قیامت کی صحافت

جب قیامت آئے گی، اور  حضرت اسرافیل صور پھونکنا شروع کریں گے ،تو پاکستان کے ٹی وی نیوز رومز میں کام کرنے والے صحافیوں کو پتہ ہی نہیں چلے گا۔۔۔ کہ یہ آواز اجل کی ہے یا ان کے افسران کی۔
پھر قیامت آنے کی خبر چلے گی۔ ہانک لگائی جائے گی، قیامت آنے کی خبر سب سے پہلے ہمارے چینل نے دی، پھٹہ چلا دو۔ (بریکنگ نیوز کو ترکھان صفت صحافیوں نے پھٹے کا نام دے رکھا ہے۔ اسی پھٹے پر رکھ کر خبر کو قبر تک پہنچایا جاتا ہے۔ لہذا کوئی بھی اہم، یا غیر اہم خبر آئے، نیوزروم میں آواز لگتی ہے۔۔۔اس کا پھٹہ چلا دو، یعنی اسے بریکنگ نیوز قرار دے کر اسکرین پر انڈیل دو)۔
قیامت کی  کوریج کےلیے تیاریاں شروع کر دی جائیں گی۔ چونکہ واقعہ بڑا ہوگا، اس لیے رپورٹر کےساتھ ساتھ اینکر بھی فیلڈ میں بھجوا دیا جائے گا۔ وہ چیخ چیخ کر کہے گا، دیکھیے ناظرین سورج سوا نیزے پر آگیا ہے، سورج اتنا قریب ہے کہ میں اسے ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا ہوں۔۔اوئی۔ پڑھنا جاری رکھیں

جتنے مرضی آپریشن کرلیں

وہ عورت تو کراچی میں رو رہی ہے، پھر میرا منظر کیوں دھندلا گیا ہے۔ حکومت نے تمام اداروں کو آئین کے دائرے میں رہنے کی تلقین کر دی ہے۔ ٹی وی اسکرین پر یہ خبر چنگھاڑ رہی ہے، لیکن میرے گردوپیش میں ایک نمی سی در آئی ہے۔ میں خبر کے کرارے پن سے لطف نہیں اٹھا پا رہا۔
عدالت کا فیصلہ آیا، ریلوے کی زمین پر بنے فلیٹ غیر قانونی ہیں، چوبیس گھنٹے میں خالی کرا لیے جائیں۔ معاملہ سر تا پا خبریت تھا، فوراً رپورٹر اور کیمرے دوڑائے۔ عدالتی حکم کے بعد کیا کارروائی کی جاتی ہے، یہ دیکھنے اور رپورٹ کرنے کے لیے سب نے کمر کس لی۔
وہاں موجود بہت سے لوگوں کی باتیں نشر کیں، کہیں افسوس تھا، کہیں شکایت تھی، غصہ تھا، جھنجھلاہٹ بھی تھی۔۔۔ لیکن اس بوڑھی عورت کے گریے میں کچھ اور بھی تھا۔ عمر بھر کی کمائی لٹ جانے کا صدمہ، سر کی چھت چھن جانے کا ملال، ناامیدی، خوف، فریاد۔ پڑھنا جاری رکھیں