وہ لڑکی پاگل سی، حصہ سوئم

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

گاڑی میں بیٹھ کر گھر کو روانہ ہوئے تو میں نے پوچھا، آپ کیا کرتی ہو؟ کہنے لگی پڑھتی ہوں۔ کس جماعت میں؟ بارہویں میں۔ کس جگہ؟ یہاں لاہور میں ہی۔ کس کالج میں؟ اقبال یونیورسٹی میں۔
ہیں! اول تو ملک میں اس نام کی کوئی یونیورسٹی نہیں۔ کیا وہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کہنا چاہتی ہے؟
کہاں پر ہے یہ اقبال یونیورسٹی؟ مجھے معلوم نہیں میں تو صرف پرچے دینے آتی ہوں۔ لیکن جس جگہ سے اس کا تعلق ہے، وہاں کے لوگ تو پرچے دینے راولپنڈی جاتے ہیں؟ آپ کے مضامین کیا ہیں؟ ڈاکٹری۔
ہر بیان میں کھوٹ۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟
میں نے سخت لہجے میں پوچھ ہی لیا، کیا آپ گھر سے بھاگ کر آئی ہو؟
اس نے آہستہ سے جواب دیا نہیں۔
گھر میں کسی اور کا نمبر یاد ہے؟ جواب اس بار بھی نفی میں تھا۔
مزید سوالات سے معلوم ہوا کہ بڑے بھائی روزی کمانے سعودی عرب گئے ہیں۔ گھر میں ان کی والدہ اور چھوٹے بھائی ہوتے ہیں۔ گھر میں فون صرف اسی کے پاس تھا جو راستے میں کھو گیا۔ والد قصور میں چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔ اسے بس اپنے علاقے میں اپنے گھر کا راستہ معلوم ہے، باقی نہ اسے کسی کا نمبر معلوم ہے نہ ہی پتہ۔
میں نے یہ تجویز بھی دی کہ پولیس اسٹیشن جا کر یہ معاملہ رپورٹ کر دیا جائے۔ لیکن پولیس سے ہر شریف آدمی گھبراتا ہے، اس خیال کو بھی عملی جامہ نہ پہنایا۔
خیر صاحب۔ ان خاتون کو گھر لے آئے۔ یہاں انہوں نے برقع اتارا تو اندر سے ایک بچی برآمد ہوئی۔ عمر یہی کوئی پندرہ سولہ برس۔ اب ہم نے ان سے نام پوچھا۔ جواب ملا، س۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں وغیرہ کے نام دریافت کیے گئے۔ انٹرنیٹ پر وہاں کا نقشہ کھول کر ان کے گھر کا محل وقوع وغیرہ معلوم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ فلاں مسجد کے قریب فلاں مارکیٹ ہے، اس مارکیٹ کے قریب ایک محلہ ہے۔ وہاں ان کا گھر ہے۔ ہمارے والد صاحب نے انٹر نیٹ پر ان کے علاقے کے کسی سرکاری دفتر کا نمبر تلاش کیا۔ وہاں کی میونسپلٹی کا نمبر ملا، فون کیا تو چوکیدار صاحب نے اٹھایا۔ مدعا بتایا تو انہوں نے مدد کا وعدہ کیا۔
غنیمت ہے کہ چھوٹے علاقوں میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ دس منٹ میں معلوم ہو گیا کہ فلاں صاحب کی صاحب زادی دوپہر سے لاپتہ ہیں۔ لیکن ان کا نام تو ن ہے۔ باقی تمام تفصیلات وہی۔ والد، چچا، ماموں، بھائیوں کے نام تک وہی، والد کی جائے سکونت بھی قصور۔ لیکن لاپتہ لڑکی کا نام ن، اور ہمارے پاس موجود لڑکی کا نام س۔
یا خدا یہ کیا معمہ ہے؟ چوتھا اور آخری حصہ

پہلا حصہ

دوسرا حصہ

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s