لگے رہو، کامیابی ملے گی

ایڈون سی بارنس ایک غریب سا آدمی تھا، لیکن تھامس ایڈیسن کا بزنس ایسو سی ایٹ ، یا پارٹنر بننا چاہتا تھا۔۔
جی، اسی تھامس ایڈیسن کا، جس نے لائٹ بلب سمیت دو ہزار سے زیادہ چیزیں ایجادکیں۔
اور جس وقت ایڈون کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی، اس وقت ان کے پاس کوئی وسائل نہ تھے۔
اتنی رقم بھی نہ تھی کہ ایڈیسن کے پاس جانے کے لیے ٹرین کی ٹکٹ خریدی جا سکتی۔
عام طور پر ہم لوگوں کو کوئی چیز مشکل لگے تو ہم کوشش ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
اکثر دل میں کوئی خواہش پیدا ہوتی ہے، تو خود سے کہتے ہیں۔۔چھوڑو یار، اپنے پاس تو اتنے وسائل ہی نہیں۔
یعنی وسائل پیدا کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے، مشکل کام میں ہاتھ ہی نہیں ڈالتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

لو کہہ دیا، مجھے تم سے نفرت ہے

اگر آپ ایک hard working انسان ہیں۔آپ کو محنت وغیرہ کرنے کا بہت شوق ہے۔تو براہ مہربانی، یہ تحریر نہ پڑھیں۔
کیوں کہ میں ان محنتی لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔
بندہ صبح صبح دہی کھا کر دفتر جاتا ہے۔۔ تو وہاں جاتے ہی کام تو نہیں شروع کر دیتا نا۔ پہلے سارے دفتر والوں سے حال احوال لیتا ہے، گپ شپ لگاتا ہے، جو کولیگ موجود نہ ہو اس کی غیبت کرتا ہے۔پھر ناشتہ منگواتا ہے، ناشتہ کرتاہے۔۔ پھرجا کر موڈ بنے تو کام شروع کرتا ہے۔
لیکن یہ لوگ وقت پر دفتر پہنچتے ہی کام بھی شروع کر دیتے ہیں۔ کم بخت ناشتہ بھی گھر سے کر کے آتے ہیں۔تو غصہ نہ آئے تو اور کیا آئے۔ پڑھنا جاری رکھیں

ناکام لوگوں کی 13 عادات

آپ نے کوشش کی۔۔ اور ناکام ہو گئے۔۔ تو اس کی بھی ایک وجہ تھی۔
بلکہ ایک بھی نہیں۔۔ اس کی تیرہ وجوہات تھیں۔۔
جی۔آپ میں، اور شاندار کامیابی کے راستے میں تیرہ وجوہات کھڑی ہوتی ہیں۔
ناکامی کی وجہ نمبر ایک۔ ۔ سب سے پہلے تو ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا، کہ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ کوئی باقاعدہ مقصد نہیں ہوتا۔ لائی لگ ہوتے ہیں۔ جو دوسروں کو کرتے دیکھتے ہیں، خود بھی وہی کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر جلد ہی دل چھوڑ دیتے ہیں۔ ہمت ہار دیتے ہیں۔ چوں کہ پتہ ہی نہیں ہوتا کہ زندگی میں کرنا کیا ہے۔ اس لیے کوئی بھی کام دل سے نہیں کرتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

او کچھ نہیں ہوتا

او کچھ نہیں ہوتا!
یہ جو جملہ ہے نا، بڑے عجیب انداز سے ہمارے مزاج کا حصہ ہے۔ کہیں تو ہم بہت ہی گھمبر بات کو، او کچھ نہیں ہوتا، کہہ کر ٹال جاتے ہیں۔ اور کہیں بہت ہی معمولی سی بات پر بھی یہ جادوئی جملہ نہیں بولتے۔
آپ کے ہاں مہمان آئے ہیں۔۔۔ انہیں شوگر ہے ۔۔۔ آپ انہیں شربت، کولڈ ڈرنک یا جوس پیش کرتے ہیں
وہ کہیں گے۔۔۔ آئی ایم ساری مجھے شوگر ہے
تو اکثر لوگوں کا یہ جواب ہوتا ہے
او ایک گلاس سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ او پی جائیں، شوگر ووگر کچھ نہیں کہتی۔ یعنی اگلے بندے کی صحت اور زندگی داؤ پر ہے، پھر بھی انہیں کہا جاتا ہے، او کچھ نہیں ہوتا۔ پڑھنا جاری رکھیں

چینی چھوڑنے کا دکھ

آپ کے ارد گرد ایسے لوگ ضرور ہوں گے، جو چائے میں چینی نہیں لیتے
میں ایسے نام نہاد، کھوٹے نفیس لوگوں سے بہت تنگ ہوں۔ کیوں کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پھیکی چائے پی کر آپ ثابت کیا کرنا چاہتے ہیں؟
دیکھیں۔ چینی کے بغیر چائے ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر انسان۔ لیکن کچھ لوگ پھیکی، بلکہ کڑوی چائے پی پی کر خود کو سوفیسٹی کیٹڈ سمجھنے لگتے ہیں، اور جو ایسا نہ کرے، اسے خود سے کم تر سمجھتے ہیں۔ ان میں خواہ مخواہ کا احساس برتری کمپلیکس آ جاتا ہے۔ یوں برتاؤ  کرنے لگتے ہیں جیسے وہ بڑی توپ چیز ہیں۔ کسی محفل میں ان سے پوچھا جائے، کہ کتنی شکر لیں گے، تو سر جھٹک کر انگریزی میں جواب دیتے ہیں
No sugar please. پڑھنا جاری رکھیں

علاج

کہاں مصروف ہو آج کل؟
بس یار کیا بتاؤں
ارے ہاں، تم تو ماہر نفسیات کے پاس جا رہے تھے نا، کیا تشخیص کی اس نے
کچھ نہیں، بس کہتا ہے میں بہت زیادہ workaholic ہوں۔
وہ کیا ہوتا ہے؟
جسے کام کا بہت شوق ہو۔
پھر کیا علاج ہے مرض کا
علاج تو اس نے نہیں بتایا، لیکن ماہر نفسیات کی فیس بھرنے کے لیے آج کل دو نوکریاں کر رہا ہوں

#منقول

مچھر طبیعت لوگ

جب بھی سردیاں آنے والی ہوں، یا جانے والی ہوں۔۔۔ مچھر نامی مخلوق کا راج قائم ہوتا ہے۔ ذرا کھڑکی کھلی رہ گئی تو غول کا غول کمرے میں در آتا ہے۔ آپ سوتے ہیں تو یہ کان میں آ کر بھنبھناتا ہے، آپ کو غافل پا کر آپ کا خون چوستا ہے۔ جس کی وجہ سے آپ کو خارش ہوتی ہے۔ آپ ہڑبڑا کر کھجاتے ہیں اور کروٹ بدل کر پھر سو جاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ مچھر پلٹ پلٹ کر حملے کرتے ہیں اور آپ کی ساری رات کھجانے اور کروٹیں بدلنے میں گزر جاتی ہے۔ صبح کسل مندی ہوتی ہے لیکن زندگی کے معمولات شروع کرتے ہی آپ مچھروں سے رات بھر کی لڑائی بھول جاتے ہیں۔
کبھی کبھی مچھروں سے جنگ کی بدمزگی آپ کے چہرے پر بھی دکھتی ہے اور کوئی پوچھ بیٹھتا ہے، "خیر ہے، مضمحل کیوں ہو؟” تو آپ کندھے اچکاتے ہیں اور لاپروائی سے جواب دیتے ہیں، "کچھ نہیں، رات مچھر بہت تھے۔”
بس اتنی سی اہمیت ہوتی ہے مچھر کی آپ کی زندگی میں۔ پڑھنا جاری رکھیں

دس سال پہلے کی ڈانٹ

بارہ برس قبل کا قصہ ہے۔ میں اور فرخ ایکسٹرنل کے سامنے خوف زدہ سے بیٹھے تھے۔ بی ایس کا فائنل تھیسس ہم دونوں نے مل کر ہی لکھا تھا۔ چلو لٹریچر ریویو وغیرہ کی حد تک تو پہلے سے دستیاب مواد سے استفادہ کیا۔ لیکن ریسرچ میں خوب جان ماری۔ ڈیٹا خود اکٹھا کیا، انٹرویوز خود کیے۔ دن بھر فرخ کی موٹرسائیکل پر خاک پھانکتے۔ شام میں ہوسٹل واپس آ کر جمع شدہ مواد کو تحریر کرتے۔ ایک ایک لفظ خود اپنے ہاتھ سے لکھا۔ تحقیقی تجزیے اور اختتامی نوٹ میں تو اس قدر عرق ریزی کی کہ ایک ایک کوما اور فل اسٹاپ تک ازبر ہو گیا۔
اس کے باوجود ایکسٹرنل سے خوف زدہ ہونے کی ایک وجہ ان کی مونچھیں تھیں، جو بہت گھنیری نہ تھیں، لیکن چہرے کو خاصا بارعب بنا رہی تھیں۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ایکسٹرنل صاحب انگریزی میں سوال پوچھتے اور انگریزی میں ہی جواب کی توقع رکھتے۔ پڑھنا جاری رکھیں

پائیداری

چولہے میں آگ لگانے کے لیے آلہ نصب تھا۔ ہم بٹن دباتے تو چنگاری سی اٹھتی اور آگ جل جاتی۔ کچھ عرصہ استعمال کے بعد وہ آلہ خراب ہو گیا تو سیاسی باتیں کر کے چولہا دہکانے کی کوشش کرتے رہے۔ بات نہ بنتی تو ماچس استعمال کر لیتے۔
ایک روز جی میں آئی، ماچس کی تیلیاں جلانا اولڈ فیشنڈ سا لگتا ہے۔ بازار سے لائٹر خرید لاتے ہیں۔ وہاں دو اقسام میسر تھیں۔ ایک لائٹر تیل جلا کر آگ نکالتا تھا، دوسرے میں سیل ڈلتے، بٹن دبانے پر چنگاری سی چھوٹتی۔ دکان میں ہی ایک پستول نما چیز پر نظر پڑی۔ معلوم ہوا یہ بھی لائٹر ہے۔ ٹریگر دبائیں تو پستول کے دہانے سے چنگاری نکلے گی اور چولہے میں آگ دہک اٹھے گی۔ اس میں سیل ڈلتا تھا نہ ہی تیل، گویا آگ کے معاملے میں خود کفیل تھا۔
دکاندار سے پوچھا، کیوں بھئی، کتنا عرصہ نکال جائے گا یہ لائٹر؟
کہنے لگا، سر ایسی چیزیں تو لائف لانگ ہوتی ہیں۔ تین سال تک تو کہیں نہیں جاتا

پرانی موٹرسائیکل اور گندی گالیاں

زمانہ گزرا، ہم نے ایک عدد سیکنڈ ہینڈ موٹرسائیکل خریدی۔ ظاہری صورت تو بھلی ہی تھی، اور تکنیکی باریکیوں کا ہمیں علم نہ تھا۔ بیچنے والا بھی مستری تھا، سو ہمیں اطمینان تھا کہ اس نے ٹھیک حالت میں رکھی ہو گی۔ لہذا زیادہ چھان پٹک نہ کی اور سودا کر لیا۔ اب اگلے روز اسے کک مارتے ہیں تو وہ اسٹارٹ نہیں ہوتی۔ دوبارہ اسی عطار کے لونڈے کے پاس جا پہنچے جس سے یہ بیماری خریدی تھی۔
اسے بتایا کہ موٹرسائیکل تو اسٹارٹ ہو کے نہیں دے رہی۔
کہنے لگا، پا جی، اینوں اسٹارٹ کرن واسطے گالاں کڈنیاں پین گیاں (بھائی صاحب، اسے اسٹارٹ کرنے کےلیے گالیاں نکالنی پڑیں گی)
ہم سٹپٹائے، "بھیا گالیاں نکالنی تو ہمیں آتی ہی نہیں۔”
بولا، پا جی جدوں ککاں مارو گے اور اے اسٹارٹ نہیں ہووے گی تے گالاں کڈنیاں آپے ای آ جان گیاں (بھائی صاحب، جب آپ ککس ماریں گے اور موٹرسائیکل اسٹارٹ نہیں ہو گی تو آپ کو خود بخود گالیاں نکالنا آ جائےگا۔
مشورہ نا معقول تھا، پھر بھی ہم نے موٹرسائیکل کو کک ماری تو منہ سے نکلا، ہٹ نالائق! اسٹارٹ ہو جا۔
پا جی اے کی پے کردے او؟ مکینک نے حیرانی سے پوچھا۔ (بھائی صاحب، یہ کیا کر رہے ہیں)
تمہارے ہی کہنے پر موٹرسائیکل کو گالیاں نکال رہے ہیں۔
ناہنجار کہنے لگا، پا جی ایناں گالاں نال کم نہیں چلنا، اینوں گندیاں گالاں کڈو (ایسی گالیوں سے کام نہیں چلنا، گندی گالیاں نکالیں)
اب یہ نہیں کہ ہمیں گندی گالیاں آتی نہ تھیں، بس اس کے سامنے خفیف ہوئے جا رہے تھے۔
کک ماری اور دل کڑا کر کے بول دیا، نطفہ نا تحقیق! اسٹارٹ کیوں نہیں ہوتی۔
مکینک ہنس ہنس کو دوہرا ہو گیا۔ بولا، گالاں انگریزی اچ نہیں، پنجابی اچ کڈنیاں نیں (گالیاں انگریزی میں نہیں، پنجابی میں نکالنی ہیں)
اب ہماری ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ غصے سے موٹرسائیکل کو کک ماری تو بے ساختگی میں دانت پیس کر کہا، تیری پین دی سری۔
اور موٹرسائیکل اسٹارٹ ہو گئی
#ماخوذ