نیازی صاحب کا شربت

خدا جانے شرارت تھی یا لالچ۔ دفتر میں کچھ عناصر نے نیازی صاحب کے شربت پر میلی آنکھ رکھ لی۔ گلاس بھر پیا، اور مقدار کی کمی سادہ پانی سے پوری کر دی۔
ماہ رمضان کا شاید آخری عشرہ چل رہا تھا۔ نیازی صاحب نے افطاری سے قبل حسب معمول آفس کینٹین کی فریج سے شربت کی بوتل نکالی۔ لیکن شربت خلاف معمول پھیکا سا نکلا۔ شاید بیگم سے حساب کتاب میں کچھ بھول ہوئی ہو۔۔۔ نیازی صاحب نے صبر کے ‘پھیکے’ گھونٹ بھرتے ہوئے شربت حلق سے اتار دیا۔
اگلے روز شربت پسند عناصر نے زیادہ مقدار پر صفایا کیا، ظاہر ہے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے پانی بھی اسی مقدار میں بڑھانا پڑا۔ اب نیازی صاحب کو پھیکے شربت کے پیچھے کسی منظم واردات کا ذائقہ محسوس ہوا۔ پڑھنا جاری رکھیں

Advertisements

مراد علی شاہ صاحب!آئیں بھنگ پیتے ہیں

ارے مراد علی شاہ صاحب۔ آپ تو سنجیدہ ہی ہو گئے۔ یہ وزیراعلیٰ بنتے ہی عوامی خدمت کا نعرہ لگانے کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کو عوام سے ایک ہی چیز تو چاہیے ہوتی ہے، ووٹ۔ وہ خدمت کیے بغیر بھی مل رہے ہیں۔ جب آپ کو وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کیا گیا، اس وقت آپ نے کہا تھا  وہی کریں گے جو پارٹی لیڈر شپ کہے گی۔۔۔ پھر یہ عوامی خدمت کا اعلان کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔
شاید ہمارے کان بجے، امن و امان کے حوالے سے آپ نے قائم علی شاہ کے دور کو سندھ کا بہترین دور قرار دیا۔ اگر آپ کے نزدیک بہتری کا معیار یہ ہے تو خدا جانے بدتری کسے کہیں گے۔
ایک تو آپ نے اپنی تقریر میں انگریزی کے فقرے بار بار استعمال کیے۔ مجھ ان پڑھ کو تو سمجھ ہی نہیں آئی۔ صاف کراچی، ہرا تھر اور محفوظ سندھ۔۔۔ کیا یہی کہا آپ نے؟ کہیں آپ کراچی کا کچرا صاف کرانے کا پروگرام تو نہیں بنا بیٹھے؟ پڑھنا جاری رکھیں

آسان حل

ایک چینل کا صحافی اور اسی چینل کے شعبہ آئی ٹی میں
کام کرنے والا۔۔۔ گاڑی میں کہیں جا رہے تھےکہ ٹائر پنکچر ہوگیا
صحافی نے کہا، نیوز روم فون کر کے ٹکر لکھواتا ہوں، مسئلہ حل ہو جائے گا
آئی ٹی والا کہنے لگا۔۔۔ایک دفعہ گاڑی ری اسٹارٹ کر کے نہ دیکھ لیں۔۔

یوں لگا، خلوص کا انعام ملا ہو!

مون نے مجھے مشکل میں ڈال دیا تھا۔ میں اس کا کھلونا ہاتھ میں پکڑے ہونق کھڑا تھا، اور وہ طمانیت بھری مسکراہٹ سے مجھے دیکھتا تھا۔
ٹھہریے۔
آپ کو برسوں پرانی یہ کہانی شروع سے سنانا پڑے گی۔ میں  مون کے گھر گیا تو اس نے بہت شوق سے اپنے کھلونے مجھے دکھائے۔ پھر ایک ننھی سی گاڑی اٹھا کر پوچھنے لگا، کیسی ہے؟ گاڑی بہت ہی پیاری تھی، نہ بھی ہوتی تو دوست کو کیسے کہہ دیتا اس کا کھلونا اچھا نہیں۔
تعریف سنتے ہی کہنے لگا، یہ گاڑی تمہیں پسند آئی اس لیے تم رکھ لو۔ میں ہکا بکا رہ گیا۔ تعریف اس مقصد کے لیے تو نہ کی تھی، اس کا کھلونا میں کیسے رکھ سکتا ہوں (ہم دونوں عمر کے اس حصے میں تھے جب ہر بچہ اپنے کھلونے کو دنیا کی تمام چیزوں سے عزیز سمجھتا ہے)۔ میں نے منع کرنے کی کوشش کی، وہ مان کر نہ دیا۔ زیادہ انکار سے اس کا دل ٹوٹنے کا ڈر تھا، لیکن یوں کسی کا کھلونا ہتھیا لینا مجھے اچھا نہ لگتا تھا۔ شاید میں اس سے جلتا بھی تھا، کوئی اپنے کھلونوں کے بارے میں اتنا دریا دل کیسے ہو سکتا ہے؟ پڑھنا جاری رکھیں

آم ہو یا جام ہو

آپ بھی کہیں گے گھسا پٹا مضمون پھر سے باندھنے لگے۔ صاحب ہمارے سامنے تو ہزار بار آم کا ذکر آئے تو بھی جی نہ اکتائے۔ آپ کے لیے سرسوں کے پھول بہار کی علامت ہوتے ہوں گے۔ ہم تو جب ریڑھیوں پر پیلے پیلے آم رکھے دیکھتے ہیں تب سمجھتے ہیں کہ بہار آئی ہے۔
گرمیوں کی تپتی دوپہر ہو، کاٹے نہ کٹ رہی ہو۔ ایسے میں چند کلو آم میسر آجائیں تو جام کا لطف آ جائے۔
ذرا سوچیے، طرح دار، سجیلا آم کس بانکپن کے ساتھ ریڑھی پر جلوہ افروز ہوتا ہے۔ اوپر سے پھلوں کا بادشاہ بھی کہلاتا ہے۔ چھونے سے پہلے فرشی سلام کو جی چاہے۔ آپ ریڑھی والے سے اپنی پسند کا تلوانا چاہیں گے، وہ ہاتھ نہ لگانے دے گا۔ جھٹ پٹ چند دانے تول کر آپ کو تھما دے گا۔ گھر آ کر معلوم ہو گا، ریڑھی پر جو نکھرے نکھرے پیلے آم دیکھے تھے، ان میں سے چند ہی آپ کے حصے میں آئے ہیں، باقی کے جو ہیں وہ داغدار ہیں اور پلپلے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

محبتوں کا شکریہ

ہم بنیادی طور پر شرمیلے واقع ہوئے ہیں۔ کہیں مرکز نگاہ بن جائیں تو نظریں جھک جاتی ہیں۔ اپنی شادی پر بھی نظریں ایسی نیچی کیں کہ ابھی تک نہیں اٹھائیں۔ کچھ تو حیا داری اور کچھ اپنی اٹھان بھی ذرا قدیم طرز پر ہوئی، ہم نے کبھی سالگرہ نہ منائی۔ جولائی میں پیدا ہونے کی وجہ سے سالگرہ گرمیوں کی چھٹیوں میں آتی ۔۔۔ گھر میں تو یہ دن منانے کا رواج ہی نہ تھا، اسکول کے دوست بھی بے خبر رہتے۔ اکثر تو سالگرہ والا روز ہمیں یاد ہی نہ رہتا۔
یہ بھی سوچتے کہ پیدا ہو کر ہم نے ایسا کون سا کمال کیا ہے جو خوشیاں منائی جائیں۔ اوپر سے یہ خیال دل میں بیٹھ گیا کہ زندگی کا ایک سال بڑھا ہے تو ایک کم بھی ہوا ہے، لہذا خوشی کے بجائے غم کا مقام ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

صحافت اور صلہ

نائٹ شفٹ میں ایک ہنگامہ ہوا کرتا۔ خبریں چلانے والے شعبے میں افرادی قوت صرف دو نفوس۔ وہی خبر نامہ ترتیب دیتے۔ سرخیاں نکالتے، فوٹیج کی تدوین کراتے، خبروں کی نوک پلک درست کرتے۔ کسی ایک کی چھٹی ہوتی تو دوسرا سبھی کام اکیلے کرتا۔ جو رات کے بلیٹن میں تازہ خبریں دینے کا شوقین ہوتا اسے سر کھجانے کی فرصت نہ ملتی۔ ایسے میں کوئی اہم خبر آ جاتی تو سانس لینے کی مہلت بھی نہ ملتی۔
جس روز کراچی میں رحمان ڈکیت پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا، ہماری نائٹ شفٹ تھی۔ فلاں رپورٹر اسپتال میں موجود، فلاں لیاری میں، فلاں جگہ سے رحمان ڈکیت کی فوٹیج آ گئی، فلاں نئی معلومات آنے کو ہیں۔ فلاں آ چکی ہیں اور نشر ہونے کی منتظر ہیں۔۔۔ قیامت کی سی افرا تفری۔
ہم ٹی وی صحافیوں کو اسکرین پر چھوٹی چھوٹی ڈبیاں بنا کر ان میں مختلف مناظر بھرنے کا شوق ہوتا ہے۔ یہ دائیں ہاتھ جائے حادثہ کی فوٹیج، وہ بائیں ہاتھ اسپتال کے مناظر، کسی کونے میں اینکر ٹانک دو، کہیں سے رپورٹر جھانک رہا ہو۔۔۔ اسکرین پر یہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں کھولنا ہم تخلیق کاری سمجھتے ہیں۔ پڑھنا جاری رکھیں