بڑا صحافی بننے کے رہنما اصول

 بڑا صحافی بننے کے لیے پہلا اصول یہ ہے کہ کسی اصول، اخلاق، یا ضابطے کی پیروی نہ کریں۔
ایک  بڑے صحافی کےلیے پریشان ہونا، پریشان دکھنا اور پریشان کرنا (دوسروں کو) بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی کبھار مسکرانے کی عادت میں مبتلا ہیں تو کبھی بڑے صحافی نہیں بن سکتے۔
اضطراب کو شخصیت کا حصہ بنا لیں۔ خبر آنے پر اچھل پڑیں۔ نہ آنے پر چھلک پڑیں۔
ہر خبر کو بریکنگ نیوز سمجھیں اور اسی طرح برتیں۔
اپنے آپ کو بڑا صحافی ثابت کرنے کے لیے گاہے بگاہے دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہیں۔
لفافہ دکان سے ملے یا سیاستدان سے۔۔۔آنکھیں اور منہ بند کر کے لے لیں۔
مطالعہ۔۔۔ چاہےکتاب کا ہو، یا اخبار کا۔۔۔اجتناب برتیں۔ پڑھنا جاری رکھیں

ٹی وی پر خبر چلانے کے طریقے

پہلا طریقہ
دوسرے چینل پر خبر چلتی دیکھیں۔
دھاڑ کر اپنے عملے سے پوچھیں، "کیا یہ خبر ہمارے پاس ہے؟”
جواب نہ میں آئے تو اپنے سر کے بال نوچیں۔
جواب ہاں میں آئے تو عملے کے سر کے بال نوچیں، کہ خبر آئی ہوئی تھی تو پہلے کیوں نہ بتایا۔
جواب نہ میں آنے کی صورت بے تابی سے فون اٹھائیں، متعلقہ رپورٹر سے بازپرس کریں اور اسے جھاڑپلانا شروع کر دیں۔
رپورٹر آپ کا فون سن رہا ہے، چنانچہ خبر مزید تاخیر کا شکار ہو رہی ہے۔ اس بات پر مزید برہم ہو جائیں۔
فون میز پر پٹخ دیں۔ جلدی سے بھاگ کر ان ٹی وی اسکرینز کی طرف جائیں جہاں آپ کی مطلوبہ خبر چل رہی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بی بی سی کی خبر ناقص کیوں؟

خبر میں معلومات جتنی اہم ہوتی ہیں، حوالہ اور موقف بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ مسئلاً پاکستان میں فلاں نیا ٹیکس نافذ کردیا گیا؛ اب جہاں یہ خبر اہم ہے، وہیں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ٹیکس لگانے کا اعلان وزیرخزانہ نے بجٹ اجلاس کے دوران کیا۔
خبر میں عمومی بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ مسئلاً تاجر برادری نے ٹیکس مسترد کردیا۔۔۔اس خبر کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ تاجر برادری سے مراد فلاں انجمن ہے، جس کے صدر نے ٹیکس پر اپنا موقف دیا ہے۔
یہاں تک کہ کسی سانحے میں ہلاکتوں کی خبر بھی حوالے کے ساتھ دی جاتی ہے۔ عموماً اسپتال ترجمان یا حکام ہلاکتوں کی جو تعداد بتائیں اسے رپورٹ کیا جاتا ہے۔
کسی تحقیقاتی خبر میں تو حوالے اور موقف کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں