاقی کے ساتھ ساتھ بااخلاق ہونے کو بھی افضل سمجھا جاتا ہے۔ ذاتی زندگی گناہوں سے آلودہ نہ ہو تو بھی ذاتی خوشی حاصل رہتی ہے۔ غالب امکان ہے گناہوں کے معاملے میں عمران خان کا دامن خشک ہی ملے گا۔
عمران خان صاحب! ذاتی زندگی میں خوشی آپ کو اپنی ذات کے آس پاس ہی ملے گی۔ اسے تلاش کیجیے۔ اگر وہ آپ سے دور ہے تو اس کی وجوہات بھی خود میں ہی کھوجیے۔ خود سے سوال کیجیے، آپ کا جواب ہی آپ کو ذاتی خوشی کے قریب لے جائے گا۔
عمومی حوالوں سے کامیاب زندگی گزارنے والا شخص اس عمر میں کتنے دکھ سے کہہ رہا ہے کہ کچھ سالوں کے سوا اسے کبھی ذاتی خوشی نہیں ملی۔ عمران خان کا یہ جملہ مسلسل مجھے ہانٹ کر رہا ہے۔ دعا ہے اللہ جی ان کا دامن خوشیوں سے بھر دیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی شادی کی اندرونی کہانی

ایک بٹ کی مدح میں

media-20171220تصویر میں بائیں ہاتھ قیصر بٹ صاحب ہیں (دائیں ہاتھ خاکسار خود ہے)۔ چینل میں ہماری بھرتی کے بعد پہلا ڈی جی پی آر کارڈ انہوں نے ہی بنوایا تھا۔ ارے بھائی ہم کہاں جھنجھٹ پالتے ہیں پاسپورٹ سائز تصویر رکھنے کا، متعلقہ دستاویز، ان کی فوٹو کاپیز، حکام کی تصدیق، شعبہ ہیومن ریسورس کی مہر۔۔۔ کون کرائے یہ سب۔ پھر ان چیزوں کو پہنچانا الگ قضیہ۔ ان الجھنوں کا حل قیصر بٹ صاحب ہیں۔ آپ کو بس تصویر اپنی کھنچوانی ہے، دستاویز یہ آپ کو کہہ کہہ منگوا چھوڑیں گے، باقی کے بکھیڑے یہ خود سمیٹیں گے۔ کارڈ بن گیا تو ڈی جی پی آر کے دفتر سے وصول کر کے آپ تک پہنچائیں گے اور پھر ریلوے کارڈ بنوانے پر اصرار ہو گا۔ فائدے آپ کے ہیں، ہلکان یہ ہوں گے۔
الغرض، ساتھیوں کی خدمت میں خوش رہتے ہیں۔ ان کی پریشانی میں پریشان ہوتے ہیں۔ جب تک ہماری شادی نہ ہوئی تھی، یہ فکر مند رہتے۔ نہ جانے کس خدشے پر کئی بار ہمیں ان حکیموں کے رابطہ نمبر بھی دیے جن سے استفادہ کر چکے تھے۔ شادی کے بعد ہمیں یہ فکر دامن گیر ہو گئی کہ ہمیں باپ بنانے کے چکر میں خود حاملہ نہ ہو جائیں۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی مدد کے لیے ہر حد کو جائیں گے۔ اور کسی صلے کی تمنا نہ رکھیں گے. شاید دوستوں کی دعاؤں کا اثر ہے کہ ہم سے دس سال زیادہ عمر کے ہونے کے باوجود کم عمر نظر آتے ہیں۔ ان کے سر کے بال جب کہ ہمارے صرف اعمال سیاہ ہیں۔ اب اپنی خدمات کا دائرہ مزید وسیع کرنے کے لیے قیصر بٹ صاحب پریس کلب الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلوں پر تو پہلے ہی ان کا راج ہے، انشاءاللہ دوستوں کی محبت ووٹ بن کر بٹ صاحب کے نام سے بکسے بھر دے گی۔ ووٹ اور اسپورٹ سبھی قیصر بٹ کے نام