حادثہ ہو گیا

ایک سڑک سے بائیں ہاتھ دوسری سڑک کو مڑے تو پیچھے آنے والے موٹرسائیکل سوار نے بائیں جانب سے ہی اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی۔ ہماری گاڑی ابھی موڑ کاٹ ہی رہی تھی کہ وہ ہم سے آن ٹکرائے۔ ٹکر کے نتیجے میں موٹرسائیکل سوار، ان کی اہلیہ اور تین بچے گر گئے۔
ڈرائیونگ سیٹ پر اہلیہ تھیں، ابھی تربیتی لائسنس ملا تھا، اور گاڑی چلانے کی مشق جاری تھی۔ شاید موڑ کاٹنے کے بعد ان سے گاڑی بروقت سیدھی نہ ہوئی اور حادثہ پیش آیا،  یہ سوچ کر ہم نے موٹرسائیکل سوار، ان کے بچوں اور اہلیہ سے معذرت کی۔
وہ صاحب الجھنے لگے کہ اگر کوئی سنجیدہ نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔ ہم نے بارہا معذرت کی، لیکن وہ یہی کہتے گئے کہ آپ کی معذرت سے کیا ہوتا ہے، اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا ہوتا۔
اس منطق کا جواب ہمارے پاس نہ تھا۔ دل سے معذرت خواہ تھے، ان کو لگنے والی خراشوں پر رنجیدہ تھے، ان کا کوئی نقصان ہوا تھا تو بھرنے کو تیار تھے، معذرت کے سوا کچھ کر نہ سکتے تھے۔ ان سے عرض کی، بھیا جب ہماری معذرت آپ کو قبول نہیں تو ہمارے خلاف کوئی قانونی چارہ جوئی کیجیے۔ ہمارا جرم ہے تو سزا دلوائیے۔
یہ سنتے ہی انہوں نے فون نکالا اور نمبر ٹٹولنے لگے۔ ساٹھ بڑبڑاتے جاتے، اس رپورٹر کا کیا نمبر تھا۔۔۔ میں نے سوچا شاید رپورٹر سے ون فائیو کا نمبر پوچھنے لگے ہیں۔ اتنی دیر میں کال مل گئی۔ کہنے لگے، میں فلاں جگہ کھڑا ہوں فوراً ڈی ایس این جی بھیجو (ڈی ایس این جی میڈیا کی اس گاڑی کو کہتے ہیں جو سیٹلائٹ سے منسلک ہو جاتی ہے۔ کسی مقام سے ٹیلی وژن نشریات براہ راست دکھانے کے لیے اس گاڑی کا استعمال کیا جاتا ہے)
جب ہم نے بات قانون کے ہاتھ سے نکل کر میڈیا کے ہاتھ میں جاتے دیکھی تو خاموش کھڑے ہو گئے اور معاملات تقدیر کے سپرد کر دیے۔ ابھی ٹی وی چینل کی گاڑی پہنچی نہ تھی کہ ان کی اہلیہ نے انہیں بات ختم کرنے پر قائل کر لیا۔ ہم نے ایک بار پھر معذرت کی، شکریہ ادا کیا اور گھر روانہ ہوئے۔ جلدی میں ان کا نام تک پوچھنا یاد نہ رہا۔ حادثے پر اب بھی افسوس ہے۔ اللہ انہیں اور اہل خانہ کو ہمیشہ سلامت رکھے۔ آمین

Advertisements

کرنٹ افیئر پروگرام کا ‘پرومو’ بنانے کا فارمولا

اگر آپ کرنٹ افیئر، یعنی حالات حاضرہ پر مبنی پروگرام شروع کرنے جا رہے ہیں تو اس کی تشہیر کے لیے بھی آپ کو ایک ویڈیو بنانا ہو گی۔ اس تشہیری ویڈیو کو میڈیا کی زبان میں پرومو کہا جاتا ہے (جو پروموشن سے نکلا ہے)۔
تو ایسا پرومو بنانے کا بہت سادہ سا فارمولا ہے۔
سب سے پہلے پروگرام کے اینکر کو شہر کی سڑکوں پر گواچی گاں کی طرح پھرتے ہوئے دکھائیں۔
اسے شہر کی کسی تاریخی یا اہم عمارت میں داخل اور خارج ہوتے دکھائیں۔ یا اینکر کو کسی بہت ہی اونچی عمارت پر لے جائیں جہاں کھڑا ہو کر وہ شہر کو غور سے دیکھے (اور دل میں سوچے کہ کہیں شاٹ بنوانے کے بعد پروڈیوسر دھکا تو نہیں دے گا)۔
اینکر کو کسی لائبریری لے جائیں، یہاں وہ کتابوں سے بھری الماری سے سب سے موٹی کتاب نکالے اور یوں پڑھنے لگے جیسے سی ایس ایس کی تیاری کر رہا ہے۔
کتاب پڑھنے کے ساتھ ساتھ اسے نوٹس لیتے ہوئے بھی دکھائیں۔
ایسا شاٹ بھی ضروری ہے جس میں اینکر اخبار پڑھے اور کسی اہم خبر کے گرد دائرہ لگائے۔ پڑھنا جاری رکھیں

نیشنل جیوگرافک میں پاکستانی ٹی وی کا صحافی

ایک دفعہ پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلز میں کام کرنے والا صحافی نیشنل جیوگرافک میں بھرتی ہو گیا۔
وہاں جا کر اس نے وخت ڈال دیا۔ ہر وقت جلدی مچائے رکھتا۔ نہ ڈھنگ سے ایڈیٹنگ کرنے دیتا نہ کہانی کے ربط کا خیال رکھتا۔ بس جو فوٹیج جیسے ملتی اسے وہیں جوڑ جاڑ کر نشر کر دیتا۔ ایک کہانی چلنے کے دوران کوئی نئی آ جاتی تو پہلی روک کر دوسری چلا دیتا۔ نہ اسے کچھ سمجھ آتی نہ دیکھنے والوں کو۔ ہاتھی پر دستاویزی فلم چلی تو اس میں چوہوں کے شاٹ بھی لگے ہوئے تھے۔ افسروں نے پوچھا کہ یہ کیا؟ کہنے لگا فوٹیج آئی تھی میں نے سوچا اچھی ہے، ابھی نہ چلائی تو ضائع ہو جائے گی۔ ایک بار ہائی ریزولوشن فلم میں وٹس ایپ سے آئی فوٹیج ٹھوک دی۔ پوچھا گیا تو بتایا کہ نمائندے نے بھیجی تھی، کہیں تو استعمال کرنی تھی نا! افسر اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ ہر آئی ہوئی چیز چلانے والی نہیں ہوتی، تمہیں یہاں اس لیے نہیں رکھا کہ جو آئے چلا دو۔ بلکہ تمہارا کام چھانٹی کرنا ہے اور صرف بہترین چیز نشر کرنا ہے۔ لیکن خبری صحافی کو اپنے افسروں کی بات سمجھ نہ آتی۔ پڑھنا جاری رکھیں

چلیے سازشی نظریات گھڑتے ہیں

بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں ‘ایک قوت’ فیصلہ کر چکی تھی کہ نواز شریف کو گھر بھیجنا ہے۔ سپریم کورٹ نے تو بس اس فیصلے پر اپنے دست خط کیے ہیں۔
پانامہ کیس اربوں روپے کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کا تھا، لیکن نواز شریف کو سزا چند لاکھ کے اثاثے چھپانے پر سنائی گئی ہے۔ یہ چند لاکھ بھی وہ ہیں جو وصول ہی نہیں کیے گئے۔
اثاثے کی تعریف بھی توجہ طلب ہے۔ اگر میں نے کسی کے لیے کچھ خدمات سرانجام دیں۔ اب اس فرد نے مجھے رقم کی ادائیگی کرنی ہے لیکن تاحال کی نہیں۔ تو کیا وہ رقم، جو ابھی ملی ہی نہیں، میرا اثاثہ ہے؟
کسی چیز کو چھپایا اس صورت جاتا ہے جب سامنے آنے سے نقصان ہو۔ نواز شریف دبئی کمپنی میں چیئرمینی تسلیم کر چکے تھے، تنخواہ وصولی بھی تسلیم کر لیتے تو کچھ پکڑ نہ ہوتی۔ لہذا غیر وصول شدہ آمدن ظاہر نہ کرنے میں غلطی تو ہو سکتی ہے، بدنیتی نہیں۔
اسی بات کو بطور ثبوت پیش کیا جا رہا ہے کہ چونکہ ‘ایک قوت’ ہر صورت نواز شریف کو گھر بھیجنے کا فیصلہ کر چکی تھی لہذا سپریم کورٹ نے کمزور قانونی جواز تراشتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا۔
بات قرین قیاس تو لگتی ہے، لیکن یہ بھی سوچیے پڑھنا جاری رکھیں

سیٹھوں کے ملازم صحافی

پیارے صحافی بھائیو اور بہنو! خاکسار کے خیال میں آج کل صحافت ایک کاروبار ہے اور ہر بیوپار کی طرح اس کا بنیادی مقصد بھی پیسہ کمانا ہے۔ اس میڈیائی بازار میں خبر ایک پراڈکٹ ہے اور صحافی اسے لانے، بنانے اور پیش کرنے والا مزدور۔ آپ کی خبر بکے گی تو کاروبار چلے گا۔
جس سیٹھ کے ہاں آپ مزدوری کرتے ہیں، وہ صحافت کے علاوہ بھی کئی کاروبار کرتا ہے۔ اور میڈیائی کاروبار کرنے کا ایک مقصد اپنے ‘دیگر’ تجارتی مفادات کا تحفظ بھی ہوتا ہے۔ لہذا آپ کی صحافت بھی اسی سوداگری دائرہ کار میں رہے گی۔ آپ ہر وہ خبر چلانے میں آزاد ہوں گے جس سے سودا بھی بک جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
اسی دائرے میں گھومتے ہوئے آپ نے مزدوری کرنی ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

کون خریدتا ہے یہ؟

لاہور میں نیلا گنبد سے نسبت روڈ کی طرف جائیں تو فٹ پاتھ کنارے برقی کاٹھ کباڑ فروخت ہوتا نظر آئے گا۔ ٹیلے فون ریسیور، موبائل فون، ٹیبلٹ، کمپیوٹر کے اسپیکر، ہیڈ فون، ماؤس، گھڑیاں، عینکیں۔۔۔ لیکن سب کے سب ٹوٹے پھوٹے۔ ایک بھیڑ لگی ہوتی ہے، اکثر لوگوں کو کاٹھ کباڑ پھرولتے ہی دیکھا، کوئی چیز خریدتے کسی کو نہ دیکھا۔
کرچی کرچی اسکرین والی ٹیبلٹ اٹھا کر دکاندار سے پوچھا، کیوں صاحب! کتنے کا ہے؟
دو سو روپے کا۔ دکاندار نے جواب دیا۔
لیکن اسے کون خریدے گا؟ ہمارے سوال میں استعجاب تھا۔ پڑھنا جاری رکھیں

مقدس پانی کب ملے گا؟

صبح پانچ بجے سفر کا آغاز کیا تو اندازہ نہ تھا دھند یوں آن دبوچے گی۔ ٹھوکر نیاز بیگ لاہور سے موٹر وے کا راستہ پکڑا تو بادل سے آ گئے۔ سوچا کسی فیکٹری کا دھواں ہو گا۔ سر جھٹک کر آگے بڑھے تو پھر سب صاف۔ اس سے پہلے گھر سے نکلنے اور اسٹور سے خریداری کے بعد معمولی سا حادثہ کرا بیٹھے تھے۔ گاڑی میں چار پانچ نفوس بیٹھیں تو سردیوں میں شیشے دھندلا جاتے ہیں۔ پیچھے موجود کھمبا نظر ہی نہ آیا۔ تصادم کے بعد اتر کر دیکھا تو زیادہ نقصان نہ تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔
خالی ٹینکی کے باوجود اطمینان تھا کہ موٹر وے ٹال پلازے سے پہلے ایک پیٹرول پمپ ہے۔ لیکن دھند کا ایسا ہلہ آیا کہ پیٹرول پمپ نظر ہی نہ آیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

دھرنا ڈائری: دوسرا اور آخری صفحہ

pti-girls-dance-in-islamabad-dharnaآفس سے کال آئی آپ نے دھرنا کوریج کے لیے اسلام آباد جانا ہے۔ ہمیں خوشی اور تشویش ایک ساتھ ہوئی۔ خوشی ایک مختلف ذمہ داری ملنے کی تھی، تشویش اس بات کی کہ خدا جانے یہ دھرنا کب تک چلے۔ کتنے دن کا زاد راہ ساتھ رکھیں، اسلام آباد کا موسم کیسا ہو گا، گرم کپڑے نکالنے ہیں تو الماری کے بالائی خانے پھرولنا ہوں گے، وغیرہ وغیرہ۔
2014 کے دھرنے میں بھی اسلام آباد بھیجے گئے تھے، نیوز روم کی چار دیواری سے نکل کر فیلڈ میں جانے سے بہت کچھ سیکھا تھا۔ خبر نشریاتی رابطے کے بجائے اپنی آنکھ سے بنتے دیکھی تھی۔ کئی تجربات جو نیوز روم میں سات سال گزار کر نہ ہوئے وہ فیلڈ میں رہتے ہوئے سات دن میں ہو گئے تھے۔
شادمانی کے غبارے سے کچھ ہوا اس وقت نکلی جب بتایا گیا اسلام آباد جا کر بھی ہمارا پڑاؤ بیورو آفس میں ہی ہو گا۔ سوچے بیٹھے تھے کہ میدان جنگ میں جو کچھ بیتے گا، اس کی داستان کہیں گے، یہاں ہمیں پچھلے مورچوں میں بٹھا دیا گیا۔ پڑھنا جاری رکھیں

پاک بھارت سرحد پر کھڑا علی محمد

بخدمت جناب ارباب اختیار نادرا!
مودبانہ گزارش ہے کہ زبیر اور نادیہ کو معاف کر دیا جائے۔ وہ بھول گئے تھے کہ رشتے چاہے آسمان پر طے ہوتے ہوں، لکیریں تو زمین والوں نے ہی کھینچ رکھی ہیں۔ آسمان سے تو سرحد نظر بھی نہیں آتی، لیکن دھرتی پر دیوار کی مانند ایستادہ ہوتی ہے۔ آر پار دیکھنے دیتی ہے۔۔۔ آنے اور جانے نہیں دیتی۔ زبیر اور نادیہ یہ بھی بھول گئے تھے کہ اوپر والا جوڑے تو بنا دیتا ہے، نیچے والے جڑنے نہیں دیتے۔ آسٹریلیا میں رہتے رہتے انہیں یہ خیال بھی نہ رہا کہ پاکستانی لڑکے اور ہندوستانی لڑکی کی شادی پر فلمیں بنانے والے خواب بیچ کر چلے جاتے ہیں۔ فلم ختم ہو جاتی ہے، پاکستان اور بھارت کی کشیدگی ختم نہیں ہوتی۔
صاحبان نادرا! آپ کچھ دیر کے لیے زبیر اور نادیہ کو بھول جائیے۔ ان کے پانچ ماہ کے بیٹے علی محمد کی آنکھوں میں جھانکیے۔ یہ اپنی شناخت کے لیے آپ کے سرخ فیتے میں الجھ چکا ہے۔

ali-muhammad پڑھنا جاری رکھیں

کیا ڈان کو یہ خبر لگانا چاہیے تھی؟

چھ اکتوبر 2016 کو انگریزی روزنامہ ڈان نے ایک خبر کیا دی، تردیدوں کا سیلاب سا آ گیا۔
خبر کے مطابق ایک بند کمرہ اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم نوازشریف، سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل رضوان اختر اور دیگر سول و عسکری افسران موجود تھے۔
خبر کی تفصیل کیا بتانا۔۔۔ کہ ایک تو اس کی تردید آ چکی، دوسرا ان معاملات میں محتاط رویہ ہی تحفظ کی ضمانت ہے۔ بس سمجھانے کو اتنا کہے دیتے ہیں کہ خبر کے مطابق سول قیادت نے عسکریت پسندوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کا خواہش نما مطالبہ کیا۔ وہ عسکریت پسند جن کے بارے میں امریکا اور بھارت اکثر کارروائی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ عسکری قیادت نے کہا بھئی آپ جسے چاہیں پکڑ لیجیے۔۔۔اس پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے شکایت کی، "ہم کچھ مخصوص افراد کو پکڑتے ہیں تو انہیں چھڑا لیا جاتا ہے۔” پڑھنا جاری رکھیں